کیا 2027 دنیا کا گرم ترین سال ثابت ہوسکتا ہے؟

0

نیوز ڈیسک

بحرالکاہل کے اہم حصے میں سمندر کی سطح کا درجہ حرارت ستمبر کے دوران 29.70 ڈگری سینٹی گریڈ کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گیا، جس کے بعد ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ال نینو اور موسمیاتی تبدیلی کے مشترکہ اثرات کے باعث 2027 میں بھی عالمی درجہ حرارت کے نئے ریکارڈ قائم ہوسکتے ہیں۔

خبر رساں ادارے کے مطابق یورپی یونین کی موسمیاتی نگرانی کی سروس کوپرنیکس نے بتایا کہ بحرالکاہل کے استوائی خطے میں واقع نینو 3.4 کے حصے میں ریکارڈ کیا گیا درجہ حرارت 1982-83، 1997-98 اور 2015-16 کے طاقتور ال نینو ادوار میں سامنے آنے والی بلند ترین سطحوں سے بھی تجاوز کرگیا ہے۔

کوپرنیکس کے ڈائریکٹر کارلو بونتیمپو کے مطابق رواں سال جون میں سامنے آنے والا ال نینو غیر معمولی شدت کا حامل ہے، تاہم فی الحال اسے تاریخ کا سب سے طاقتور ال نینو قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔

انہوں نے وضاحت کی کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث سمندروں کا درجہ حرارت پہلے ہی مسلسل بڑھ رہا ہے، جس کی وجہ سے موجودہ ال نینو کی شدت کا ماضی کے واقعات سے موازنہ کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ کوپرنیکس کے مطابق ایک نئے پیمانے کے تحت جائزے میں موجودہ ال نینو اب تک سابقہ واقعات سے زیادہ طاقتور ثابت نہیں ہوا، تاہم اس کی شدت نمایاں ہے۔

گرمی کے نئے ریکارڈ کا امکان

ماہرین کے مطابق ال نینو کے اثرات اکثر اس کے عروج کے بعد اگلے سال عالمی درجہ حرارت میں زیادہ نمایاں ہوتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ بحرالکاہل میں جمع ہونے والی حرارت کا فضا میں منتقل ہونا ہے، جس سے دنیا کے مختلف حصوں میں درجہ حرارت بڑھ سکتا ہے۔

ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی رجحان ہے جو عموماً ہر دو سے سات سال کے دوران سامنے آتا ہے اور تقریباً 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہ سکتا ہے۔

کارلو بونتیمپو کا کہنا ہے کہ ماضی کے موسمیاتی رجحانات کی روشنی میں امکان ہے کہ 2026 کے بعد 2027 بھی عالمی درجہ حرارت کے نئے ریکارڈ قائم کرنے والا سال ثابت ہو۔ تاہم اس کا انحصار ال نینو کی آئندہ شدت اور دیگر موسمیاتی عوامل پر ہوگا۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ال نینو اور انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں ہونے والی عالمی حدت کا امتزاج شدید گرمی، خشک سالی اور سیلاب سمیت مختلف موسمیاتی خطرات میں اضافہ کرسکتا ہے۔

ال نینو کیا ہے اور عالمی درجہ حرارت پر اس کے کیا اثرات ہیں؟

ال نینو بحرالکاہل کے استوائی حصے میں سمندر کی سطح کے درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے کا قدرتی موسمیاتی رجحان ہے۔ اس کے اثرات دنیا بھر کے موسمی نظام پر مرتب ہوتے ہیں، جس کے نتیجے میں بعض علاقوں میں خشک سالی جبکہ دیگر خطوں میں شدید بارشوں اور سیلاب کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

یہ رجحان پہلے سے جاری عالمی حدت کے اثرات کو مزید شدت دے سکتا ہے، جس سے درجہ حرارت میں اضافے اور شدید موسمی واقعات کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

کوپرنیکس کے مطابق ستمبر میں دنیا بھر میں سمندر کی سطح کا اوسط درجہ حرارت 21.05 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جو ستمبر 2023 میں قائم ہونے والے 20.92 ڈگری سینٹی گریڈ کے سابقہ ریکارڈ سے زیادہ ہے۔

اسی طرح اگست میں ریکارڈ گرمی کے بعد ستمبر بھی عالمی سطح پر اب تک کا دوسرا گرم ترین ستمبر رہا۔ اس دوران سطح زمین کے قریب ہوا کا اوسط درجہ حرارت 16.27 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔

موسمیاتی ماہرین کے مطابق سمندروں اور فضا کے درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ قدرتی موسمیاتی رجحانات اور انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی عالمی حدت مل کر مستقبل میں گرمی کی شدت اور موسمیاتی خطرات کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.