40 سالہ رفاقت کا انوکھا خراج، بیوی کی قبر پر ’’تاج محل‘‘ تعمیر کرنے والا شوہر

علی نواز رحیمو

1

عمرکوٹ

محبت ہمیشہ سے انسان کے عظیم ترین تخلیقی اظہار کا سرچشمہ رہی ہے۔ دنیا کی لازوال شاعری، شاہکار مصوری، دل موہ لینے والی دھنیں اور عظیم الشان عمارتیں اکثر کسی نہ کسی گہری محبت کی داستان اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔ مگر تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ بعض اوقات محبت کی خوشیوں سے زیادہ اس کی جدائی ایسے شاہکار تخلیق کرتی ہے، جو صدیوں بعد بھی انسان کے جذبات کو جھنجھوڑتے رہتے ہیں۔
ہر یادگار عمارت کے پیچھے صرف پتھر، اینٹ یا سنگِ مرمر نہیں ہوتا بلکہ ایک ایسی کہانی ہوتی ہے جو اسے امر بنا دیتی ہے۔ اگر یہ کہانیاں نہ ہوتیں تو شاید دنیا کی کئی عظیم یادگاریں محض ایک خوبصورت عمارت بن کر رہ جاتیں۔ یہی وجہ ہے کہ تاج محل صرف اپنی تعمیراتی عظمت کے باعث نہیں بلکہ شاہجہان اور ممتاز محل کی لازوال محبت کی علامت کے طور پر آج بھی دنیا بھر کے لوگوں کو اپنی جانب کھینچتا ہے۔
سندھ کے تاریخی شہر عمرکوٹ میں بھی محبت کی ایک ایسی ہی خاموش مگر دل کو چھو لینے والی داستان جنم لے رہی ہے، جہاں 62 سالہ رسول بخش پلی نے اپنی مرحومہ اہلیہ مریم کی یاد میں ایک چھوٹا سا ’’تاج محل‘‘ تعمیر کرنا شروع کیا ہے۔ یہ کسی بادشاہ کی شان و شوکت کی علامت نہیں بلکہ ایک عام انسان کی غیر معمولی محبت کا اظہار ہے۔
رسول بخش پلی مسکراتے ہوئے کہتے ہیں، ’’میرے تاج محل کا آگرہ کے تاج محل سے کوئی موازنہ نہیں، لیکن دونوں کی بنیاد محبت پر رکھی گئی ہے۔‘‘
ان کی زندگی کی یہ کہانی 1977ء میں شروع ہوئی، جب صرف 18 برس کی عمر میں ان کی شادی 39 سالہ مریم سے ہوئی۔ دونوں کی عمروں میں اکیس برس کا فرق تھا، جس پر اس وقت بہت سی باتیں ہوئیں، مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہی رشتہ محبت، اعتماد اور رفاقت کی ایک خوبصورت مثال بن گیا۔
رسول بخش بتاتے ہیں کہ اس دور میں دیہی سندھ میں خواتین کا گھر سے باہر نکلنا غیر معمولی بات سمجھی جاتی تھی، مگر وہ اور مریم ہر ہفتے کسی نہ کسی بہانے حیدرآباد جا کر فلمیں دیکھا کرتے تھے۔ ان کے بقول، ’’وہ صرف میری شریکِ حیات نہیں تھیں بلکہ میری سب سے اچھی دوست بھی تھیں۔‘‘
وہ ماضی کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ شادی سے پہلے ان کی زندگی بے مقصد تھی۔ ’’میں نشے کا عادی تھا، اپنی راہ کھو چکا تھا اور مستقبل کے بارے میں کچھ نہیں سوچتا تھا۔ مریم نے میری زندگی بدل دی۔ انہوں نے نہ صرف میری حوصلہ افزائی کی بلکہ ہر قدم پر میرا ساتھ دیا۔‘‘
مریم کی اخلاقی اور مالی معاونت سے رسول بخش نے نشہ چھوڑا، تعلیم مکمل کی، سیاسیات اور قانون میں ڈگریاں حاصل کیں اور ایک باوقار زندگی کی طرف قدم بڑھایا۔ ان کے بقول، ’’اگر مریم نہ ہوتیں تو شاید میں آج وہ انسان نہ ہوتا جو ہوں۔‘‘
چالیس برس پر محیط اس رفاقت کا اختتام 2015ء میں اس وقت ہوا جب مریم دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئیں۔ رسول بخش کہتے ہیں، ’’ہم نے چالیس سال ایک ساتھ گزارے۔ ایک لمحے میں سب کچھ ختم ہو گیا۔ میں خود کو سنبھال نہیں پا رہا تھا۔‘‘
غم کے انہی دنوں میں انہیں ایک پرانا خواب یاد آیا، جو برسوں پہلے انہوں نے اپنی اہلیہ کے ساتھ دیکھا تھا۔
1980ء میں دونوں آگرہ گئے تھے، جہاں انہوں نے تاج محل کی سیر کی۔ سنگِ مرمر سے بنی اس عظیم یادگار کے سائے میں بیٹھ کر دونوں نے گھنٹوں شاہجہان اور ممتاز محل کی محبت کی داستان پر گفتگو کی تھی۔ اس وقت شاید انہیں اندازہ بھی نہیں تھا کہ ایک دن یہی داستان ان کی اپنی زندگی کا حصہ بن جائے گی۔
مریم کی تدفین کے بعد رسول بخش نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی اہلیہ کی قبر پر بھی محبت کی ایک ایسی یادگار تعمیر کریں گے جو ان کی زندگی بھر کی رفاقت کی گواہ بنے۔
یہ فیصلہ آسان نہیں تھا۔ ایک دیہی قبرستان میں تاج محل کی طرز پر عمارت تعمیر کرنے کے خیال کو بہت سے لوگوں نے عجیب قرار دیا۔ بعض نے مخالفت کی، بعض نے اسے غیر ضروری خرچ کہا، مگر رسول بخش اپنے فیصلے پر قائم رہے۔
انہوں نے ایک مقامی مستری کی مدد سے تعمیراتی کام شروع کیا۔ محدود وسائل کے باوجود اب تک وہ تقریباً بارہ لاکھ روپے اس منصوبے پر خرچ کر چکے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’’ابھی بہت سا کام باقی ہے، لیکن جب تک سانس ہے، میں اسے مکمل کرنے کی کوشش کرتا رہوں گا۔‘‘
اگرچہ یہ عمارت ابھی نامکمل ہے، مگر آج بھی اسے دیکھنے والا ہر شخص اس کے پیچھے چھپی محبت کی داستان کو محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ یہ کسی شاہی خزانے سے تعمیر ہونے والی یادگار نہیں بلکہ ایک عام انسان کی محنت، وفاداری اور یادوں سے جڑی ہوئی عمارت ہے۔
آج کے مادیت پسند دور میں، جہاں تعلقات اکثر مفادات کے ترازو میں تولے جاتے ہیں، رسول بخش پلی کا یہ عمل محبت، وفاداری اور خلوص کی ایک نایاب مثال بن کر سامنے آیا ہے۔ ان کا یہ ’’تاج محل‘‘ صرف اینٹ، سیمنٹ اور گنبدوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک ایسی زندگی کی کہانی ہے جس میں ایک عورت نے اپنے شریکِ حیات کو سنبھالا، اس کا مستقبل سنوارا اور اس کی شخصیت کو نئی سمت دی، جبکہ شوہر نے اس محبت کو موت کے بعد بھی زندہ رکھنے کا عہد نبھایا۔
عمرکوٹ کے خاموش صحرا میں کھڑا یہ چھوٹا سا تاج محل ہمیں یاد دلاتا ہے کہ محبت کی عظمت کا تعلق نہ دولت سے ہے، نہ اقتدار سے اور نہ ہی شاہی محلوں سے۔ سچی محبت ایک عام انسان کے دل میں بھی وہی روشنی پیدا کر سکتی ہے جو تاریخ کے عظیم ترین شاہکاروں کو امر بنا دیتی ہے۔
رسول بخش پلی کی یہ داستان شاید تاریخ کی سب سے بڑی محبت کی کہانی نہ ہو، لیکن یہ ضرور ثابت کرتی ہے کہ جب محبت خلوص سے کی جائے تو ایک عام انسان بھی اپنی یادوں کو ہمیشہ کے لیے پتھر پر نقش کر سکتا ہے۔

1 Comment
  1. Mehandro khan says

    Zabardast sain

Leave A Reply

Your email address will not be published.