صرف 5 ڈالر کی بجلی میں 11 ٹن وزنی طیارے کی پہلی کامیاب پرواز

0

یوز ڈیسک
صاف اور کم کاربن والی ہوا بازی کی جانب پیش قدمی میں ایک اہم سنگ میل اس وقت سامنے آیا جب پورے حجم کے بیٹری سے چلنے والے ایک برقی طیارے نے امریکا میں اپنی پہلی آزمائشی پرواز مکمل کرلی۔ ماہرین کے مطابق یہ تجربہ اس بات کا جائزہ لینے میں مدد دے سکتا ہے کہ برقی ٹیکنالوجی مستقبل میں مختصر فاصلے کی علاقائی پروازوں کو کس حد تک تبدیل کر سکتی ہے۔
سویڈش امریکی ایرو اسپیس کمپنی ہارٹ ایرو اسپیس نے 12 اگست کو نیویارک کے پلاٹسبرگ انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے اپنے تجرباتی X-One طیارے کو پہلی مرتبہ فضا میں اڑایا۔ یہ پرواز کمپنی کی جانب سے علاقائی ہوائی سفر کے لیے برقی اور ہائبرڈ طیارے تیار کرنے کی کوشش میں ایک اہم مرحلہ قرار دی جا رہی ہے۔
X-One تقریباً 27 منٹ تک فضا میں رہا اور اس دوران تقریباً 335 میٹر (1,100 فٹ) کی بلندی تک پہنچا۔ 11 ٹن سے زیادہ وزن رکھنے والا یہ طیارہ چار الیکٹرک موٹرز سے چلتا ہے، جو مجموعی طور پر ایک میگاواٹ سے زیادہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
صرف 5 ڈالر کی بجلی؟
اس آزمائشی پرواز سے سامنے آنے والی ایک دلچسپ تفصیل بجلی سے چلنے والے طیاروں کے ممکنہ معاشی فوائد سے متعلق ہے۔ کمپنی کے مطابق پرواز کے دوران استعمال ہونے والی بجلی کی لاگت تقریباً 5 ڈالر رہی۔
تاہم اس رقم کو مکمل پرواز کی لاگت سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ اس میں طیارے کی قیمت، بیٹری سسٹم، پائلٹ، انشورنس، ہوائی اڈے کے اخراجات، دیکھ بھال اور دیگر آپریشنل اخراجات شامل نہیں ہیں۔ اس لیے یہ اعداد و شمار بنیادی طور پر برقی توانائی کی کم لاگت کو ظاہر کرتے ہیں، نہ کہ تجارتی پرواز کے مجموعی اخراجات کو۔
مسافر طیارہ نہیں بلکہ اڑتی ہوئی تجربہ گاہ
X-One کو براہ راست تجارتی مسافر طیارے کے طور پر استعمال کرنے کا منصوبہ نہیں ہے۔ ہارٹ ایرو اسپیس اسے ایک اڑتی ہوئی تجربہ گاہ کے طور پر استعمال کر رہی ہے، جہاں انجینئرز حقیقی پرواز کے حالات میں بیٹریوں، الیکٹرک موٹرز، فلائٹ کنٹرول سسٹمز اور مینوفیکچرنگ سے متعلق ٹیکنالوجی کا جائزہ لے سکیں گے۔
کمپنی اس طیارے سے حاصل ہونے والے تجربات کو اپنے اصل تجارتی منصوبے، 30 نشستوں والے ES-30 علاقائی طیارے کی تیاری میں استعمال کرنا چاہتی ہے۔ ES-30 کو خاص طور پر مختصر فاصلے کے ان علاقائی روٹس کے لیے ڈیزائن کیا جا رہا ہے جو چھوٹے شہروں اور کمیونٹیز کو ایک دوسرے سے ملاتے ہیں۔
ہارٹ ایرو اسپیس کے مطابق ES-30 صرف بیٹری کی طاقت پر تقریباً 200 کلومیٹر تک پرواز کر سکے گا، جبکہ ہائبرڈ کنفیگریشن میں اس کی پرواز کی حد تقریباً 800 کلومیٹر تک بڑھائی جا سکتی ہے۔
بیٹری کا وزن اب بھی سب سے بڑا مسئلہ
برقی ہوا بازی کے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ بیٹریوں کی توانائی کی کثافت ہے۔ روایتی ہوا بازی کے ایندھن کے مقابلے میں بیٹریاں اپنے وزن کے لحاظ سے کہیں کم توانائی فراہم کرتی ہیں، جس کے باعث بڑے اور طویل فاصلے کے مسافر طیاروں کو مکمل طور پر برقی بنانا فی الحال انتہائی مشکل ہے۔
اسی لیے صنعت میں طویل فاصلے کی پروازوں کو فوری طور پر برقی بنانے کے بجائے مختصر علاقائی روٹس کو زیادہ حقیقت پسندانہ ابتدائی میدان سمجھا جا رہا ہے۔ ایسے روٹس پر نسبتاً کم فاصلے اور چھوٹے طیارے برقی یا ہائبرڈ ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے زیادہ موزوں ہو سکتے ہیں۔
برسوں کی تیاری کے بعد عملی آزمائش
ہارٹ ایرو اسپیس نے برقی ہوا بازی کی ٹیکنالوجی پر برسوں کام کیا ہے اور اس منصوبے کو بڑی سرمایہ کاری بھی حاصل ہوئی ہے۔ کمپنی نے 2021 میں35 ملین ڈالر جبکہ 2024 میں مزید 107 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی، جس سے برقی طیاروں اور متعلقہ ٹیکنالوجیز کی ترقی میں مدد ملی۔
امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (FAA) نے 2026 میں X-One کو خصوصی فلائٹ سرٹیفکیٹ جاری کیا، جس کے بعد کمپنی کو طیارے کی آزمائشی پروازیں شروع کرنے کی اجازت ملی۔
کمپنی کا اگلا بڑا ہدف ES-30 کو پری پروڈکشن ٹیسٹنگ کے مرحلے تک لے جانا ہے۔ ہارٹ نے 2028 میں مزید بڑے پیمانے پر فلائٹ ٹیسٹ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، جبکہ تقریباً 2031 میں ریگولیٹری منظوری حاصل کرکے طیارے کو سروس میں شامل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ تاہم یہ تمام اہداف مسلسل آزمائش، حفاظتی جانچ اور ریگولیٹری منظوری کے نتائج سے مشروط ہیں۔
پہلی پرواز کی اصل اہمیت کیا ہے؟
X-One کی پہلی پرواز کی اہمیت صرف اس بات میں نہیں کہ ایک بڑا بیٹری سے چلنے والا طیارہ تقریباً 27 منٹ تک فضا میں رہا، بلکہ اصل اہمیت اس ڈیٹا میں ہے جو حقیقی پرواز کے دوران حاصل ہوگا۔
انجینئرز اب یہ جانچ سکیں گے کہ بیٹریاں، الیکٹرک پروپلشن سسٹم اور دیگر اہم اجزا حقیقی ہوا بازی کے حالات میں کس طرح کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ یہی معلومات مستقبل میں یہ طے کرنے میں مدد دے سکتی ہیں کہ برقی اور ہائبرڈ طیاروں کو تجرباتی منصوبوں سے تجارتی آپریشنز تک کتنی تیزی سے منتقل کیا جا سکتا ہے۔
یہ پیش رفت ہوا بازی کی صنعت میں ایک وسیع تر تبدیلی کی بھی عکاسی کرتی ہے۔ اگرچہ بیٹری سے چلنے والے طیارے مستقبل قریب میں طویل فاصلے کے بڑے مسافر طیاروں کی جگہ لینے کے لیے تیار نظر نہیں آتے، لیکن علاقائی ہوا بازی برقی کاری کے لیے ایک زیادہ قابلِ عمل نقطۂ آغاز بن سکتی ہے۔
چھوٹے شہروں کے درمیان مختصر پروازوں پر انحصار کرنے والی کمیونٹیز کے لیے برقی یا ہائبرڈ طیارے مستقبل میں روایتی ایندھن سے چلنے والے طیاروں کا متبادل فراہم کر سکتے ہیں۔ اس سے نہ صرف کاربن اخراج میں کمی کی امید ہے بلکہ ہوائی اڈوں اور قریبی آبادیوں میں شور کی آلودگی بھی کم ہو سکتی ہے۔
تاہم بڑے چیلنجز اب بھی موجود ہیں۔ بیٹریوں کی توانائی کی کثافت، پرواز کی حد، چارجنگ انفراسٹرکچر، مسافروں کی گنجائش، قابلِ اعتماد آپریشن اور سخت حفاظتی و ریگولیٹری تقاضے وہ عوامل ہیں جنہیں حل کیے بغیر برقی ہوا بازی کو بڑے پیمانے پر تجارتی طور پر قابلِ عمل بنانا مشکل ہوگا۔
فی الحال X-One کی پہلی آزمائشی پرواز برقی مسافر ہوا بازی کے مکمل آغاز کی علامت نہیں، بلکہ اس سمت ایک اہم عملی قدم ہے۔ اس تجربے سے حاصل ہونے والا ڈیٹا یہ سمجھنے میں مدد دے گا کہ آیا بیٹری سے چلنے والی ٹیکنالوجی واقعی علاقائی ہوائی سفر کو مستقبل میں زیادہ صاف، کم شور اور زیادہ مؤثر بنا سکتی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.