اسلام آباد
مچھروں سے نمٹنے کے لیے دنیا بھر میں استعمال ہونے والے روایتی طریقوں کے بعد اب مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے چلنے والی جدید ٹیکنالوجی میدان میں آ گئی ہے۔ ایک امریکی ٹیکنالوجی اسٹارٹ اپ نے ایسے چھوٹے خود مختار ڈرونز تیار کرنے کا منصوبہ پیش کیا ہے جو فضا میں اڑتے ہوئے مچھروں کو تلاش کر کے ختم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
امریکی اسٹارٹ اپ ٹورنیول (Tournevel) کے مطابق مستقبل میں مچھروں پر قابو پانے کے لیے کیمیکل اسپرے یا فوگنگ مشینوں کے بجائے اے آئی سے لیس مائیکرو ڈرونز کا استعمال کیا جا سکتا ہے، جو زیادہ درست اور ماحول دوست طریقے سے مچھروں کا خاتمہ کر سکیں گے۔
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اگر یہ ٹیکنالوجی کامیاب ہو گئی تو مچھروں پر قابو پانے کے اخراجات میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے، جبکہ ماحول پر منفی اثرات بھی کم ہوں گے۔
مچھر پکڑنے والے خود مختار ڈرونز کا تصور
ٹورنیول نے اسٹارٹ اپ ایکسلریٹر وائی کمبینیٹر (Y Combinator) کے تعاون سے گزشتہ چند ماہ میں ایسے چھوٹے ڈرونز کی تیاری پر کام کیا ہے، جنہیں مستقبل میں شہری علاقوں میں ڈینگی، ملیریا اور دیگر مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں کے خلاف استعمال کرنے کا منصوبہ ہے۔
یہ ڈرونز مصنوعی ذہانت کی مدد سے مچھروں کی شناخت، ان کا تعاقب اور انہیں نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
پہلا کامیاب تجربہ
کمپنی نے حال ہی میں اس ٹیکنالوجی کا ابتدائی مظاہرہ کیا۔ 14 جولائی کو شریک بانی ایلکس ٹوسینٹ کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو میں دکھایا گیا کہ ایک مائیکرو ڈرون ہوا میں موجود ایک کیڑے کا پیچھا کرتا ہے اور اسے گرا دیتا ہے۔
اگرچہ یہ تجربہ مچھر کے بجائے ایک دوسرے کیڑے پر کیا گیا اور ماحول بھی مکمل طور پر کنٹرول شدہ تھا، تاہم کمپنی کے مطابق یہ خود مختار مچھر شکاری ڈرونز کی تیاری کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
اے آئی اور آواز کے ذریعے مچھروں کی شناخت
یہ ڈرونز روایتی کیڑے مار طریقوں سے مختلف انداز میں کام کریں گے۔ ان میں کیمیکل کے بجائے مصنوعی ذہانت، آواز کی شناخت اور سینسر ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہے۔
سسٹم الٹراسونک لہریں خارج کرتا ہے اور متعدد مائیکروفونز کے ذریعے واپس آنے والی آوازوں کا تجزیہ کرتا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق مچھروں کے پروں کی حرکت ایک مخصوص آواز پیدا کرتی ہے، جسے ڈرون پہچاننے کی کوشش کرے گا۔
اس ٹیکنالوجی کا مقصد مچھروں کو دوسرے فائدہ مند کیڑوں سے الگ شناخت کرنا ہے تاکہ ماحولیاتی نقصان کو کم کیا جا سکے۔
مستقبل میں شہروں کی حفاظت کا منصوبہ
ٹورنیول کے بانی ایلکس ٹوسینٹ اور کلووس پیڈالو کا کہنا ہے کہ ان کا طویل مدتی منصوبہ ایسے خود مختار ڈرونز کے جھنڈ تیار کرنا ہے جو پورے علاقوں اور شہروں کو مچھروں سے محفوظ رکھنے میں مدد دے سکیں۔
اگر یہ ٹیکنالوجی حقیقی ماحول میں کامیاب ثابت ہوتی ہے تو یہ مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں کے خلاف عالمی جنگ میں ایک نیا اور مؤثر ہتھیار ثابت ہو سکتی ہے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔ ڈرونز کی کارکردگی، حفاظت، بڑے پیمانے پر استعمال کی صلاحیت اور دیگر کیڑوں کو نقصان پہنچائے بغیر صرف مچھروں کو نشانہ بنانے کی اہلیت جانچنے کے لیے مزید تحقیق اور عملی تجربات کی ضرورت ہوگی۔
