مانسہرہ
شمالی پاکستان کے دشوار گزار پہاڑوں میں، جہاں جنگلی حیات اکثر خوف، غلط فہمیوں اور لاعلمی کے باعث خطرات کا سامنا کرتی ہے، ایک خاتون ماہر حیوانیات فطرت کے ان خاموش کرداروں کے تحفظ کے لیے سرگرم عمل ہیں۔
مانسہرہ سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر سندس زاہد جنگلی حیات کے بارے میں عوامی سوچ کو بدلنے اور نایاب و خطرے سے دوچار انواع کے تحفظ کے لیے کام کر رہی ہیں۔ ان کی کوشش ہے کہ خوف کی جگہ علم اور غلط فہمیوں کی جگہ سائنسی حقائق کو فروغ دیا جائے۔
گزشتہ کئی برسوں سے ڈاکٹر سندس زاہد ہزارہ ڈویژن اور آزاد جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں جنگلی حیات کے تحفظ کے منصوبوں سے وابستہ ہیں۔ ان کا کام سانپوں، رینگنے والے جانوروں، پرندوں، کیڑے مکوڑوں اور دیگر انواع کے تحفظ، مشاہدے اور سائنسی مطالعے پر مرکوز ہے۔
وہ سمجھتی ہیں کہ ہر جاندار کا قدرتی نظام میں ایک اہم کردار ہوتا ہے اور کسی بھی نوع کو صرف خوف کی بنیاد پر ختم کرنا ماحولیاتی توازن کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
فیلڈ ورک کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر سندس زاہد سوشل میڈیا کو بھی عوامی آگاہی کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔ وہ معلوماتی ویڈیوز اور حقائق پر مبنی مواد کے ذریعے لوگوں کو جنگلی حیات کے بارے میں تعلیم دیتی ہیں تاکہ معاشرے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کیا جا سکے۔
ان کی کوششوں کو مقامی کمیونٹیز، زمینداروں، طلبہ اور شہریوں کی جانب سے سراہا گیا ہے، جنہوں نے جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے ان کی لگن اور محنت کو قریب سے دیکھا ہے۔
ڈاکٹر سندس زاہد کے مطابق فیلڈ میں کام کرنا آسان نہیں، خاص طور پر ایک خاتون کے لیے کئی چیلنجز سامنے آتے ہیں۔
“ایک عورت کے طور پر آپ کو اکثر اپنی صلاحیتوں کے بارے میں شکوک اور غلط فہمیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن عزم، اعتماد اور تعاون کے ذریعے ان رکاوٹوں کو عبور کیا جا سکتا ہے۔”
ان کا سفر ہمت، سائنس اور ثابت قدمی کی مثال ہے۔ جہاں بہت سے لوگ سانپوں اور دیگر جنگلی حیات سے خوف محسوس کرتے ہیں، وہیں ڈاکٹر سندس زاہد انہیں سمجھ بوجھ اور احتیاط کے ساتھ قریب سے دیکھتی ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ جانوروں کے غیر ضروری قتل کو روکنے کے لیے تعلیم اور آگاہی سب سے اہم ذریعہ ہے۔
“پاکستان میں پائے جانے والے زمینی سانپوں کی صرف چار یا پانچ اقسام زہریلی ہیں، جبکہ زیادہ تر سانپ بے ضرر ہوتے ہیں اور ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔”
جنگلی حیات کے تحفظ کے سلسلے میں ان کا کام انہیں ہزارہ ڈویژن اور آزاد جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں تک لے گیا، جہاں انہوں نے قومی اور بین الاقوامی منصوبوں میں بھی حصہ لیا۔ زخمی جانوروں کو بچانا، نایاب نسلوں کا تحفظ اور لوگوں کو فطرت کے ساتھ ہم آہنگ زندگی گزارنے کے بارے میں آگاہ کرنا ان کے مشن کا حصہ ہے۔
ڈاکٹر سندس زاہد کے لیے سوشل میڈیا محض تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک طاقتور تعلیمی پلیٹ فارم ہے۔
وہ کہتی ہیں، “میں نے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنائے جہاں آگاہی کے لیے مختصر ویڈیوز شیئر کرتی ہوں تاکہ لوگ ان جانوروں کے بارے میں جان سکیں، حقائق کو سمجھ سکیں اور اپنے اردگرد موجود خرافات سے آگے بڑھ سکیں۔”
ان کے مطابق لوگوں کو ہر جاندار کو خوف کی بنیاد پر مارنے سے گریز کرنا چاہیے، کیونکہ ہر مخلوق کا قدرتی نظام میں ایک مقصد ہوتا ہے۔
اپنی مسلسل کوششوں کے ذریعے ڈاکٹر سندس زاہد نئی نسل کو یہ پیغام دے رہی ہیں کہ جنگلی حیات کوئی خطرہ نہیں بلکہ پاکستان کے قدرتی ورثے کا ایک اہم حصہ ہے، جو احترام، تحفظ اور بہتر سمجھ بوجھ کا مستحق ہے۔
