اے جے کے نتائج نے سیاسی درجہ حرارت کیوں بڑھا دیا؟

نیوز ڈیسک

0

مظفرآباد

آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے نتائج پر سیاسی بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے انتخابات کے پہلے مرحلے کی شفافیت کا دفاع کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی جانب سے لگائے گئے بے ضابطگیوں کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے اور متاثرہ جماعتوں کو قانونی راستہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
اسلام آباد میں وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان امیر مقام کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا کہ 27 جولائی کو آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کی 13 نشستوں پر ہونے والے انتخابات پرامن، آزادانہ، منصفانہ اور قابل اعتماد ماحول میں منعقد ہوئے۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام نے اپنے نمائندوں کا انتخاب کر کے جمہوری حق استعمال کیا، جبکہ نتائج پر تحفظات رکھنے والی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ انتخابی عمل پر سوالات اٹھانے کے بجائے آئینی اور قانونی فورمز سے رجوع کریں۔
الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ مسلم لیگ (ن) نے 13 میں سے 9 نشستوں پر کامیابی حاصل کی، جبکہ پیپلز پارٹی 4 نشستیں جیتنے میں کامیاب رہی۔
دوسری جانب وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری کے ہمراہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے انتخابات کے انعقاد پر اٹھائے گئے اعتراضات کو مسترد کر دیا۔
احسن اقبال نے کہا کہ بلاول بھٹو کے بیانات جمہوری رویے کی عکاسی نہیں کرتے اور انہیں عوامی مینڈیٹ کا احترام کرنا چاہیے، نہ کہ بے بنیاد الزامات عائد کرنے چاہئیں۔
انہوں نے سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکمرانی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ آزاد کشمیر کے ووٹرز نے پیپلز پارٹی کی کارکردگی کو مسترد کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے ترقیاتی ایجنڈے پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.