نیا سائنسی مطالعہ: زمین سورج کی موت کے بعد بھی بچ سکتی ہے

نیوز ڈیسک

0

اسلام آباد

ایک نئی سائنسی تحقیق نے اس دیرینہ تصور کو چیلنج کیا ہے کہ سورج کی زندگی کے اختتام پر زمین لازماً تباہ ہو جائے گی۔ محققین کے مطابق، ایک امکان یہ بھی ہے کہ زمین اپنے موجودہ مدار سے مزید دور منتقل ہو کر سورج کی لپیٹ میں آنے سے بچ جائے۔
یہ تحقیق فلکیات اور فلکی طبیعیات کے جریدے میں شائع ہوئی ہے، جس کی قیادت بیلجیئم کی کے یو لیوین یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف ایسٹرونومی سے وابستہ محقق میٹس ایسلڈرز نے کی۔ تحقیق میں جدید فلکیاتی ماڈلز اور مرنے والے ستارے L2 Puppis کے مشاہدات کی بنیاد پر زمین کی ممکنہ قسمت کا دوبارہ جائزہ لیا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق تقریباً پانچ ارب سال بعد سورج اپنے مرکز میں موجود ہائیڈروجن ایندھن ختم ہونے کے بعد سرخ دیو (Red Giant) میں تبدیل ہو جائے گا اور پھر اپنے آخری مرحلے اسیمپٹوٹک جائنٹ برانچ (AGB) میں داخل ہوگا، جہاں وہ اپنی بیرونی تہیں خلا میں خارج کرنے کے بعد سفید بونا (White Dwarf) بن جائے گا۔
ماضی میں ماہرین کا خیال تھا کہ اس مرحلے میں سورج کی توسیع عطارد، زہرہ اور زمین سمیت اندرونی سیاروں کو اپنی لپیٹ میں لے کر تباہ کر دے گی۔
تاہم، نئی تحقیق کے مطابق زمین کی قسمت دو عوامل پر منحصر ہوگی۔ ایک طرف سورج کی کششِ ثقل زمین کو اپنی جانب کھینچ سکتی ہے، جبکہ دوسری جانب سورج اپنی کمیت کا بڑا حصہ کھو دے گا، جس سے اس کی کششِ ثقل کمزور ہو جائے گی اور زمین کا مدار باہر کی جانب منتقل ہو سکتا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ اگر سورج کی کمیت میں کمی کششِ ثقل کے اثر سے زیادہ تیزی سے ہوئی تو زمین سورج کی لپیٹ میں آنے کے بجائے محفوظ فاصلے پر منتقل ہو سکتی ہے۔ تاہم اگر کششِ ثقل کا اثر غالب رہا تو زمین کے سورج میں ضم ہونے کا امکان برقرار رہے گا۔
تحقیق کے سربراہ میٹس ایسلڈرز کے مطابق، اربوں سال بعد کیا ہوگا، اس بارے میں حتمی پیش گوئی ممکن نہیں، لیکن یہ تحقیق اس امکان کو ضرور تقویت دیتی ہے کہ زمین سورج کے آخری مرحلے سے بچ بھی سکتی ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ یہ مطالعہ ستاروں اور ان کے سیاروی نظاموں کے ارتقا کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دے گا اور مستقبل میں نظامِ شمسی سمیت دیگر سیاروی نظاموں کی تقدیر کے بارے میں زیادہ درست پیش گوئیاں ممکن بنائے گا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.