نیوز ڈیسک
اسلام آباد:ایف آئی ایچ مینز ہاکی ورلڈ کپ 2026 میں پاکستان کی مہم کا آغاز انگلینڈ کے ہاتھوں 4-1 کی شکست سے ہوا، تاہم میچ کے دوران پیش آنے والے ایک آف فیلڈ واقعے نے ٹیم کی تیاری اور انتظامی امور پر بھی سوالات اٹھا دیے۔
پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان میچ کے دوران تقریباً 17ویں منٹ میں انگلینڈ کو پنالٹی کارنر ملا تو پاکستان کو پنالٹی کارنر کے لیے درکار حفاظتی سامان فوری طور پر دستیاب نہ ہونے کے باعث مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
صورتحال اس وقت نمایاں ہوئی جب پاکستان کے ایک کھلاڑی کو ضروری سامان لینے کے لیے ڈریسنگ روم واپس جانا پڑا، جبکہ سامان بعد ازاں ایک بڑے سیاہ بیگ میں میدان میں لایا گیا۔
سامان کی تاخیر کے باعث پاکستان کے کپتان ابوبکر محمود کو ریفری نے گرین کارڈ دکھایا اور انہیں دو منٹ کے لیے میدان سے باہر جانا پڑا۔
اگرچہ اس واقعے نے میچ کے حتمی نتیجے کا براہ راست تعین نہیں کیا، تاہم عالمی کپ جیسے بڑے بین الاقوامی ایونٹ میں بنیادی حفاظتی سامان کی عدم دستیابی نے پاکستان کی تیاریوں اور انتظامی نظم و ضبط سے متعلق سوالات ضرور کھڑے کر دیے۔
پاکستان کے سابق کپتان سلمان اکبر نے بھی سوشل میڈیا پر اس واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے اسے پاکستان ہاکی کے لیے ایک اور ’’ناپسندیدہ ریکارڈ‘‘ قرار دیا۔
سلمان اکبر نے سوال اٹھایا کہ ورلڈ کپ جیسے بڑے مقابلے میں پنالٹی کارنر کے لیے ضروری حفاظتی سامان ڈریسنگ روم میں کیسے رہ گیا۔ ان کے مطابق اعلیٰ سطح کی ہاکی میں کامیابی کے لیے صرف فٹنس، حکمت عملی اور تکنیکی صلاحیت کافی نہیں بلکہ نظم و ضبط، تنظیم اور پیشگی تیاری بھی اتنی ہی اہم ہیں۔
دوسری جانب میدان میں انگلینڈ نے میچ کے ابتدائی مرحلے سے ہی پاکستان پر دباؤ برقرار رکھا اور بالآخر 4-1 سے کامیابی حاصل کی۔ شکست کے بعد پاکستان کے لیے گروپ مرحلے میں غلطی کی گنجائش مزید کم ہوگئی ہے اور اگلے میچوں میں بہتر کارکردگی کے ساتھ مستقل مزاجی بھی ضروری ہوگی۔
پاکستان اب 17 اگست کو ویلز جبکہ 19 اگست کو روایتی حریف بھارت کے خلاف میدان میں اترے گا۔ یہ دونوں میچز پاکستان کے لیے ٹورنامنٹ میں واپسی کے حوالے سے انتہائی اہم ہوں گے۔
پاکستان ہاکی کی شاندار تاریخ اور سابق عالمی چیمپئن کی حیثیت کے باعث ٹیم سے ورلڈ کپ میں بہتر کارکردگی کی توقع کی جا رہی ہے۔ ایسے میں انگلینڈ کے خلاف شکست کے ساتھ سامنے آنے والا حفاظتی سامان کا واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ٹیم کو میدان کے اندر کارکردگی کے ساتھ ساتھ میدان سے باہر تیاری، نظم و ضبط اور انتظامی امور پر بھی توجہ دینا ہوگی۔
