نیوز ڈیسک
گوا: معروف بھارتی اداکار نانا پاٹیکر کی موت کی وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں سامنے آ گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ان کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی، جس کی وجہ دل کی ایک بڑی شریان میں خون کے لوتھڑے کے باعث پیدا ہونے والی رکاوٹ تھی۔
75 سالہ اداکار کو بچانے کے لیے ڈاکٹروں نے تقریباً 45 منٹ تک کارڈیو پلمونری ریسیسی ٹیشن (سی پی آر) کے ذریعے کوششیں کیں، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔
بھارتی خبر رساں ادارے ’انڈیا ٹوڈے‘ کے مطابق، گوا میڈیکل کالج اینڈ ہسپتال کے ایک سینئر ڈاکٹر نے اتوار کو تصدیق کی کہ پوسٹ مارٹم میں دل کی بائیں بڑی شریان (لیفٹ مین کورونری آرٹری) میں رکاوٹ کو موت کی وجہ قرار دیا گیا ہے۔
یہ شریان دل کے ایک بڑے حصے کو خون فراہم کرتی ہے۔ اس میں رکاوٹ خون کی فراہمی متاثر کر سکتی ہے اور جان لیوا ہارٹ اٹیک کا سبب بن سکتی ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ایتھروسکلروسیس کی بھی نشاندہی کی گئی، جس میں شریانوں کی اندرونی دیواروں پر چربی اور دیگر مادے جمع ہونے سے شریانیں تنگ ہو جاتی ہیں۔ ڈاکٹروں نے موت کو قدرتی قرار دیا۔
نانا پاٹیکر کی طبیعت اچانک کیسے بگڑی؟
نانا پاٹیکر کو 8 اکتوبر کی صبح طبیعت خراب ہونے پر گوا کے علاقے ڈونا پاؤلا میں واقع ان کی رہائش گاہ سے ایک نجی ہسپتال منتقل کیا گیا۔ ہسپتال حکام کے مطابق، ان کے کیئر ٹیکر نے ہنگامی طبی امداد کے لیے ایمبولینس طلب کی تھی۔
ان کی رہائش گاہ ہسپتال سے ایک کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر تھی۔ ہسپتال پہنچنے پر طبی عملے نے فوری طور پر انہیں بچانے کی کوششیں شروع کر دیں، تاہم تقریباً 45 منٹ تک سی پی آر دینے کے باوجود ان کی حالت بحال نہ ہو سکی۔ انہیں صبح 5 بج کر 10 منٹ پر مردہ قرار دے دیا گیا۔
پوسٹ مارٹم کے نتائج کے مطابق، دل کی ایک بڑی شریان میں خون کا لوتھڑا جان لیوا ہارٹ اٹیک کا سبب بنا، تاہم رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ لوتھڑا کب بنا تھا۔
نانا پاٹیکر کی آخری رسومات ادا
پوسٹ مارٹم کے بعد نانا پاٹیکر کی میت گوا سے پونے منتقل کی گئی۔ بعد ازاں میت کو کھڑک واسلا کے قریب ڈونجے گاؤں میں واقع ان کے خاندانی فارم ہاؤس لے جایا گیا، جہاں 8 اکتوبر کی رات مکمل ریاستی اعزاز کے ساتھ آخری رسومات ادا کی گئیں۔
ان کے بیٹے ملہار پاٹیکر اپنے والد کی میت وصول کرنے کے لیے گوا پہنچے تھے۔ اسی رات آخری رسومات ادا کرنے کے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے ملہار نے بتایا کہ صبح پیش آنے والے افسوس ناک واقعے کے بعد خاندان نے اسی رات رسومات ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔
ملہار پاٹیکر نے اپنے والد کی فلاحی سرگرمیاں جاری رکھنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔ نانا پاٹیکر سے وابستہ ’نام فاؤنڈیشن‘ پانی کے تحفظ، تعلیم اور صحت کی سہولتوں سمیت مختلف شعبوں میں کام کرتی ہے۔
آخری رسومات میں سیاسی اور فلمی شخصیات کی شرکت
نانا پاٹیکر کی آخری رسومات میں متعدد سیاسی رہنماؤں اور فلمی شخصیات نے شرکت کی۔ شرکاء میں مہاراشٹر کے نائب وزرائے اعلیٰ، مرکزی وزراء رام داس اٹھاولے اور مرلی دھر موہول، لوک سبھا کے رکن سنیل ٹٹکرے اور مہاراشٹر کے وزیر چندرکانت پاٹل شامل تھے۔
فلمی صنعت سے جیکی شروف، پروین ٹارڈے، فلم ساز ساجد ناڈیاڈوالا اور ہدایت کار انیل شرما سمیت دیگر شخصیات نے بھی شرکت کرکے اداکار کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اداکار اور نام فاؤنڈیشن کے شریک بانی مکرند اناسپورے بھی اس موقع پر موجود تھے۔
نانا پاٹیکر کا فلمی ورثہ
نانا پاٹیکر نے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز 1978 میں فلم ’گمن‘ سے کیا، جبکہ اس سے قبل وہ مراٹھی تھیٹر میں بھی کام کر چکے تھے۔ کئی دہائیوں پر محیط اپنے کیریئر میں انہوں نے ہندی اور مراٹھی سنیما میں ایک ورسٹائل اداکار کے طور پر اپنی پہچان بنائی۔
وہ اپنے جذباتی اور ڈرامائی کرداروں، منفی کرداروں اور مزاحیہ اداکاری کے باعث خاصے مقبول ہوئے۔ ان کے فلمی کام میں ’دی ویکسین وار‘، ’ونواس‘، ’ہاؤس فل 5‘ اور ’اوہ رومیو‘ جیسی فلمیں شامل ہیں۔
ہندوستانی سنیما کے لیے ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں تین نیشنل فلم ایوارڈز، متعدد فلم فیئر ایوارڈز اور ملک کے اعلیٰ شہری اعزازات میں شامل پدم شری سے نوازا گیا۔
ان کے انتقال پر سیاسی رہنماؤں، فلمی ساتھیوں اور مداحوں نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق، دل کی بڑی شریان میں رکاوٹ کے باعث ہونے والا ہارٹ اٹیک ان کی موت کی فوری طبی وجہ تھا۔
