اسلام اباد
فٹبال ہمیشہ محض ایک کھیل نہیں رہا۔ یہ قومی شناخت، جذبات، رقابتوں اور عالمی یکجہتی کی علامت بھی ہے۔ تاہم اس کی سب سے بڑی طاقت ایک ایسے غیر تحریری اصول میں پوشیدہ ہے جسے دنیا بھر کے شائقین تسلیم کرتے ہیں: جب ریفری سیٹی بجاتا ہے تو پھر کھیل کا فیصلہ کھلاڑی، ریفری اور فٹبال کے قوانین کرتے ہیں، نہ کہ صدور، حکومتیں یا سیاسی قوتیں۔
جاری فیفا ورلڈ کپ کے دوران پیش آنے والے دو واقعات نے اسی بنیادی اصول پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
پہلا تنازع ایران کی ورلڈ کپ میں شرکت سے متعلق تھا۔ واشنگٹن اور تہران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد یہ آوازیں اٹھنے لگیں کہ آیا ایران کو ٹورنامنٹ میں کھیلنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ اس کے برعکس فیفا نے ایک مرتبہ پھر اپنے بنیادی مؤقف کا اعادہ کیا کہ ورلڈ کپ میں شرکت کا فیصلہ سیاسی حالات نہیں بلکہ کھیل کے میدان میں حاصل کی گئی اہلیت کرتی ہے۔ ایران نے کوالیفائی کیا تھا، اس لیے اسے کھیلنے کا حق حاصل تھا۔
یہ فیصلہ محض ایران کے بارے میں نہیں تھا بلکہ عالمی فٹبال کے مستقبل سے جڑا ہوا تھا۔ اگر کسی ملک کی شرکت کا فیصلہ کھیل کے بجائے سیاسی دباؤ سے ہونے لگے تو ہر آنے والے ورلڈ کپ کی ساکھ متاثر ہوگی۔ شائقین میدان میں فٹبال دیکھنا چاہتے ہیں، سفارتی تنازعات نہیں۔
دوسرا تنازع اس وقت سامنے آیا جب امریکہ کے اسٹرائیکر فولرین بالوگن کو بوسنیا اور ہرزیگووینا کے خلاف میچ میں وی اے آر جائزے کے بعد ریڈ کارڈ دکھایا گیا۔ ٹورنامنٹ قوانین کے مطابق انہیں خودکار طور پر ایک میچ کی معطلی کا سامنا کرنا تھا، تاہم بعد میں فیفا کی تادیبی کمیٹی نے اپنے ضابطہ اخلاق کے آرٹیکل 27 کے تحت اس پابندی کے نفاذ کو معطل کر دیا، جس کے بعد بالوگن کو بیلجیم کے خلاف ناک آؤٹ میچ کھیلنے کی اجازت مل گئی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بعد میں خود تصدیق کی کہ انہوں نے فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو سے رابطہ کر کے اس فیصلے پر نظرثانی کی درخواست کی تھی۔ فیفا نے مؤقف اختیار کیا کہ اس کا عدالتی عمل مکمل طور پر آزاد ہے اور فیصلہ موجودہ ضوابط کے مطابق کیا گیا۔
تاہم کھیلوں کی دنیا میں صرف انصاف کافی نہیں ہوتا، بلکہ انصاف ہوتا ہوا نظر آنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
اسی تاثر نے یورپ بھر میں شدید ردعمل کو جنم دیا۔ یوئیفا نے اس فیصلے کو “بے مثال، ناقابلِ فہم اور ناقابلِ جواز” قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اس سے کھیل کی سالمیت پر اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔ بیلجیم فٹبال فیڈریشن نے بھی امریکہ کے خلاف میچ سے قبل اس فیصلے پر سوالات اٹھائے۔
حقیقت یہ ہے کہ بحث اب ایک ریڈ کارڈ سے کہیں آگے جا چکی ہے۔
فٹبال کی اصل بنیاد قوانین کے یکساں اطلاق پر قائم ہے۔ کھلاڑی سخت فیصلے اس لیے قبول کرتے ہیں کہ انہیں یقین ہوتا ہے کہ یہی اصول ہر ٹیم پر لاگو ہوں گے۔ کوچ اپنی حکمت عملی انہی قوانین کو سامنے رکھ کر ترتیب دیتے ہیں، جبکہ شائقین جیت اور شکست دونوں کو اسی یقین کے ساتھ قبول کرتے ہیں کہ میدان میں کسی کو خصوصی رعایت نہیں ملے گی۔
یہی اعتماد فٹبال کی اصل طاقت ہے۔
ریفری غلطیاں کرتے ہیں، وی اے آر پر ہر سیزن بحث ہوتی ہے اور فیصلوں پر اختلاف بھی معمول کی بات ہے۔ لیکن کھیل اس لیے مضبوط رہتا ہے کیونکہ یہ اختلافات فٹبال کے اپنے اداروں کے اندر حل کیے جاتے ہیں، نہ کہ سیاسی دباؤ کے تحت۔
شاید اسی لیے صدر ٹرمپ کی جانب سے ریفری پر تنقید کے بعد فیفا نے نہ صرف اپنے تادیبی عمل بلکہ برازیلی ریفری رافیل کلاز کا بھی کھل کر دفاع کیا۔ فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو اور ریفری سربراہ پیئرلوئیجی کولینا نے واضح کیا کہ ٹورنامنٹ کے دوران ریفریوں کی خودمختاری اور احترام برقرار رکھنا کھیل کی ساکھ کے لیے ناگزیر ہے۔
تاہم عام شائقین کے لیے قانونی موشگافیوں سے زیادہ اہم ایک بنیادی اصول ہے۔ کراچی، کنساس، قاہرہ یا کیوٹو میں بیٹھا کوئی بچہ فیفا کے آرٹیکل 27 سے شاید واقف نہ ہو، مگر وہ یہ ضرور یقین رکھتا ہے کہ میچ کا فیصلہ صلاحیت، محنت اور ٹیم ورک سے ہوگا، نہ کہ سیاسی اثر و رسوخ سے۔
فٹبال کی عالمی مقبولیت اسی اعتماد پر قائم ہے۔
تاریخ ہمیں بارہا یہ سبق دیتی ہے کہ جب بھی سیاست کھیل کے میدان، ڈریسنگ روم یا ریفری کی نوٹ بک تک پہنچتی دکھائی دیتی ہے تو کھیل پر عوام کا اعتماد کمزور ہونے لگتا ہے۔
ورلڈ کپ صرف بہترین ٹیم کے انتخاب کا مقابلہ نہیں، بلکہ اس یقین کی بھی آزمائش ہے کہ دنیا کا سب سے مقبول کھیل اب بھی اپنے قوانین کے مطابق چلتا ہے، نہ کہ طاقتور سیاسی شخصیات کی خواہشات کے مطابق۔
اگر فیفا اس اصول کی حفاظت میں کامیاب رہتا ہے تو ورلڈ کپ کی ساکھ بھی برقرار رہے گی۔ لیکن اگر یہ لکیر دھندلی ہونے لگی تو نقصان صرف ایک ٹیم یا ایک ٹورنامنٹ کا نہیں ہوگا، بلکہ اس اعتماد کا ہوگا جس نے فٹبال کو دنیا کا سب سے بڑا کھیل بنایا ہے۔
