امریکہ اور ایران آمنے سامنے، خطے میں جنگ کا دائرہ وسیع

نیوز ڈیسک

0

واشنگٹن/تہران

امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی مزید خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جہاں دونوں ممالک کے درمیان حملوں اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ خطے کے دیگر ممالک تک پھیلنے لگا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق امریکی افواج نے بدھ کی شام ایران کے اندر تازہ حملے کیے۔ امریکی حکام نے ان کارروائیوں کو مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اہلکاروں کو نشانہ بنانے والے حالیہ حملوں کا جواب قرار دیا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب تنازعہ اپنے مرکزی محاذوں سے نکل کر عراق، اردن، مصر اور دیگر علاقائی ممالک تک پہنچ چکا ہے، جس سے ایک وسیع علاقائی جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
برطانوی میری ٹائم سیکیورٹی کمپنی ایمبری کے مطابق مصر کی بحیرہ روم کی بندرگاہ دمیتا پر ایک امریکی ملکیتی گیس ذخیرہ کرنے والے ٹینکر کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ تاہم مصری حکام نے بندرگاہ پر آتشزدگی کی تصدیق کی ہے، لیکن فوری طور پر اس کی وجہ واضح نہیں کی گئی۔
دوسری جانب امریکی اور سعودی افواج نے مشرقی عراق میں ایران نواز گروہوں کے خلاف حملے کیے ہیں۔ ان واقعات نے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے کہ خطے کے مزید ممالک اس تنازعے کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔
یمن کی حوثی تحریک کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کے اعلان کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے، جس سے خطے میں اہم بحری راستوں کی سلامتی پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
ٹرمپ کا سخت ردعمل، ایران کے جوابی حملے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے خطے میں امریکی اہداف پر حملوں کے بعد سخت جواب دینے کا اعلان کیا۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ واشنگٹن تہران کے ساتھ ممکنہ سفارتی حل کی کوششیں جاری رکھے گا۔
ایران نے اردن میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے میزائل حملوں کی تصدیق کی ہے۔ تہران نے آبنائے ہرمز میں جہازوں کے خلاف کارروائیوں کا بھی دعویٰ کیا، جو دنیا کے اہم ترین توانائی کے راستوں میں شمار ہوتی ہے۔
تازہ فوجی کارروائیوں کے اثرات عالمی توانائی کی منڈیوں پر بھی نظر آئے۔ بدھ کے روز عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا، جہاں برینٹ کروڈ کی قیمت 8 فیصد سے زائد بڑھ کر 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔
عراق دو طاقتوں کے درمیان دباؤ میں
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازعے نے عراق کو ایک پیچیدہ صورتحال میں ڈال دیا ہے، جہاں بغداد بیک وقت واشنگٹن اور تہران کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
عراق میں ایران نواز گروہوں کے خلاف امریکی اور سعودی حملوں میں متعدد افراد کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے بعد مقامی سطح پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔ بعض مقامات پر جنازوں کے دوران امریکہ مخالف نعرے بھی لگائے گئے۔
عراقی حکام نے ان حملوں کو ملکی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے تمام فریقوں سے کشیدگی کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
عراقی وزیر اعظم علی الزیدی کے دفتر نے بھی تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ وہ مزید کارروائیوں سے گریز کریں اور عراق کو علاقائی تنازعات کا میدان نہ بنائیں۔
امریکی فوج کو درپیش چیلنجز
حالیہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی حکام نے ایران کے خلاف طویل فوجی کارروائیوں کے حوالے سے مشکلات کا اظہار کیا ہے۔
دفاعی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر تنازع مزید پھیلتا ہے تو جدید فضائی دفاعی نظام اور میزائل دفاعی صلاحیتوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
ایران نے عراقی سرزمین سے براہ راست حملوں کے الزامات کو مسترد کیا ہے، جبکہ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق عراق میں ہونے والی کارروائیوں میں پاسداران انقلاب کے کئی مشیر ہلاک ہوئے ہیں۔
آبنائے ہرمز کے گرد بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی توانائی کی سپلائی کے حوالے سے بھی خدشات پیدا کر دیے ہیں، کیونکہ اس راستے میں کسی بھی بڑی رکاوٹ کے عالمی معیشت پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو یہ تنازع ایک وسیع علاقائی جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے، جس میں مزید ممالک کے شامل ہونے کا خطرہ موجود ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.