بریڈ فورڈ
آزاد جموں و کشمیر میں سیاسی کشیدگی شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں جاری بدامنی کے دوران مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں کم از کم 15 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں، جن میں عام شہریوں کے ساتھ چار سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق یہ احتجاجی تحریک جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کی قیادت میں جاری ہے، جس کے باعث خطے میں صورتحال مزید کشیدہ ہوتی جا رہی ہے۔
اگرچہ حالیہ ہفتوں میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، تاہم اس تحریک کی ابتدا 2023 میں اس وقت ہوئی تھی جب عوام نے بجلی کی بڑھتی قیمتوں، گندم کی قلت اور معاشی دباؤ کے خلاف احتجاج شروع کیا تھا۔
موجودہ بحران کا مرکزی نکتہ آزاد جموں و کشمیر کی 45 رکنی قانون ساز اسمبلی میں 12 مخصوص نشستیں ہیں، جو 1947 کی تقسیم کے بعد بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے ہجرت کرنے والے افراد اور ان کی اولادوں کے لیے مختص ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ نشستیں نمائندگی کے توازن پر سوالات اٹھاتی ہیں، جبکہ حکومتی موقف ہے کہ یہ انتظام مہاجر کشمیریوں کے لیے آئینی تحفظ اور تاریخی حق کی عکاسی کرتا ہے۔
حکام نے رواں ماہ کے آغاز میں JAAC کو انسداد دہشت گردی قوانین کے تحت نامزد کیا ہے، جبکہ سپریم کورٹ آف آزاد جموں و کشمیر نے مخصوص نشستوں کی آئینی حیثیت کو برقرار رکھا ہے۔
سخت سکیورٹی اقدامات کے باوجود مظاہرین نے مظفرآباد کی جانب مارچ جاری رکھا ہوا ہے۔ کئی علاقوں میں چیک پوسٹس قائم ہیں، انٹرنیٹ اور مواصلاتی نظام متاثر ہوا ہے، جبکہ تعلیمی ادارے بھی عارضی طور پر بند ہیں۔
JAAC کے 38 نکاتی چارٹر میں بجلی کے نرخوں میں کمی، آٹے پر سبسڈی، عوامی خدمات میں بہتری، مقدمات کی واپسی، روزگار کے مواقع اور حکومتی مراعات میں شفافیت جیسے مطالبات شامل ہیں۔
مئی 2024 کے احتجاج کے بعد کچھ حکومتی رعایتیں دی گئی تھیں، تاہم نمائندگی، گورننس اور معاشی مسائل پر تنازع برقرار رہا، جس کے باعث موجودہ تحریک دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انٹرنیٹ بندش، گرفتاریوں اور طاقت کے استعمال پر سوالات اٹھائے ہیں۔
مذاکراتی کوششوں کے باوجود بحران کے حل میں پیش رفت محدود رہی ہے، جبکہ فریقین ایک دوسرے پر وعدوں کی عدم تکمیل کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ عوامی تحریکوں کے دیرپا حل کے لیے بروقت مذاکرات اور اعتماد سازی ناگزیر ہے، بصورت دیگر سیاسی عدم استحکام مزید گہرا ہو سکتا ہے۔
