رکاوٹیں ہٹانے کا عمل شروع، اسلام آباد میں ٹریفک معمول پر آنے لگی

0

نیوز ڈیسک

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ٹریفک کی روانی بحال کرنے کے لیے اہم شاہراہوں اور داخلی راستوں پر نصب شپنگ کنٹینرز ہٹانے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مجوزہ لانگ مارچ کے پیش نظر تقریباً 25 روز قبل لگائی گئی ان رکاوٹوں کو ہٹانے کے لیے کرینیں اور لفٹرز مختلف مقامات پر تعینات کر دیے گئے ہیں۔

انسپکٹر جنرل پولیس اسلام آباد سہیل چوہدری نے متعلقہ حکام کو شہر کی اہم شاہراہوں اور راستوں سے کنٹینرز ہٹانے کی ہدایت کی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ شام تک سڑکوں سے تمام کنٹینرز ہٹا دیے جائیں۔ تھانوں کے باہر موجود کنٹینرز کو ضروری دستاویزات کی تکمیل کے بعد ان کے مالکان کے حوالے کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

کنٹینرز ہٹانے کا آغاز کانسٹی ٹیوشن ایونیو، جسے شاہراہ دستور بھی کہا جاتا ہے، سے کیا گیا، جس کے بعد یہ کارروائی دارالحکومت کے دیگر علاقوں تک پھیلائی جا رہی ہے۔ تاہم ریڈ زون میں حفاظتی انتظامات برقرار ہیں اور وہاں کنٹینرز تاحال موجود ہیں۔

سڑکوں کی طویل بندش کے باعث شہریوں کو روزمرہ آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ دارالحکومت آنے اور یہاں سے دوسرے علاقوں کی طرف جانے والے مسافر بھی متاثر ہوئے۔ سیکیورٹی انتظامات کے دوران موبائل فون سروس کی معطلی کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک بیان میں کنٹینرز ہٹانے کے عمل کی تصدیق کی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس اقدام سے شہریوں کی مشکلات کم ہوں گی اور معمولات زندگی کی بحالی میں مدد ملے گی۔

پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے پیش نظر سخت سیکیورٹی انتظامات

پی ٹی آئی کی جانب سے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کے اعلان کے بعد وفاقی دارالحکومت کے اہم داخلی راستوں، شاہراہوں اور حساس مقامات پر کنٹینرز رکھے گئے تھے۔ پارٹی نے ابتدائی طور پر مارچ کے لیے 27 ستمبر کی تاریخ مقرر کی تھی، تاہم حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے لیے اسے بعد ازاں 4 اکتوبر تک ملتوی کر دیا گیا۔

اس دوران وفاقی حکومت نے اسلام آباد میں سیکیورٹی انتظامات سخت کرتے ہوئے متعدد راستوں کو بند کر دیا تھا تاکہ ممکنہ احتجاج کے دوران امن و امان برقرار رکھا جا سکے۔

حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مجوزہ مارچ، پارٹی کے سیاسی مطالبات اور بانی پی ٹی آئی عمران خان تک رسائی سمیت مختلف معاملات پر مذاکرات جاری رہے، تاہم کوئی نمایاں پیش رفت نہ ہو سکی۔ اس کے باوجود پی ٹی آئی نے اپنے احتجاجی منصوبے برقرار رکھے۔

سیاسی کشیدگی میں اضافے کے بعد حکومتی عہدیداروں نے صورتحال کو قابو میں رکھنے اور خیبر پختونخوا کی صوبائی انتظامیہ کے ساتھ رابطے بڑھانے کی کوششیں بھی کیں۔ تاہم احتجاج، سیکیورٹی اور صوبائی معاملات پر اختلافات برقرار رہے۔

خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا معاملہ

سیاسی کشیدگی کے دوران وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کے فیصلے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ فراہم کردہ متن کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے آئین کے آرٹیکلز 232(1) اور 234(1) کے تحت اس اقدام کی منظوری دی، جبکہ عسکریت پسندی اور صوبائی حکومت کے ردعمل سے متعلق خدشات کو اس فیصلے کی وجوہات قرار دیا گیا۔

مجوزہ انتظامات کے تحت گورنر کو 11 رکنی مشاورتی کونسل کی معاونت سے صوبے کے انتظامی امور چلانے کی ذمہ داری سونپنے کا ذکر کیا گیا۔ کونسل میں طارق محمود پاشا، ڈاکٹر عامر عبداللہ، لیفٹیننٹ جنرل (ر) نگار جوہر، ثمر بلور، ڈاکٹر سرفراز علی، عامر جاوید، ڈاکٹر ایم ارشاد، کفایت اللہ، طیب قریشی، عثمان سیف اللہ خان اور آصف رفیق کے نام شامل ہیں۔

وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ سے منسوب بیان کے مطابق گورنر راج کے تحت وزیراعلیٰ، صوبائی کابینہ اور مشیروں کے اختیارات گورنر کو منتقل کیے جانے کا ذکر کیا گیا۔ اس کے علاوہ 12 اضلاع میں انتظامی امور کی نگرانی کے لیے گورنر اور چیف سیکریٹری کے ماتحت الگ سیکریٹریٹ قائم کرنے کا بھی بتایا گیا۔

صوبے میں سول انتظامیہ کی معاونت اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت فوج کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کیے جانے کی بھی اطلاع دی گئی۔

ان اقدامات پر پی ٹی آئی کے صوبائی رہنماؤں نے مخالفت کا اظہار کیا، جبکہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سمیت بعض رہنماؤں کو حراست میں لیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ وفاقی حکومت نے اپنے فیصلے کا دفاع سیکیورٹی خدشات کی بنیاد پر کیا۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بھی ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو مذاکراتی عمل کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے سیاسی تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا۔ ان کی جماعت نے سیاسی اور جمہوری طریقوں سے اپنا مؤقف پیش کرنے کا عندیہ دیا۔

شہریوں کو ریلیف ملنے کی توقع

اسلام آباد کی اہم شاہراہوں سے کنٹینرز ہٹانے کا عمل کئی ہفتوں سے جاری سفری مشکلات کم کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ رکاوٹیں ختم ہونے سے شہریوں، مسافروں اور ٹرانسپورٹ سے وابستہ افراد کو ریلیف ملنے کی توقع ہے۔

تاہم ریڈ زون میں حفاظتی انتظامات برقرار رہنے کے باعث دارالحکومت کے تمام علاقوں میں ٹریفک کی مکمل بحالی مرحلہ وار متوقع ہے۔ شہریوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ سفر سے قبل متعلقہ حکام کی جانب سے جاری کردہ ٹریفک ایڈوائزری سے آگاہ رہیں.

Leave A Reply

Your email address will not be published.