‘لوگ کیا کہیں گے؟’ وہ پانچ الفاظ جو لاکھوں زندگیاں بدل دیتے ہیں
پاکستان اور جنوبی ایشیا کے بیشتر معاشروں میں ایک ایسا جملہ ہے جو اکثر زندگی کے اہم فیصلوں پر حاوی ہو جاتا ہے: "لوگ کیا کہیں گے؟"
تحریر: ماہنور فاطمہ
اسلام آباد: پاکستان اور جنوبی ایشیا کے بیشتر معاشروں میں ایک ایسا جملہ ہے جو اکثر زندگی کے اہم فیصلوں پر حاوی ہو جاتا ہے: “لوگ کیا کہیں گے؟”
یہ محض ایک سوال نہیں بلکہ ایک ایسا سماجی دباؤ ہے جو کیریئر، تعلیم، شادی، طلاق، ذہنی صحت اور ذاتی خواہشات جیسے اہم فیصلوں کو متاثر کرتا ہے۔ کئی لوگ اپنے خواب صرف اس خوف سے ترک کر دیتے ہیں کہ کہیں معاشرہ ان کے بارے میں کیا رائے قائم کرے گا۔
ماہرینِ نفسیات کے مطابق مسلسل سماجی جانچ پڑتال کے احساس کے ساتھ زندگی گزارنا ذہنی دباؤ، اضطراب اور افسردگی کا باعث بن سکتا ہے۔
سماجی دباؤ ذہنی صحت پر اثرانداز
2022 میں جرنل آف پاکستان سائیکاٹرک سوسائٹی میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق نوجوانوں میں ذہنی دباؤ کی تین بڑی وجوہات میں مالی مسائل، خاندانی تنازعات اورسماجی فیصلے کا خوف شامل ہیں۔
کہوٹہ کے پاک میڈیکل سینٹر سے وابستہ کلینیکل سائیکالوجسٹ ڈاکٹر حمزہ سراج کہتے ہیں کہ پاکستانی معاشرے میں فرد کو الگ شناخت کے بجائے خاندان کی توسیع سمجھا جاتا ہے۔
ان کے مطابق، “جب کوئی مریض ذہنی دباؤ کی شکایت کرتا ہے تو میں صرف یہ نہیں پوچھتا کہ اسے کیا پریشانی ہے، بلکہ یہ بھی جاننے کی کوشش کرتا ہوں کہ دوسروں کو خوش رکھنے کے لیے اس نے اپنی کون سی خواہشات قربان کی ہیں۔”
خواب جو سماجی دباؤ کی نذر ہو گئے
کہوٹہ سے تعلق رکھنے والی 29 سالہ گرافک ڈیزائنر عائشہ طارق کو بیرونِ ملک مکمل فنڈڈ اسکالرشپ ملی، مگر انہوں نے یہ موقع صرف اس خوف سے چھوڑ دیا کہ شادی شدہ خاتون کے اکیلے بیرونِ ملک رہنے پر لوگ کیا کہیں گے۔
عائشہ کہتی ہیں، “میں نے خود کو یقین دلایا کہ یہ میرا فیصلہ ہے، لیکن حقیقت میں میں لوگوں کی باتوں سے پہلے ہی تھک چکی تھی۔”
اسی طرح فیصل آباد کے 34 سالہ بلال احمد تقریباً دس سال تک ایک ناخوشگوار ازدواجی زندگی میں صرف اس لیے رہے کیونکہ انہیں بتایا گیا کہ طلاق کی صورت میں ان کی بہنوں کے رشتوں پر منفی اثر پڑے گا۔
بلال کہتے ہیں، “میں شوہر کم اور قربانی زیادہ بن گیا تھا۔”
کیا ہمارا خوف حقیقت سے بڑا ہے؟
خاندانی نظام پر تحقیق کرنے والی ماہرِ عمرانیات عائشہ فاروق کے مطابق اکثر اوقات لوگ جس سماجی فیصلے سے ڈرتے ہیں، وہ حقیقت سے زیادہ ان کے ذہن میں موجود ہوتا ہے۔
ان کے بقول، “بہت سے افراد کو اتنی سخت تنقید کا سامنا نہیں کرنا پڑتا جتنا وہ پہلے سے تصور کر لیتے ہیں، مگر بچپن سے یہی سکھایا جاتا ہے کہ ہر قدم پر لوگوں کی رائے اہم ہے۔”
کیریئر بھی سماجی توقعات کی زد میں
راولپنڈی کے 24 سالہ شایان احمد نے انجینئرنگ چھوڑ کر موسیقی کو بطور پیشہ اپنایا، لیکن آج بھی رشتہ دار انہیں “ڈگری ضائع کرنے والا” کہہ کر متعارف کرواتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں، “کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ میں خوش ہوں یا نہیں، سب یہی جاننا چاہتے ہیں کہ کیا میں ‘سیٹل’ ہو گیا ہوں، جیسے خوشی کی کوئی اہمیت ہی نہ ہو۔”
خواتین پر دباؤ زیادہ کیوں؟
ماہرین کے مطابق خواتین کو اس سماجی دباؤ کا سامنا نسبتاً زیادہ کرنا پڑتا ہے۔
بہت سی خواتین صرف معاشرتی تنقید کے خوف سے نامناسب شادیوں میں رہنے پر مجبور رہتی ہیں، بیرونِ شہر یا بیرونِ ملک ملازمت کے مواقع چھوڑ دیتی ہیں یا شادی سے پہلے خوبصورتی کے غیر حقیقی معیار پر پورا اترنے کی کوشش کرتی ہیں۔
عائشہ فاروق کہتی ہیں، “جس سامعین سے لوگ خوفزدہ ہوتے ہیں، وہ اکثر حقیقت میں موجود بھی نہیں ہوتے، مگر نفسیاتی طور پر ان کا دباؤ بالکل حقیقی محسوس ہوتا ہے۔”
والدین بھی دباؤ کا شکار
کہوٹہ کی اسکول ٹیچرنادیہ حسی کہتی ہیں کہ وہ چاہتی ہیں ان کی بیٹی اپنی مرضی سے زندگی کے فیصلے کرے، مگر جب وہ کوئی مختلف راستہ اختیار کرتی ہے تو رشتہ داروں کے سوالات کا سامنا انہیں کرنا پڑتا ہے۔
ان کے مطابق، “یہ مسلسل سوالات والدین کو بھی ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیتے ہیں۔”
نوجوانوں کے خواب اور ناکامی کا خوف
کامسیٹس یونیورسٹی کے کیریئر کونسلرعزیر علوی کہتے ہیں کہ بہت سے نوجوان صلاحیت ہونے کے باوجود بڑے مواقع سے صرف اس لیے گریز کرتے ہیں کیونکہ انہیں ناکامی سے زیادہ خاندان اور معاشرے کے ردعمل کا خوف ہوتا ہے۔
وہ کہتے ہیں، “ہم نوجوانوں کو ملازمت کے لیے تیار کرنے سے زیادہ ان کے خوف پر قابو پانے میں وقت صرف کرتے ہیں۔”
ذہنی صحت کا کمزور نظام
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے مطابق پاکستان میں ماہرینِ نفسیات کی تعداد آبادی کے مقابلے میں انتہائی کم ہے، جس کے باعث ذہنی دباؤ، اضطراب اور سماجی دباؤ کا شکار افراد کے لیے پیشہ ورانہ مدد حاصل کرنا آسان نہیں۔
کیا اس سوچ سے نکلنا ممکن ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ “لوگ کیا کہیں گے؟” جیسے خوف سے آزادی کا مطلب خاندانی اقدار یا سماجی تعلقات سے دستبردار ہونا نہیں، بلکہ ایسا ماحول پیدا کرنا ہے جہاں محبت، اعتماد اور احترام کو سماجی کنٹرول پر ترجیح دی جائے۔
ڈاکٹر حمزہ سراج کہتے ہیں، “صحت مند خاندان یہ پوچھتے ہیں کہ ‘آپ کیسے ہیں؟’ جبکہ غیر صحت مند خاندان زیادہ فکر اس بات کی کرتے ہیں کہ ‘پڑوسی کیا کہیں گے؟'”
ماہرین کے مطابق اگر معاشرہ لوگوں کے فیصلوں پر تنقید کرنے کے بجائے انہیں سمجھنے کی کوشش کرے تو شاید بہت سے خواب، رشتے اور ذہنی سکون صرف ایک جملے کی نذر ہونے سے بچ جائیں۔
