انگلینڈ کی بیٹنگ تباہ کرنے والے پاکستانی اسپنرعرفات منہاس کون ہیں؟ 

0

نیوز ڈیسک

راولپنڈی: پاکستان کے نوجوان بائیں ہاتھ کے اسپنر عرفات منہاس نے انگلینڈ کے خلاف شاندار بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا۔ 

سہ فریقی ون ڈے سیریز کے دوسرے میچ میں ان کی تباہ کن بولنگ نے انگلش بیٹنگ لائن اپ کو مشکلات سے دوچار کر دیا اور پاکستان کو 303 رنز کے ہدف کا کامیابی سے دفاع کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

عرفات منہاس نے 8.4 اوورز میں 40 رنز دے کر 6 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ ایک کھلاڑی کو رن آؤٹ کرنے میں بھی کردار ادا کیا۔ ان کی عمدہ کارکردگی نے اس وقت میچ کا رخ بدل دیا جب انگلینڈ ہدف کے تعاقب میں مضبوط پوزیشن میں دکھائی دے رہا تھا۔

اچھی شروعات کے بعد انگلینڈ کی بیٹنگ مشکلات کا شکار

303 رنز کے ہدف کے تعاقب میں انگلینڈ نے پراعتماد آغاز کیا۔ اوپنرز ٹام بینٹن اور بین ڈکٹ نے پہلی وکٹ کے لیے 91 رنز کی شراکت قائم کی، جس سے مہمان ٹیم کی پوزیشن مستحکم دکھائی دینے لگی۔

پاکستان کو پہلی اہم کامیابی فاسٹ بولر حارث رؤف نے دلائی، جنہوں نے بین ڈکٹ کو 45 رنز پر آؤٹ کیا۔ اس کے بعد عرفات منہاس نے اپنی اسپن بولنگ سے انگلش بلے بازوں کو قابو کرنا شروع کیا اور وقفے وقفے سے وکٹیں حاصل کرتے ہوئے پاکستان کو میچ میں واپس لے آئے۔

انگلینڈ کی جانب سے ٹام بینٹن 57 رنز بنا کر نمایاں رہے، جبکہ جو روٹ نے 33، سیم کرن نے 27، ول جیکس نے 19 اور جارڈن کاکس نے 18 رنز بنائے۔ بین ڈکٹ کی 45 رنز کی اننگز بھی انگلینڈ کو فتح کے قریب لے جانے کے لیے کافی ثابت نہ ہوئی۔

عرفات منہاس کون ہیں؟

عرفات منہاس پاکستان کے بائیں ہاتھ سے اسپن بولنگ کرنے والے کرکٹر ہیں، جنہوں نے انگلینڈ کے خلاف اس میچ میں اپنی کارکردگی سے توجہ حاصل کی۔ محدود اوورز کی کرکٹ میں اسپن بولرز کا کردار خاص اہمیت رکھتا ہے، خصوصاً ایسے مواقع پر جب حریف ٹیم ہدف کے تعاقب میں اچھی شروعات کر چکی ہو۔

انگلینڈ کے خلاف عرفات کی کارکردگی اس لیے بھی اہم رہی کہ انہوں نے مضبوط شراکت داری کے بعد مخالف ٹیم کی بیٹنگ کو دباؤ میں لانے میں کامیابی حاصل کی۔ ان کی جانب سے 6 وکٹوں کا حصول پاکستان کے لیے میچ کا فیصلہ کن پہلو ثابت ہوا۔

یہ کارکردگی نوجوان پاکستانی کھلاڑیوں کی صلاحیتوں اور قومی ٹیم کے بولنگ وسائل کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ تاہم، عرفات کے کیریئر، فرسٹ کلاس ریکارڈ اور بین الاقوامی ڈیبیو سے متعلق تفصیلات کی تصدیق کے بعد ان کے کرکٹ سفر پر مزید جامع روشنی ڈالی جا سکتی ہے۔

ٹاس جیت کر انگلینڈ کا پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ

راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ میں انگلینڈ کے کپتان ہیری بروک نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا تھا۔ بروک نے سہ فریقی سیریز کو ایک مختلف چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ انگلینڈ پاکستان کو ایسے مجموعے تک محدود رکھنے کی کوشش کرے گا جس کا تعاقب آسان ہو۔ انہوں نے لیگ اسپنر عادل رشید کی پلیئنگ الیون میں شمولیت کی بھی تصدیق کی۔

پاکستانی کپتان شاہین شاہ آفریدی نے کہا کہ ان کی ٹیم پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے بڑا اسکور بنانے کی کوشش کرے گی۔ انہوں نے گزشتہ میچ میں بولنگ کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا اور سلمان علی آغا کی اننگز کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے بلے باز کے اعتماد میں اضافہ ہوگا۔ پاکستان نے اپنی پلیئنگ الیون میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔

پاکستان کی ٹیم میں شاہین شاہ آفریدی (کپتان)، فخر زمان، صائم ایوب، بابر اعظم، سعد بیگ، حسن نواز، سلمان علی آغا، عرفات منہاس، فہیم اشرف، نسیم شاہ اور حارث رؤف شامل تھے۔

انگلینڈ کی نمائندگی ہیری بروک (کپتان)، ٹام بینٹن، بین ڈکٹ، جو روٹ، جارڈن کاکس، سیم کرن، ول جیکس، جیمی اوورٹن، گس اٹکنسن، عادل رشید اور سونی بیکر نے کی۔

سہ فریقی سیریز میں پاکستان کی پوزیشن

پاکستان نے 18 اکتوبر کو سیریز کے افتتاحی میچ میں سری لنکا کو 37 رنز سے شکست دی تھی، جس کے بعد ٹیم انگلینڈ کے خلاف میچ میں بلند حوصلے کے ساتھ اتری۔ دوسری جانب انگلینڈ نے پاکستان کے خلاف مقابلے سے اپنی مہم کا آغاز کیا۔

پاکستان، انگلینڈ اور سری لنکا پر مشتمل سہ فریقی ون ڈے سیریز کے میچ راولپنڈی اور لاہور میں کھیلے جا رہے ہیں۔ شیڈول کے مطابق انگلینڈ 22 اکتوبر کو راولپنڈی میں سری لنکا کے مدمقابل ہوگا، جبکہ پاکستان 25 اکتوبر کو لاہور میں انگلینڈ اور 27 اکتوبر کو سری لنکا کے خلاف کھیلے گا۔ انگلینڈ اور سری لنکا کا اگلا مقابلہ 29 اکتوبر کو ہوگا، جبکہ فائنل 31 اکتوبر کو لاہور میں شیڈول ہے۔

ابتدائی مرحلے میں ہر ٹیم دوسری دونوں ٹیموں کے خلاف دو، دو میچ کھیلے گی اور پوائنٹس ٹیبل پر سرفہرست دو ٹیمیں فائنل کے لیے کوالیفائی کریں گی۔

پاکستان اور انگلینڈ کے ون ڈے مقابلوں کا پس منظر

فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان اور انگلینڈ اب تک 92 ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں آمنے سامنے آئے ہیں۔ ان میں انگلینڈ نے 57 اور پاکستان نے 32 میچ جیتے، جبکہ تین مقابلوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ دونوں ٹیموں کے درمیان گزشتہ پانچ ون ڈے میچوں میں انگلینڈ نے چار اور پاکستان نے ایک کامیابی حاصل کی۔

راولپنڈی میں ہونے والا یہ مقابلہ پاکستانی سرزمین پر دونوں ٹیموں کے درمیان طویل عرصے بعد ون ڈے کرکٹ کی واپسی کے حوالے سے بھی اہم قرار دیا گیا۔ میچ سے قبل جاری ہونے والی آئی سی سی ون ڈے رینکنگ میں انگلینڈ چوتھے اور پاکستان پانچویں نمبر پر تھا۔

انگلینڈسری لنکا کے خلاف ون ڈے سیریز 2-1 سے جیت کر پاکستان پہنچا تھا، جبکہ پاکستان اپنی گزشتہ تین ہوم ون ڈے سیریز میں ناقابلِ شکست رہنے کے ریکارڈ کے ساتھ میدان میں اترا۔ راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں بھی میزبان ٹیم کا ریکارڈ حوصلہ افزا رہا تھا۔

ان حالات میں عرفات منہاس کی شاندار بولنگ نے پاکستان کی مہم کو مزید تقویت دی اور یہ واضح کیا کہ دباؤ کے لمحات میں ایک مؤثر اسپن بولر کس طرح میچ کا رخ تبدیل کر سکتا ہے۔ انگلینڈ کے خلاف ان کی چھ وکٹوں کی کارکردگی اس مقابلے کا نمایاں ترین پہلو بن کر سامنے آئی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.