زیارت دہشت گرد حملہ: لاپتہ ڈی ایس پی سمیت آٹھ پولیس اہلکار بحفاظت واپس، 9 اہلکار شہید

نیوز ڈیسک

0

اسلام آباد

بلوچستان کے ضلع زیارت کے علاقے کچ منگی فیز III میں دہشت گردوں کے حملے کے بعد لاپتہ ہونے والے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) غلام سرور سمیت آٹھ پولیس اہلکار بحفاظت واپس پہنچ گئے، جبکہ حملے میں 9 پولیس افسران اور اہلکار شہید ہوئے۔
بلوچستان حکومت کے ترجمان اور وزیراعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات شاہد رند نے بتایا کہ حملے کے بعد فرنٹیئر کور (ایف سی)، بلوچستان پولیس، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی)، اسپیشل آپریشنز ونگ (ایس او ڈبلیو) اور انسداد دہشت گردی فورس (اے ٹی ایف) نے مشترکہ طور پر بڑے پیمانے پر کلیئرنس آپریشن کیا، جو کامیابی سے مکمل کر لیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ آپریشن کا مقصد علاقے کو دہشت گردوں سے پاک کرنا اور حملے کے دوران لاپتہ ہونے والے پولیس اہلکاروں کو تلاش کرنا تھا۔ ان کے مطابق ڈی ایس پی غلام سرور سمیت آٹھ اہلکار دشوار گزار پہاڑی راستوں سے گزرتے ہوئے بحفاظت کیچ تھانے پہنچ گئے، جبکہ لاپتہ کانسٹیبل رضوان کو بھی محفوظ حالت میں بازیاب کر لیا گیا۔
شاہد رند نے تصدیق کی کہ دہشت گرد حملے میں مجموعی طور پر 9 پولیس افسران اور اہلکار شہید ہوئے۔ شہداء میں منگی تھانے کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او)، کاوس تھانے کے ایس ایچ او، اے ٹی ایف کے انچارج ہیڈ کانسٹیبل سیف اللہ اور دیگر اہلکار شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ شہداء کی میتیں قانونی کارروائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر (ڈی ایچ کیو) اسپتال زیارت منتقل کی جا رہی ہیں۔
صوبائی حکومت کی جانب سے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے شاہد رند نے کہا کہ بلوچستان حکومت اپنے شہداء کی قربانیوں کو سلام پیش کرتی ہے اور صوبے سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک سیکیورٹی فورسز کے آپریشنز جاری رہیں گے۔
واضح رہے کہ زیارت کے منگی علاقے میں دہشت گردوں کے حملے کے بعد پولیس اور مسلح حملہ آوروں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے بعد سیکیورٹی فورسز نے مربوط کارروائی کرتے ہوئے علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا۔
(آج نیوز کی ویب سائٹ سے اضافی معلومات شامل کی گئی ہیں۔)

Leave A Reply

Your email address will not be published.