نیوز ڈیسک
اسلام آباد: چین کے صوبہ گوئی ژو میں تعمیر کیا گیا ہواجیانگ گرینڈ کینین پل صرف ایک ٹرانسپورٹ منصوبہ نہیں رہا بلکہ جدید انجینئرنگ، قدرتی مناظر اور ایڈونچر سرگرمیوں کے امتزاج سے ایک منفرد سیاحتی مقام میں تبدیل ہو گیا ہے۔
زمین سے 625 میٹر بلند یہ پل دنیا کے بلند ترین پلوں میں شامل ہے، جسے پہاڑی علاقے میں آمدورفت کے مسائل کم کرنے کے لیے تعمیر کیا گیا تھا۔ ستمبر 2025 میں عوام کے لیے کھولے جانے کے بعد یہ پل مقامی اور غیر ملکی سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن گیا۔
پل کی خاص بات صرف اس کی بلندی نہیں بلکہ یہاں فراہم کیے گئے تفریحی تجربات بھی ہیں۔ پل پر شیشے کے راستے بنائے گئے ہیں جہاں سے سیاح وادی کا دلکش نظارہ کر سکتے ہیں، جبکہ پل کے ٹاورز میں کیفے اور دیگر سہولیات بھی موجود ہیں۔
ایڈونچر کے شوقین افراد کے لیے یہاں بنجی جمپنگ سمیت مختلف سرگرمیوں کا انتظام کیا گیا ہے، جبکہ پل کی سب سے نمایاں کشش 300 میٹر طویل مصنوعی آبشار ہے، جسے رات کے وقت لیزر لائٹس کے ذریعے مزید دلکش بنا دیا جاتا ہے۔
یہ منصوبہ گوئی ژو کے دشوار گزار پہاڑی علاقے میں رابطوں کو بہتر بنانے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔ پل کی تعمیر سے پہلے وادی کے ایک طرف سے دوسری جانب جانے میں تقریباً دو گھنٹے لگتے تھے، تاہم اب یہی سفر تقریباً ایک منٹ میں مکمل ہو جاتا ہے۔
تقریباً 9,482 فٹ طویل اس پل کی تعمیر میں لگ بھگ 20 ہزار ٹن اسٹیل استعمال کیا گیا، جو تقریباً تین ایفل ٹاورز میں استعمال ہونے والے اسٹیل کے برابر ہے۔ تعمیراتی کام جنوری 2022 میں شروع ہوا اور تقریباً چار سال کی محنت کے بعد اسے عوام کے لیے کھول دیا گیا۔
ہواجیانگ گرینڈ کینین پل چین کے اس رجحان کی مثال بن گیا ہے جہاں بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں کو صرف نقل و حمل کے ذرائع تک محدود رکھنے کے بجائے سیاحت اور تفریحی مراکز میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔
یہ پل اب نہ صرف فاصلے کم کر رہا ہے بلکہ جدید تعمیراتی صلاحیت، قدرتی حسن اور سیاحتی تجربات کو ایک ہی مقام پر جمع کر کے ایک نئے طرز کے سفری مقام کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔
