نیوز ڈیسک
کراچی: پاکستانی اداکارہ دور فشاں سلیم کو ٹیلی ویژن ڈرامے کی ایک قسط نشر ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر اپنے وزن اور بازوؤں کی ظاہری ساخت کے حوالے سے تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
تنازع اس وقت شروع ہوا جب ڈرامے کے ایک منظر میں اداکارہ بغیر آستین کی شرٹ پہنے دکھائی دیں۔ اس منظر کے بعد بعض سوشل میڈیا صارفین نے ان کے بازوؤں، کندھوں اور جسمانی ساخت پر نامناسب تبصرے کیے، جبکہ کچھ افراد نے ان کی ظاہری شکل کا مذاق بھی اڑایا۔
معاملہ اس وقت مزید سنگین ہوگیا جب بعض صارفین نے مبینہ طور پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے اداکارہ کی تصاویر میں ردوبدل کیا۔ ان تصاویر میں ان کے بازوؤں کو غیر معمولی طور پر بڑا اور عضلاتی دکھایا گیا، جبکہ بعض صارفین نے ان کا موازنہ بین الاقوامی پیشہ ور پہلوانوں سے بھی کیا۔
اس واقعے نے سوشل میڈیا پر جسمانی ساخت کی بنیاد پر تضحیک، جسے انگریزی میں باڈی شیمنگ کہا جاتا ہے، اور مشہور شخصیات کی نجی و ظاہری زندگی پر غیر ضروری تنقید کے حوالے سے بحث چھیڑ دی ہے۔
ناقدین کے مطابق، اس طرح کے رویے میں کسی فنکار کی اداکاری اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے بجائے اس کی جسمانی ساخت کو تنقید اور مذاق کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے ذریعے تصاویر میں من پسند تبدیلیاں کرنا بھی اس مسئلے کو مزید بڑھا سکتا ہے، خصوصاً جب ایسی تصاویر کو کسی فرد کی تضحیک یا آن لائن ہراسانی کے لیے استعمال کیا جائے۔
اگرچہ شوبز شخصیات کو عوامی توجہ اور تنقید کا سامنا رہتا ہے، تاہم یہ واقعہ سوشل میڈیا صارفین کی ذمہ داری اور آن لائن اظہارِ رائے کی حدود سے متعلق اہم سوالات اٹھاتا ہے۔
دور فشاں سلیم کے حوالے سے سامنے آنے والا یہ تنازع اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر کسی کی ظاہری شکل کا مذاق اڑانا اور مصنوعی ذہانت سے تبدیل شدہ تصاویر پھیلانا کس طرح آن لائن تضحیک کا سبب بن سکتا ہے۔
