نیوز ڈیسک
بیجنگ: چین نے متنازع سرحدی علاقوں میں 28 مقامات کے نام تبدیل کرکے انہیں سرکاری نقشوں میں شامل کرنے کے بھارت کے فیصلے کو مسترد کر دیا ہے۔ بیجنگ نے اس اقدام کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مقامات کے نام تبدیل کرنے سے زمینی حقائق یا متنازع علاقوں پر خودمختاری کے دعوے تبدیل نہیں ہو سکتے۔
چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے بیجنگ میں پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ چین بھارت کے یکطرفہ اقدامات کو تسلیم نہیں کرتا۔ ان کا کہنا تھا کہ مقامات کے ناموں میں تبدیلی سے متنازع علاقوں کی حیثیت پر کوئی اثر نہیں پڑتا اور نہ ہی اس سے چین کے خودمختاری کے دعووں میں کوئی تبدیلی آتی ہے۔
چین کا یہ ردعمل بھارتی وزارت داخلہ کی جانب سے 28 مقامات کے نام تبدیل کرنے اور انہیں سرکاری نقشوں میں شامل کرنے کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔
بیجنگ کے مطابق، ان تبدیلیوں میں ایسے علاقے بھی شامل ہیں جو چین کے زیرِ کنٹرول ہیں، جبکہ بعض مقامات چین اور بھارت کے درمیان متنازع سرحد کے مغربی حصے میں واقع ہیں۔
ماؤ ننگ نے مؤقف اختیار کیا کہ متعلقہ علاقے تاریخی طور پر چین کا حصہ رہے ہیں اور یکطرفہ انتظامی اقدامات کے ذریعے ان پر خودمختاری قائم نہیں کی جا سکتی۔
لداخ سرحدی تنازع کا اہم مرکز
بھارت اور چین کے درمیان سرحدی تنازع کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ ہمالیہ میں واقع لداخ اس تنازع کا ایک اہم اور تزویراتی لحاظ سے حساس خطہ ہے، جہاں دونوں ممالک کے علاقائی دعوے ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد کے بعض حصوں پر اختلافات برقرار ہیں اور پوری سرحد کا باقاعدہ تعین نہیں ہو سکا۔ اسی وجہ سے متنازع علاقوں کی انتظامی حیثیت، علاقائی ملکیت اور نقشوں میں ان کی نمائندگی دونوں ملکوں کے لیے حساس معاملات ہیں۔
ماضی میں بھی متنازع مقامات کے نام تبدیل کرنے اور انہیں سرکاری نقشوں میں شامل کرنے جیسے اقدامات پر سفارتی اختلافات سامنے آتے رہے ہیں۔ دونوں ممالک ایسے معاملات کو اپنے اپنے علاقائی دعووں کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔
ناموں کی تبدیلی پر سفارتی کشیدگی
چین کے تازہ اعتراض سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرحدی تنازع صرف زمین پر کنٹرول تک محدود نہیں، بلکہ مقامات کے ناموں اور سرکاری نقشوں کی تیاری جیسے معاملات بھی اس کا حصہ ہیں۔
بھارت کی جانب سے مقامات کے نئے نام سرکاری نقشوں میں شامل کرنے کے فیصلے پر چین کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات متنازع علاقوں کی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتے۔ بیجنگ نے واضح کیا ہے کہ وہ اس اقدام کو تسلیم نہیں کرتا۔
تاہم، اس تازہ تنازع کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان مزید سفارتی اقدامات کیے جائیں گے یا نہیں، اس بارے میں فی الحال کوئی واضح صورت حال سامنے نہیں آئی۔
بھارت اور چین کے درمیان سرحدی اختلافات کے تناظر میں یہ پیش رفت ایک بار پھر ظاہر کرتی ہے کہ متنازع علاقوں سے متعلق انتظامی فیصلے اور نقشوں میں تبدیلیاں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھانے کا سبب بن سکتی ہیں
