جے اے سی نے تاریخی ایونگ ہال کے مبینہ حکومتی قبضے پر تشویش کا اظہار

نیوز ڈیسک

0

لاہور
جوائنٹ ایکشن کمیٹی برائے عوامی حقوق (جے اے سی) نے ایونگ ہال کے مبینہ حکومتی قبضے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک ایسا معاملہ قرار دیا ہے جس پر تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان فوری مشاورت ضروری ہے۔

اپنے بیان میں جے اے سی نے کہا کہ ایونگ ہل 1916 سے فارمن کرسچن کالج یونیورسٹی (FCCU) کے ساتھ لیز معاہدے کے تحت منسلک ہے، جو ان کے مطابق 2048 تک مؤثر ہے۔ کمیٹی کے مطابق یہ عمارت تاریخی طور پر تعلیمی مقاصد کے لیے استعمال ہوتی رہی ہے، جس میں ایف سی سی یو اور کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کے طلبہ کے لیے ہاسٹل سہولت بھی شامل رہی ہے۔
کمیٹی نے پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ تعلیم اور ورثے کے تحفظ کے حوالے سے اپنے وعدوں کا احترام کرے اور ایونگ ہال کے مستقبل کے استعمال کے حوالے سے ایف سی سی یو کے ساتھ باضابطہ مشاورت کرے۔
نیلا گنبد کے قریب واقع ایونگ ہال 1916 میں تعمیر کیا گیا تھا اور اسے لاہور کے تعلیمی و تعمیراتی ورثے کی ایک اہم مثال قرار دیا جاتا ہے۔ یہ عمارت کئی دہائیوں تک مختلف تعلیمی اداروں کے طلبہ کے لیے ہاسٹل کے طور پر استعمال ہوتی رہی۔
جے اے سی نے پنجاب حکومت کی جانب سے اس یقین دہانی کا خیر مقدم کیا کہ عمارت کو محفوظ رکھا جائے گا اور اسے مسمار نہیں کیا جائے گا، تاہم اس نے کہا کہ ورثے کا تحفظ صرف عمارت تک محدود نہیں بلکہ اس کے تعلیمی اور سماجی کردار کو بھی شامل ہونا چاہیے۔
کمیٹی کے مطابق ایف سی سی یو نے 2018 میں سیکیورٹی خدشات کے باعث ایونگ ہال کو بطور ہاسٹل بند کیا تھا، جس کے بعد تکنیکی جائزے اور بحالی کے اقدامات پر مشاورت جاری رہی۔
جے اے سی نے مطالبہ کیا کہ عمارت سے متعلق مزید کسی بھی اقدام کو روکا جائے اور تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ شفاف مذاکرات شروع کیے جائیں، تاکہ ایونگ ہال کو اس کی تاریخی حیثیت کے ساتھ دوبارہ تعلیمی اور رہائشی مقصد کے لیے فعال بنایا جا سکے۔
پنجاب حکومت اور ایف سی سی یو کی جانب سے اس معاملے پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.