جنگ کا نشانہ بنتا صحت کا نظام

شانزے وسیم

0

اسلام آباد

جنگوں کو عموماً فوجی کامیابیوں، علاقائی کنٹرول اور سیاسی نتائج کی بنیاد پر جانچا جاتا ہے، لیکن کسی بھی تنازعے کی اصل قیمت عام شہریوں کے مصائب اور ان اداروں کی تباہی سے ظاہر ہوتی ہے جو انسانی زندگی کو سہارا دیتے ہیں۔ اسرائیل-فلسطین تنازعے میں سب سے تشویشناک پہلوؤں میں سے ایک غزہ کے صحت کے نظام، طبی عملے اور ان مریضوں پر پڑنے والے اثرات ہیں جو اپنی زندگی بچانے کے لیے ہسپتالوں پر انحصار کرتے ہیں۔
اسرائیل-فلسطین تنازعے کی تاریخ بیسویں صدی کے آغاز تک جاتی ہے، جب سلطنت عثمانیہ کے خاتمے، فلسطین پر برطانوی کنٹرول کے قیام، مختلف قوم پرست تحریکوں کے درمیان اختلافات، اعلان بالفور اور یہودی ہجرت میں اضافے نے خطے کی سیاسی صورتحال کو تبدیل کیا۔ 1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد لاکھوں فلسطینی بے گھر ہوئے، جس کے نتیجے میں ایک ایسا تنازعہ پیدا ہوا جو جنگوں، قبضے، جبری نقل مکانی اور مسلسل تشدد کے واقعات سے عبارت ہے۔
1967 میں فلسطینی علاقوں پر قبضے اور غزہ و مغربی کنارے میں جاری تنازعات کے بعد سے انسانی حقوق اور بین الاقوامی انسانی قانون عالمی بحث کا اہم موضوع رہے ہیں۔ انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ اور جنیوا کنونشنز جیسے بین الاقوامی قوانین اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ مسلح تنازعات کے دوران شہریوں کو زندگی، تحفظ اور غیر انسانی سلوک سے بچاؤ کا حق حاصل ہے۔
صحت کی سہولیات کو بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت خصوصی تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ ہسپتال، ڈاکٹر، نرسیں اور طبی کارکن سیاسی شناخت یا کسی بھی وابستگی سے بالاتر ہو کر انسانی جانیں بچانے کے لیے کام کرتے ہیں، اس لیے انہیں جنگی حالات میں بھی تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔
تاہم، غزہ میں صحت کے نظام کی تباہی اور طبی سہولیات میں پیدا ہونے والے بحران نے انسانی حقوق کی تنظیموں، قانونی ماہرین اور امدادی اداروں میں شدید تشویش پیدا کی ہے۔
عالمی ادارہ صحت (WHO) ہیلتھ کلسٹر کی رپورٹس کے مطابق اکتوبر 2023 سے صحت کی سہولیات پر متعدد حملے ریکارڈ کیے گئے ہیں، جن میں طبی عملے اور مریضوں کی ہلاکتیں اور زخمی ہونے کے واقعات شامل ہیں۔ ان واقعات نے ہسپتالوں کو، جو عام طور پر تحفظ اور علاج کی علامت سمجھے جاتے ہیں، خوف اور غیر یقینی کی جگہ بنا دیا ہے۔
صحت کے بنیادی ڈھانچے کی تباہی کا اثر صرف جنگ میں زخمی ہونے والے افراد تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ پورے معاشرے کو متاثر کرتا ہے۔ ہنگامی علاج، زچگی کی سہولیات، دائمی بیماریوں کے علاج اور بنیادی طبی خدمات تک رسائی محدود ہونے سے عام شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہوتا ہے۔
الشفاء ہسپتال: غزہ کے صحت کے بحران کی علامت
الشفاء میڈیکل کمپلیکس، جو کبھی غزہ کا سب سے بڑا طبی مرکز سمجھا جاتا تھا، اب خطے کے تباہ حال صحت کے نظام کی نمایاں مثال بن چکا ہے۔
تنازعے کے دوران اس ہسپتال کو متعدد بار فوجی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا، جن میں نومبر 2023 اور مارچ 2024 کی کارروائیاں شامل ہیں۔ انسانی امدادی اداروں کے مطابق ان واقعات کے نتیجے میں ہسپتال کو شدید نقصان پہنچا، بجلی اور طبی سامان کی قلت پیدا ہوئی اور طبی خدمات بری طرح متاثر ہوئیں۔
نومبر 2023 کی کارروائی کے دوران ہسپتال میں سینکڑوں مریض موجود تھے، جن میں قبل از وقت پیدا ہونے والے بچے، ڈائیلاسز کے مریض اور انتہائی نگہداشت کے ضرورت مند افراد شامل تھے۔ رپورٹس کے مطابق بجلی کی بندش اور بنیادی سہولیات کے فقدان نے مریضوں کی زندگیوں کو شدید خطرے میں ڈال دیا۔
اسرائیل نے اپنی فوجی کارروائیوں کا دفاع کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ حماس نے الشفاء ہسپتال سمیت طبی مراکز کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ اسرائیلی حکام کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کے حملے، جس میں اسرائیلی شہری ہلاک ہوئے اور افراد کو یرغمال بنایا گیا، کے بعد قومی سلامتی کے لیے ایسی کارروائیاں ضروری تھیں۔
تاہم، ناقدین کا مؤقف ہے کہ اگر کسی طبی مرکز کے فوجی استعمال کے الزامات بھی موجود ہوں تو بین الاقوامی قانون شہریوں کے تحفظ اور طبی سہولیات کو غیر ضروری نقصان سے بچانے کے لیے احتیاطی اقدامات کا تقاضا کرتا ہے۔
یہ بحث جدید جنگوں کے ایک بڑے چیلنج کو ظاہر کرتی ہے کہ ریاستی سلامتی کے تقاضوں اور شہری زندگی کے تحفظ کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے۔
کمال عدوان ہسپتال کا بحران
شمالی غزہ کا کمال عدوان ہسپتال بھی صحت کے بحران کی ایک اہم مثال ہے۔
انسانی امدادی رپورٹس کے مطابق دسمبر 2024 میں ہسپتال کو گھیرے میں لیا گیا اور اس پر کارروائی کی گئی، جس کے دوران مریضوں، بچوں اور بے گھر افراد کو خوراک، پانی اور بجلی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑا۔ عالمی ادارہ صحت نے اس عرصے کے دوران مریضوں میں اموات کی بھی اطلاع دی، جن میں بچے بھی شامل تھے۔
اسرائیلی حکام کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی اس لیے کی گئی کیونکہ ہسپتال مبینہ طور پر فوجی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہو رہا تھا۔ تاہم، ہسپتال کے عملے نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ مرکز بنیادی طور پر طبی اور انسانی ضروریات پوری کر رہا تھا۔
ایسے واقعات اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ جنگی حالات میں طبی سہولیات کا تحفظ کتنا پیچیدہ مسئلہ بن چکا ہے۔ مختلف فریقوں کے مؤقف سے قطع نظر، جب ہسپتال کام کرنے کی صلاحیت کھو دیتے ہیں تو اس کا سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔
طبی کارکنوں کو درپیش خطرات
غزہ میں طبی کارکنوں کو بھی شدید خطرات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ڈاکٹر، نرسیں اور پیرامیڈیکل اسٹاف بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت محفوظ افراد تصور کیے جاتے ہیں کیونکہ ان کا بنیادی مقصد بلاامتیاز طبی امداد فراہم کرنا ہوتا ہے۔
تاہم، طبی عملے کی ہلاکتوں، زخمی ہونے اور گرفتاریوں کی رپورٹس نے ان کے تحفظ کے حوالے سے اہم سوالات اٹھائے ہیں۔ ہسپتالوں کے منتظمین اور سینئر ڈاکٹروں کی گرفتاریوں نے پہلے سے دباؤ کا شکار صحت کے نظام کو مزید کمزور کیا ہے، کیونکہ ایسے وقت میں تجربہ کار قیادت کی ضرورت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔
کمال عدوان ہسپتال کے سربراہ ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کی گرفتاری کا معاملہ بھی عالمی سطح پر زیر بحث آیا۔ انسانی حقوق کے کارکنوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ایسے طبی پیشہ ور افراد کو نشانہ بنانا جو جنگی حالات اور انسانی بحران کے بارے میں آواز اٹھاتے ہیں، صحت کے شعبے پر مزید دباؤ بڑھاتا ہے۔
جنگ کے دوران صحت کی سہولیات کا تحفظ صرف قانونی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک انسانی فریضہ بھی ہے۔ ہسپتال اور طبی کارکن ایسے محفوظ مقامات ہونے چاہئیں جہاں زندگی بچانے کا مقصد ہر دوسرے مفاد پر مقدم رہے۔
انسانی حقوق کا مستقبل صرف قوانین کی موجودگی پر منحصر نہیں بلکہ اس بات پر بھی منحصر ہے کہ عالمی برادری ان اصولوں کو اس وقت کس حد تک برقرار رکھتی ہے جب ان کا سب سے زیادہ امتحان ہو رہا ہو۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.