بریڈ فورڈ: جی 7 سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس امید کا اظہار کیا کہ امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے لیے امن معاہدے پر جمعہ کے روز جنیوا میں باضابطہ دستخط کر دیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے تحت ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا، جبکہ آبنائے ہرمز کو بھی کھول دیا جائے گا۔ ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر تنقید کرتے ہوئے مجوزہ معاہدے کو اپنے تقریباً تمام اہداف کی تکمیل قرار دیا۔
کئی ماہ سے عالمی شہ سرخیوں میں رہنے والا یہ معاہدہ اب پہلے سے کہیں زیادہ تکمیل کے قریب دکھائی دیتا ہے، اور اطلاعات کے مطابق پاکستان اس عمل میں اہم ثالثی کردار ادا کر رہا ہے۔ اگر یہ کوششیں کامیاب ہوئیں تو اسلام آباد کی سفارتی کاوشیں یقیناً عالمی سطح پر قابلِ تحسین سمجھی جائیں گی۔
تاہم، ٹرمپ کی غیر متوقع طرزِ سیاست اور اسرائیل کے تحفظات کے باعث حتمی نتیجہ اب بھی غیر یقینی دکھائی دیتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیل کو خدشہ ہے کہ اس کے سلامتی سے متعلق بنیادی مقاصد، خصوصاً حماس اور حزب اللہ کے حوالے سے، ابھی مکمل طور پر حل نہیں ہوئے۔
اگرچہ ٹرمپ پُرامید ہیں کہ مذاکرات کا اگلا مرحلہ طے شدہ شیڈول کے مطابق آگے بڑھے گا، لیکن چین نے اس معاملے پر نسبتاً محتاط مؤقف اختیار کیا ہے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ساتھ ایک مبینہ گفتگو میں چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے خبردار کیا کہ آئندہ مذاکرات زیادہ پیچیدہ ثابت ہو سکتے ہیں، اور اس بات پر زور دیا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو زیادہ فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔
انہوں نے موجودہ مفاہمت کو خطے میں دیرپا امن کی جانب ایک طویل سفارتی عمل کا ابتدائی مرحلہ قرار دیا۔
بلاشبہ، ممکنہ امریکا-ایران معاہدہ ایک ایسے تنازع کے خاتمے کی امید پیدا کرتا ہے جس نے پورے خطے میں شدید عدم استحکام اور انسانی مشکلات کو جنم دیا ہے۔
اس صورتحال میں سفارت کاری ہی آگے بڑھنے کا بہترین راستہ دکھائی دیتی ہے۔ تاہم، کسی بھی معاہدے کی پائیداری اب بھی سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔ لبنان میں اسرائیل کی جاری کارروائیوں اور مستقبل میں ممکنہ کشیدگی روکنے سے متعلق ضمانتوں جیسے اہم معاملات ابھی مکمل طور پر حل طلب ہیں۔
تمام فریقین کے وعدوں کی ساکھ پر موجود شکوک و شبہات کے باوجود، یہ مجوزہ معاہدہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور مزید تباہی روکنے کے لیے ایک نادر موقع فراہم کرتا ہے۔
امید کی جانی چاہیے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا حد سے زیادہ خود اعتمادی پر مبنی اندازِ سیاست خطے میں دیرپا امن کے لیے جاری حقیقی سفارتی کوششوں کو متاثر نہیں کرے گا۔
