نیوز ڈیسک
اسلام آباد: وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی سے دہشت گردی، انسدادِ دہشت گردی کی پالیسی اور صوبے میں عسکریت پسندوں کی مبینہ آبادکاری سے متعلق پانچ سوالات کے جواب طلب کرتے ہوئے انہیں اس معاملے پر ٹیلی ویژن مباحثے کا چیلنج دیا ہے۔
خواجہ آصف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر جاری ایک بیان میں پی ٹی آئی کی زیرِ قیادت خیبر پختونخوا حکومت کے عسکریت پسندی سے نمٹنے کے طرزِ عمل پر سوالات اٹھائے اور کہا کہ صوبائی حکومت کو اپنی پالیسی اور فیصلوں کی وضاحت کرنی چاہیے۔
وفاقی وزیر دفاع نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان اپنے دورِ حکومت میں خیبر پختونخوا میں عسکریت پسندوں کی آبادکاری کے سب سے بڑے حامی رہے۔ ان کے مطابق اسمبلی تقاریر اور میڈیا رپورٹس میں ایسے شواہد موجود ہیں جو پی ٹی آئی کے اس وقت کے مؤقف کی عکاسی کرتے ہیں۔
انہوں نے پی ٹی آئی کے اس مؤقف پر بھی سوال اٹھایا کہ صوبائی حکومت کو مؤثر انسدادِ دہشت گردی پالیسی بنانے کے لیے مطلوبہ اختیار یا گنجائش فراہم نہیں کی گئی۔ خواجہ آصف نے کہا کہ اگر صوبائی حکومت کے پاس اختیار تھا تو اسے اپنی کارکردگی اور کیے گئے اقدامات کی وضاحت کرنی چاہیے۔
وزیر دفاع نے دہشت گردی کے واقعات میں جاں بحق ہونے والے شہریوں کے خاندانوں سے صوبائی حکومت کے رابطے پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی یا صوبائی قیادت نے دہشت گردی کے متاثرین کے گھروں کا دورہ کرکے ان کے اہلِ خانہ سے تعزیت کی ہے۔
خواجہ آصف نے وفاقی سیکیورٹی میکانزم میں خیبر پختونخوا حکومت کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے، جن میں ایپکس کمیٹی کے اجلاسوں میں صوبائی حکومت کی شرکت اور نیشنل ایکشن پلان پر اس کے ردعمل سے متعلق امور شامل ہیں۔
انہوں نے افغانستان سے منسلک عسکریت پسندانہ سرگرمیوں کی مبینہ طور پر کھل کر مذمت نہ کرنے پر بھی صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں میں جانیں قربان کرنے والے مسلح افواج اور پولیس اہلکاروں کے ساتھ صوبائی حکومت کی جانب سے یکجہتی کا اظہار بھی سامنے آنا چاہیے۔
وفاقی وزیر نے الزام عائد کیا کہ مرکز میں اقتدار سے محرومی کے بعد پی ٹی آئی کی حمایت یافتہ یکے بعد دیگرے آنے والی صوبائی حکومتوں نے وفاقی حکومت کے ساتھ محاذ آرائی کو ترجیح دی۔ انہوں نے صوبائی حکومت پر ریاستی وسائل کے مبینہ غلط استعمال اور عسکریت پسندوں کو بھتے کی رقوم سے فائدہ پہنچنے کی اجازت دینے کا بھی الزام عائد کیا۔
خواجہ آصف کے مطابق عوام کو یہ جاننے کا حق حاصل ہے کہ عسکریت پسندی اور سیکیورٹی پالیسی کے حوالے سے پی ٹی آئی کی صوبائی حکومتوں نے ماضی میں کیا فیصلے کیے اور ان کے کیا نتائج سامنے آئے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو درپیش اندرونی اور بیرونی خطرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے، جبکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مسلح افواج اور شہریوں کی قربانیوں کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔
وفاقی وزیر دفاع کے یہ بیانات وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کی زیرِ قیادت خیبر پختونخوا حکومت کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کے پس منظر میں سامنے آئے ہیں، جہاں دہشت گردی، عسکریت پسندی اور صوبے کی بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال ایک بار پھر سیاسی محاذ آرائی کے اہم موضوعات بن گئے ہیں۔
