امریکہ، ایران مذاکرات کا تیسرا دور پاکستان میں کیوں اہم ہے؟

نیوز ڈیسک

0

اسلام آباد

پاکستان 14 اور 15 جولائی کو امریکہ اور ایران کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات کے تیسرے دور کی میزبانی کرے گا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق یہ مذاکرات مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن کے قیام اور دونوں ممالک کے درمیان اہم تنازعات کے حل کی کوششوں کا حصہ ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں امریکہ اور ایران کے تکنیکی ماہرین شرکت کریں گے، جبکہ پاکستان ایک بار پھر ثالث کا کردار ادا کرے گا۔
مذاکرات میں ایران پر عائد امریکی پابندیاں، منجمد ایرانی اثاثوں کی رہائی، تہران کے جوہری پروگرام اور دیگر اہم تکنیکی و سفارتی امور زیرِ غور آئیں گے۔
اس سے قبل تکنیکی مذاکرات کے پہلے دو ادوار سوئٹزرلینڈ کے برگن اسٹاک اور قطر کے دارالحکومت دوحہ میں منعقد ہو چکے ہیں۔
العربیہ کی رپورٹ کے مطابق ایرانی وفد کی سطح اور حتمی نمائندگی کا فیصلہ سابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ کے بعد کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق دوحہ میں ہونے والے گزشتہ مذاکرات کے دوران دونوں ممالک کے وفود نے دو روز تک آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی، منجمد ایرانی فنڈز کی بحالی اور دیگر اہم معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔
قطر کی وزارتِ خارجہ نے دوحہ مذاکرات کو مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ مذاکرات سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی سابقہ ملاقاتوں کے نتائج کو آگے بڑھانے میں مددگار ثابت ہوئے۔
یاد رہے کہ جون میں پاکستان اور قطر کی ثالثی میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت طے پائی تھی، جس کے نتیجے میں 60 روزہ جنگ بندی عمل میں آئی، آبنائے ہرمز کو دوبارہ بحری آمدورفت کے لیے کھول دیا گیا، جبکہ علاقائی سلامتی، ایران کی تعمیرِ نو اور اس کے جوہری پروگرام سے متعلق وسیع تر مذاکرات کے لیے بھی ایک روڈ میپ تیار کیا گیا۔
دوحہ میں حالیہ بالواسطہ مذاکرات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان اور قطر کی ثالثی کے کردار کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔
پاکستان اور قطر کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں بھی کہا گیا تھا کہ امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں سے الگ الگ ملاقاتوں کے دوران اہم امور پر مثبت پیش رفت ہوئی۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی، جنہوں نے دوحہ میں ایرانی وفد کی قیادت کی، کا کہنا تھا کہ دونوں فریقوں نے مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کی نگرانی اور مبینہ خلاف ورزیوں کی رپورٹنگ کے لیے ایک مشترکہ رابطہ کار طریقہ کار پر اتفاق کیا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ مذاکرات میں منجمد ایرانی اثاثوں کی رہائی، ابتدائی 6 ارب ڈالر کے فنڈز کے استعمال اور ایران کو ضروری اشیائے ضروریہ کی فراہمی کے طریقہ کار پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ مذاکرات فروری کے آخر میں شروع ہونے والے تنازعے کے بعد جاری سفارتی کوششوں کا تسلسل ہیں، جن کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا، اعتماد سازی کو فروغ دینا اور پائیدار امن کی راہ ہموار کرنا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.