حافظ نعیم: ملک کی ترقی کا راستہ تعلیمی انقلاب، کراچی کے 3,500 سرکاری اسکولوں میں معیاری تعلیم نہیں

0

کراچی (19 جولائی 2026): امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ پاکستان کی ترقی کسی نئے آپریشن سے نہیں بلکہ تعلیمی انقلاب سے ممکن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں ساڑھے تین ہزار سرکاری اسکول موجود ہیں، مگر کسی میں بھی معیاری تعلیم فراہم نہیں کی جا رہی۔الخدمت کے “بنو قابل” پروگرام کے چوتھے سالانہ کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ یہ منصوبہ نوجوانوں کے لیے گیم چینجر ثابت ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے نوجوانوں میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے اور انہیں آئی ٹی سمیت جدید شعبوں میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے جانے چاہییں۔انہوں نے کہا کہ آئین کے مطابق مفت اور معیاری تعلیم دینا ریاست کی ذمہ داری اور عوام کا حق ہے، مگر حکمران طبقہ تعلیم کے بجٹ پر توجہ دینے کے بجائے وسائل ضائع کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “بنو قابل” پروگرام صرف نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور ملک کی ترقی کے لیے شروع کیا گیا ہے۔حافظ نعیم الرحمان نے سندھ میں طویل عرصے سے برسراقتدار پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو زبان، ذات اور علاقوں کی بنیاد پر تقسیم کیا جاتا ہے، جبکہ طاقتور طبقے متحد رہتے ہیں۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ اتحاد کا مظاہرہ کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ نوجوان تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں، مگر حکمرانوں نے ان کے لیے مواقع محدود کر دیے ہیں۔ سرکاری ملازمتوں کی کمی اور صنعتوں کی بیرون ملک منتقلی کے باعث نوجوان مشکلات کا شکار ہیں، تاہم آئی ٹی کا شعبہ امید کی نئی کرن بن کر سامنے آیا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.