نیوز ڈیسک
اسلام آباد: مصنوعی ذہانت (AI) تیزی سے دنیا بھر میں صنعتوں، کاروبار اور روزمرہ زندگی کا حصہ بنتی جا رہی ہے، لیکن اقوام متحدہ کی ایک نئی رپورٹ نے خبردار کیا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی دہائی کے اختتام تک بجلی، پانی اور زمینی وسائل پر غیرمعمولی دباؤ ڈال سکتی ہے۔
اقوام متحدہ کے یونیورسٹی انسٹی ٹیوٹ برائے پانی، ماحولیات اور صحت (UNU-INWEH) کی رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت کے ماحولیاتی اثرات کا اب تک درست اندازہ نہیں لگایا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عوامی بحث زیادہ تر کاربن کے اخراج تک محدود رہی، جبکہ AI کی بڑھتی ہوئی بجلی، پانی اور زمین کی ضروریات کو نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔
2030 تک بجلی کی کھپت دوگنی ہونے کا امکان
رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت کو چلانے والے ڈیٹا سینٹرز 2030 تک سالانہ 945 ٹیرا واٹ گھنٹے (TWh) بجلی استعمال کر سکتے ہیں، جو موجودہ سطح کے مقابلے میں تقریباً دوگنی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر دنیا بھر کے ڈیٹا سینٹرز کو ایک ملک تصور کیا جائے تو وہ بجلی استعمال کرنے والے دنیا کے بڑے ممالک میں شمار ہوں گے۔ اندازوں کے مطابق 2025 میں عالمی ڈیٹا سینٹرز تقریباً 448 ٹیرا واٹ گھنٹے بجلی استعمال کر رہے تھے، جو دنیا کے گیارہویں بڑے بجلی استعمال کرنے والے ملک کے برابر ہے
پانی کی کھپت بھی تشویشناک حد تک بڑھ سکتی ہے
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2030 تک AI سے وابستہ ڈیٹا سینٹرز کو سالانہ 9.3 ٹریلین لیٹر پانی درکار ہوگا۔
یہ مقدار اتنی زیادہ ہے کہ اس سے سب صحارا افریقہ کے تقریباً 1.3 ارب افراد کی ایک سال کی بنیادی گھریلو پانی کی ضروریات پوری کی جا سکتی ہیں۔
زمینی وسائل پر بھی دباؤ بڑھے گا
رپورٹ کے مطابق دہائی کے اختتام تک AI کا بنیادی انفراسٹرکچر 14 ہزار 500 مربع کلومیٹر سے زائد رقبے پر پھیل سکتا ہے، جو انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ کے میٹروپولیٹن علاقے کے تقریباً دوگنا رقبے کے برابر ہے۔
صرف کاربن میں کمی کافی نہیں
رپورٹ خبردار کرتی ہے کہ صرف کاربن کے اخراج میں کمی کو ماحولیاتی تحفظ کی ضمانت نہیں سمجھا جا سکتا۔
ماہرین کے مطابق کم کاربن توانائی کے بعض ذرائع بھی پانی اور زمین جیسے قدرتی وسائل پر اضافی دباؤ ڈال سکتے ہیں، اس لیے AI کی پائیدار ترقی کے لیے زیادہ جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے۔
چیٹ جی پی ٹی روزانہ کتنی توانائی استعمال کرتا ہے؟
رپورٹ میں AI سے متعلق ایک عام غلط فہمی کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق زیادہ تر لوگ سمجھتے ہیں کہ توانائی کا بڑا حصہ AI ماڈلز کی تربیت میں خرچ ہوتا ہے، جبکہ حقیقت میں 80 سے 90 فیصد بجلی اس وقت استعمال ہوتی ہے جب AI صارفین کے سوالات کے جوابات تیار کرتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق چیٹ جی پی ٹی روزانہ تقریباً 2.5 ارب پرامپٹس پر کارروائی کرتا ہے، جس کے لیے سالانہ تقریباً 383 گیگا واٹ گھنٹے (GWh) بجلی درکار ہوتی ہے۔
اسی طرح ایک AI سے تیار کی گئی تصویر، عام متن کی درجہ بندی کے مقابلے میں تقریباً 1,450 گنا زیادہ توانائی استعمال کر سکتی ہے، جبکہ ایک مختصر AI ویڈیو تیار کرنے میں اتنی بجلی خرچ ہو سکتی ہے جتنی دو لاکھ اسپام ای میلز کی درجہ بندی میں استعمال ہوتی ہے۔
ذمہ دار AI کی ضرورت
UNU-INWEH کے ڈائریکٹر کاوہ مدنی نے واضح کیا کہ اس رپورٹ کا مقصد مصنوعی ذہانت کی مخالفت نہیں بلکہ اس کے ماحولیاتی اثرات کی نشاندہی کرنا ہے۔
انہوں نے حکومتوں، ٹیکنالوجی کمپنیوں اور محققین پر زور دیا کہ وہ AI کی ترقی کو شفافیت، توانائی کی بچت، قدرتی وسائل کے پائیدار استعمال اور ماحولیاتی انصاف کے اصولوں کے مطابق آگے بڑھائیں۔
رپورٹ کے مطابق اگر مصنوعی ذہانت کی ترقی کے ساتھ ماحول کے تحفظ کو بھی یکساں اہمیت نہ دی گئی تو مستقبل کی یہ جدید ٹیکنالوجی دنیا کے قیمتی قدرتی وسائل پر ایک بڑا بوجھ ثابت ہو سکتی ہے۔
