ایران-امریکہ کشیدگی: وزیر اعظم شہباز شریف کی 51 سفارتی کالز، “ٹیلی فونک ڈپلومیسی” کا نیا ریکارڈ

0

سلام آباد: مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں پاکستان نے وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں فعال اور منظم سفارتی مہم کا آغاز کیا۔ اس دوران وزیر اعظم نے عالمی رہنماؤں کے ساتھ 51 اہم ٹیلی فونک رابطے کیے، جنہیں حکام نے “بحران کی سفارت کاری کی نصف صدی” قرار دیا ہے۔ذرائع کے مطابق، یہ سفارتی حکمت عملی خطے میں ممکنہ تنازع کے پھیلاؤ کو روکنے اور اعلیٰ قیادت کی سطح پر براہ راست رابطوں کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کے لیے ترتیب دی گئی تھی۔ وزیر اعظم نے مشرق وسطیٰ، یورپ اور دیگر اہم ممالک کے رہنماؤں سے رابطے کر کے سفارتی توازن برقرار رکھنے کی کوشش کی۔تفصیلات کے مطابق، ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پیزشکیان سے 5 مرتبہ رابطہ کیا گیا، جبکہ ترکی، کویت، سعودی عرب، بحرین، قطر اور لبنان کی قیادت سے بھی متعدد بار بات چیت ہوئی۔ اس کے علاوہ یورپی ممالک جیسے اٹلی، جرمنی، برطانیہ اور فرانس کے رہنماؤں سے بھی رابطے کیے گئے۔عید الفطر کے موقع پر وزیر اعظم نے 14 ممالک کے سربراہان سے خصوصی گفتگو کی، جس میں خیرسگالی اور امن کے پیغامات کا تبادلہ کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام کشیدگی کے دوران مثبت سفارتی ماحول برقرار رکھنے کی کوشش کا حصہ تھا۔ٹیلی فونک رابطوں کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم نے سعودی عرب، ترکی اور قطر کے دورے بھی کیے، جہاں اہم ملاقاتیں ہوئیں۔ اس طرح پاکستان نے “ہائبرڈ ڈپلومیسی” ماڈل اپناتے ہوئے روایتی اور جدید سفارت کاری کو یکجا کیا۔ماہرین کے مطابق، یہ سفارتی سرگرمیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ موجودہ دور میں براہ راست قیادت کے درمیان رابطے بحرانوں کے حل میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ پاکستان کی یہ کوشش خطے میں استحکام کو فروغ دینے اور اپنے اسٹریٹجک مفادات کے تحفظ کی عکاسی کرتی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.