نو سال بعد کماموٹو پھر تباہی کی زد میں کیسے آیا؟

نیوز ڈیسک

0

کماموٹو

جاپان کے کماموٹو پریفیکچر میں آنے والے طاقتور زلزلے کے نتیجے میں کم از کم 13 افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہو گئے۔ حکام کے مطابق زلزلے نے علاقے میں تباہی مچا دی، جہاں عمارتیں منہدم، سڑکیں متاثر اور ہزاروں گھروں کی بجلی منقطع ہو گئی۔
جنوب مغربی جزیرے کیوشو میں آنے والے اس زلزلے نے کماموٹو کے شہریوں کو 2016 کے تباہ کن زلزلوں کی یاد دلا دی، جنہوں نے علاقے کو شدید نقصان پہنچایا تھا اور درجنوں جانیں لی تھیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ نئے زلزلے کے بعد بھی کئی دنوں تک شدید آفٹر شاکس کا خدشہ برقرار ہے۔
زلزلے سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والی عمارتوں میں کماموٹو سٹی کا ایون شاپنگ مال بھی شامل ہے، جو 2016 کی تباہی کے بعد بحالی کی علامت سمجھا جاتا تھا اور طویل تعمیر نو کے بعد گزشتہ ماہ دوبارہ کھولا گیا تھا۔ زلزلے کے دوران مال کی دوسری منزل کا ایک حصہ گر گیا، جس کے بعد ایک زور دار دھماکے سے عمارت کو مزید نقصان پہنچا۔
مال کے عملے نے فوری کارروائی کرتے ہوئے تقریباً 200 دکانداروں کو بحفاظت باہر نکال لیا، تاہم کچھ کارکن اندر پھنس گئے۔ مقامی میڈیا کے مطابق بعد میں ملبے سے 20 سال کی دو خواتین کی لاشیں برآمد کی گئیں، جبکہ امدادی ٹیمیں مزید افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔
زلزلہ مقامی وقت کے مطابق شام ساڑھے چار بجے آیا۔ امریکی جیولوجیکل سروے (یو ایس جی ایس) نے ابتدائی طور پر زلزلے کی شدت 7.1 بتائی تھی، جسے بعد میں 6.8 کر دیا گیا۔ تاہم زلزلہ اتنا شدید تھا کہ اسے پڑوسی ملک جنوبی کوریا میں بھی محسوس کیا گیا۔ زلزلے کے بعد سونامی کی وارننگ جاری کی گئی، جسے بعد میں واپس لے لیا گیا۔
کماموٹو پریفیکچر میں زلزلے کے باعث کئی شاہراہوں میں دراڑیں پڑ گئیں، تاریخی کماموٹو قلعے کی دیواروں کو نقصان پہنچا، بعض علاقوں میں آگ بھڑک اٹھی جبکہ ہزاروں گھر بجلی سے محروم ہو گئے۔ متاثرہ اسپتالوں میں زخمیوں کا علاج جاری رہا، تاہم زلزلے کے مرکز کے قریب ایک اسپتال کو بجلی کی بندش کے باعث آپریشنز روکنے پڑے۔
جاپانی حکام کے مطابق 260,000 سے زائد افراد کو محفوظ مقامات اور عارضی پناہ گاہوں میں منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔ حکام نے لینڈ سلائیڈنگ، انفراسٹرکچر کو نقصان اور مزید آفٹر شاکس کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔ شدید گرمی کے باعث بے گھر ہونے والے افراد اور امدادی کارکنوں میں گرمی سے متعلق بیماریوں کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔
وزیراعظم سانائے تاکائیچی نے امدادی کارروائیوں کو “وقت کے خلاف دوڑ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ملبے تلے پھنسے افراد تک پہنچنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کر رہی ہے۔
زلزلے کا مرکز کماموٹو شہر کے جنوب مغرب میں ساحلی علاقے یوتو کے قریب بتایا گیا ہے۔ حکام کے مطابق قریبی کاگوشیما پریفیکچر میں واقع سینڈائی نیوکلیئر پاور پلانٹ میں کسی غیر معمولی صورتحال کی اطلاع نہیں ملی۔
جاپان بحرالکاہل کے زلزلہ خیز خطے “رِنگ آف فائر” پر واقع ہے، جہاں ہر سال ہزاروں زلزلے آتے ہیں۔ ملک کے سخت تعمیراتی قوانین اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے مؤثر نظام کے باوجود طاقتور زلزلے وقتاً فوقتاً آبادیوں کے لیے بڑا چیلنج بن جاتے ہیں۔
امدادی کارروائیاں جاری ہیں جبکہ آفٹر شاکس کے باعث شہری خوف و تشویش میں مبتلا ہیں۔ کماموٹو ایک بار پھر تباہی، نقصان کے ازالے اور نئی تعمیر نو کے مشکل مرحلے سے گزر رہا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.