برجین اسٹاک، سوئٹزرلینڈ: امریکہ اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات پیر کو سوئٹزرلینڈ میں اختتام پذیر ہوگئے، جہاں دونوں فریق ایک جامع معاہدے تک پہنچنے کے لیے 60 روزہ روڈ میپ پر متفق ہو گئے۔ یہ بات پاکستان اور قطر کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ بیان میں بتائی گئی۔
یہ مذاکرات سوئٹزرلینڈ کے پہاڑی سیاحتی مقام برجین اسٹاک میں منعقد ہوئے۔ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے جب ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی دوبارہ بندش اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مزید کشیدگی کی صورت میں فوجی کارروائی کے انتباہات کے باعث خطے میں تناؤ بڑھ گیا تھا۔
مشترکہ بیان کے مطابق تکنیکی سطح کے مذاکرات پورے ہفتے جاری رہیں گے، جبکہ آئندہ 60 دنوں میں حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایک فریم ورک پر کام کیا جائے گا۔ بیان میں لبنان میں دشمنی کے خاتمے کے لیے ایک طریقہ کار اور آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانے کے لیے خصوصی رابطہ چینل قائم کرنے کا بھی اعلان کیا گیا۔
امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وانس نے کی، جبکہ مذاکرات گزشتہ ہفتے طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (MOU) کے تحت شروع ہوئے۔ اس یادداشت کے ذریعے اپریل میں طے پانے والی نازک جنگ بندی میں مزید 60 دن کی توسیع کی گئی تھی۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا کہ تہران کو مذاکرات میں کئی اہم رعایتیں حاصل ہوئی ہیں، جن میں ایرانی تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی برآمدات کی اجازت، بعض منجمد اثاثوں کی رہائی اور ملک کی تعمیرِ نو و ترقی کے لیے اقدامات شامل ہیں۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے مذاکرات کے نتائج یا ان کے باضابطہ اختتام پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
مذاکرات سے قبل صدر ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا تھا کہ اگر اس نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کرنے کی کوشش کی تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے یہ بھی عندیہ دیا تھا کہ امریکہ اس اہم آبی گزرگاہ پر کنٹرول حاصل کرنے اور ممکنہ طور پر ٹرانزٹ فیس عائد کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ گزشتہ ہفتے مفاہمتی یادداشت پر اتفاق کا مقصد آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں کے باعث پیدا ہونے والے عالمی اقتصادی بحران اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کو روکنا تھا۔
اعلان کے بعد عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک ڈالر سے زائد کمی کے ساتھ 79.44 ڈالر فی بیرل تک گر گئی۔
مذاکرات کے دوران دونوں فریقوں کی جانب سے مختلف نوعیت کے دعوے بھی سامنے آئے۔
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ ٹرمپ کی دھمکیوں کے بعد ایرانی مذاکرات کاروں نے کچھ وقت کے لیے مذاکراتی کمرے میں واپس آنے سے انکار کر دیا تھا۔ تاہم پاکستان اور قطر کے ثالثوں کے ذریعے رابطے اور پیغامات کا تبادلہ جاری رہا۔
ذرائع کے مطابق ایران نے واضح کیا کہ جوہری مذاکرات میں پیش رفت کا انحصار واشنگٹن کی جانب سے مفاہمتی یادداشت کے تحت کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد سے مشروط ہے، جن میں منجمد اثاثوں کی رہائی اور ایرانی تیل کی برآمدات کے لیے پابندیوں میں نرمی شامل ہے۔
تاہم مذاکرات میں شریک ایک امریکی سفارت کار نے ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی حکام رات گئے تک مذاکرات میں شریک رہے۔
انہوں نے بتایا کہ فریقین کے درمیان آبنائے ہرمز، لبنان، جوہری معاملات اور مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد سمیت متعدد اہم موضوعات پر بات چیت ہوئی۔
وسیع تر معاہدے کا مقصد آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھلا رکھنا، عالمی توانائی کی سپلائی کو یقینی بنانا اور خطے میں جاری تنازعات، خصوصاً لبنان میں کشیدگی، کو کم کرنا ہے۔
ایران نے ہفتے کے روز اعلان کیا تھا کہ اس نے ایک مرتبہ پھر آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری آمدورفت محدود کر دی ہے۔ تہران کا مؤقف تھا کہ امریکہ لبنان میں تشدد کے خاتمے سے متعلق اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ایران نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ اتوار کے مذاکرات میں جوہری پروگرام مرکزی موضوع نہیں ہوگا۔
سوئٹزرلینڈ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وانس نے کہا کہ لبنان میں مکمل امن کا حصول آسان نہیں، تاہم جنگ بندی کی جانب پیش رفت جاری ہے۔
ان کا کہنا تھا، "اس نوعیت کے معاملات ہمیشہ پیچیدہ ہوتے ہیں، لیکن ہم پیش رفت دیکھ رہے ہیں۔”
ادھر صدر ٹرمپ نے ایران پر دباؤ برقرار رکھتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر تہران اپنے علاقائی اتحادی گروپوں کو روکنے میں ناکام رہا تو امریکہ مزید فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ایران کو فوری طور پر لبنان میں اپنے حمایت یافتہ گروپوں کو اشتعال انگیزی سے روکنا چاہیے، بصورت دیگر امریکہ مزید سخت ردعمل دے گا۔
سخت بیانات کے باوجود نائب صدر وانس نے اس بات پر زور دیا کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی خواہش رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا، "صدر چاہتے ہیں کہ ہم ایران کے عوام کے ساتھ تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کریں۔”
امریکی حکام کے مطابق مذاکرات کا ایک اہم مقصد آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایران کے مؤقف کو واضح کرنا اور بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے اس اہم آبی گزرگاہ کو کھلا رکھنا تھا۔
اگرچہ لبنان میں جمعہ کو نئی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم وہاں جھڑپیں مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکیں، اور ایران مسلسل اس صورتحال کو اپنی تشویش کا باعث قرار دے رہا ہے۔
