لندن: برطانیہ کے وزیراعظم سر کیئر سٹارمر نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا باضابطہ اعلان کر دیا، جسے برطانوی سیاست میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سٹارمر نے بتایا کہ انہوں نے اپنے استعفے کے فیصلے سے متعلق برطانوی بادشاہ کو دن کے اوائل میں آگاہ کر دیا تھا۔
برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم کو گزشتہ کچھ عرصے سے اپنی ہی جماعت، لیبر پارٹی، کے اندر بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا تھا، جس کے بعد انہوں نے عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔
اپنے الوداعی خطاب میں سٹارمر نے گزشتہ دو برسوں کے دوران اپنی حکومت کی کارکردگی کا دفاع کیا اور ملک کو درپیش چیلنجز پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا، “جب میں نے دو سال قبل وزیراعظم کا منصب سنبھالا تو میرا عزم قوم کی خدمت کرنا تھا، اور اس پورے عرصے میں برطانوی عوام کی فلاح و بہبود اور خوشحالی میری اولین ترجیح رہی۔”
سٹارمر نے اپنے دورِ حکومت میں پیش آنے والی مشکلات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا، “مجھے میری اپنی جماعت کے ارکان کی جانب سے بارہا بتایا گیا کہ ہماری سیاسی تحریک کمزور پڑ رہی ہے، تاہم ان چیلنجز کے باوجود ہم نے دو سال کے دوران ملک کی معیشت اور مالیاتی نظام کو مستحکم بنانے میں اہم پیش رفت کی۔”
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قومی سطح پر حقیقی اور دیرپا تبدیلی ایک دن میں نہیں آتی بلکہ اس کے لیے وقت، مستقل مزاجی اور استقامت درکار ہوتی ہے۔
سبکدوش ہونے والے وزیراعظم نے اپنی حکومت کی جانب سے اتحادی اور دوست ممالک کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کی کوششوں کا بھی ذکر کیا اور اپنے جانشین کے ساتھ مکمل تعاون کا وعدہ کیا۔
سٹارمر کے استعفے کے بعد نئے وزیراعظم کے انتخاب کا عمل شروع ہو گیا ہے۔
برطانوی اخبار دی گارڈین کی ایک رپورٹ کے مطابق اینڈی برنہم اس عہدے کے لیے مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آئے ہیں اور انہیں مبینہ طور پر تقریباً 300 ارکانِ پارلیمان کی حمایت حاصل ہے، جس کے باعث ان کے اگلے وزیراعظم بننے کے امکانات روشن تصور کیے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب دی ٹیلی گراف نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اگر برنہم وزیراعظم منتخب ہو جاتے ہیں تو موجودہ جسٹس سیکرٹری شبانہ محمود نئی حکومت میں بھی اپنا عہدہ برقرار رکھ سکتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق شبانہ محمود برطانیہ کے امیگریشن نظام میں وسیع اصلاحات کی حامی ہیں اور غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کی خواہاں ہیں۔
برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ نئی حکومت شہریت اور امیگریشن سے متعلق نسبتاً سخت پالیسیاں اختیار کر سکتی ہے، تاہم ان معاملات پر حتمی فیصلے قیادت کے انتخاب اور نئی کابینہ کی تشکیل کے بعد ہی سامنے آئیں گے۔
