عمرکوٹ کیسے محفوظ اسکولوں کے ذریعے لڑکیوں کی تعلیم کو فروغ دے رہا ہے؟ 

0

علی نواز رحیمو

عمرکوٹ: دیہی عمرکوٹ میں کسی بچے کے گھر سے پیدل فاصلے پر اسکول کا موجود ہونا اس بات کی ضمانت نہیں کہ تعلیم بھی اس کی پہنچ میں ہے۔

خاص طور پر لڑکیوں کے لیے اسکول کی عمارت سے کہیں زیادہ اہم وہاں دستیاب بنیادی سہولیات ہوتی ہیں۔ ایک نجی بیت الخلا، محفوظ چار دیواری، صاف پینے کا پانی اور شدید گرمی میں قابلِ استعمال کلاس روم بعض اوقات اس بات کا فیصلہ کر سکتے ہیں کہ بچی اسکول جائے گی یا گھر پر رہے گی۔

عمرکوٹ کے پانچ سرکاری اسکولوں میں حالیہ بحالی کے بعد یہ صورتحال تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اسکولوں میں محفوظ حفظانِ صحت کی سہولیات، صاف پانی، شمسی توانائی، بہتر کلاس رومز اور موسمیاتی خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے زیادہ موزوں بنیادی ڈھانچہ فراہم کیا گیا ہے۔

اس تبدیلی کی ایک جھلک داخلوں کے اعداد و شمار میں بھی نظر آتی ہے۔

ان پانچ اسکولوں میں طالبات کی تعداد 208 سے بڑھ کر 266 ہوگئی، جو تقریباً 28 فیصد اضافہ ہے۔ اسی عرصے میں مجموعی داخلے 514 سے بڑھ کر 612 ہوگئے، یعنی 19 فیصد سے زائد اضافہ۔

تاہم، یہ اعداد و شمار خود اس بات کا حتمی ثبوت نہیں کہ داخلوں میں اضافہ صرف اسکولوں کی بحالی کے باعث ہوا۔ بچوں کی تعلیم سے متعلق فیصلوں پر گھریلو آمدنی، سماجی رویے، اسکول کا معیار اور دیگر کئی عوامل اثر انداز ہوتے ہیں۔

اس کے باوجود اساتذہ اور کمیونٹی نمائندوں کا کہنا ہے کہ بہتر سہولیات نے بچوں، بالخصوص لڑکیوں کے لیے اسکول کا ماحول زیادہ محفوظ اور بہتر بنایا ہے۔

جب اسکول کا ہونا کافی نہیں ہوتا

بحالی کے عمل سے گزرنے والے پانچ اسکولوں میں جی ایچ ایس بابو فقیر، جی بی پی ایس عیسیٰ منگریو، جی بی پی ایس گل محمد پلی، جی بی پی ایس خبر بھیل اور جی بی پی ایس محمد صالح پلی شامل ہیں۔ یہ اسکول یونین کونسلز کے ایس (K.S.) عطا محمد پلی اور سبھو/کونجھیلی میں واقع ہیں۔

ان اسکولوں کی بحالی پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ (PPAF) کے ’ریسٹورنگ سوشل سروسز اینڈ کلائمیٹ ریزیلینس‘ (RSS&CR) منصوبے کے تحت کی گئی، جس پر ایسوسی ایشن فار واٹر، اپلائیڈ ایجوکیشن اینڈ رینیوایبل انرجی (AWARE) نے عملدرآمد کیا۔

یہ منصوبہ 2022 کے تباہ کن مون سون سیلاب کے بعد شروع کیا گیا، جس نے سندھ کے موسمیاتی خطرات سے دوچار علاقوں میں تعلیمی بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا تھا۔

لیکن اس کا مقصد صرف سیلاب سے تباہ ہونے والی عمارتوں کی مرمت کرنا نہیں تھا۔

بحالی کے منصوبے میں اسکولوں کو مستقبل کے سیلاب، شدید گرمی، بجلی کی غیر یقینی فراہمی اور پانی و صفائی کی ناکافی سہولیات جیسے مسائل سے نمٹنے کے قابل بنانا بھی شامل تھا۔

بحالی سے پہلے کئی اسکولوں میں ٹوٹی ہوئی چھتیں، خستہ حال دیواریں، ناقص صفائی، غیر محفوظ پینے کا پانی، غیر محفوظ احاطے اور بجلی کی غیر یقینی فراہمی جیسے مسائل موجود تھے۔

لڑکیوں کے لیے یہ مسائل اس وقت مزید اہم ہوجاتے ہیں جب وہ پرائمری تعلیم سے آگے بڑھتی ہیں۔

ہیڈ ٹیچرز ممتاز علی اور ہریش کمار کے مطابق، “اس اقدام سے قبل، پرائمری کے بعد طالبات کو اسکول میں برقرار رکھنا ایک کٹھن مرحلہ تھا جس کی وجہ نجی بیت الخلا کا مکمل فقدان اور غیر محفوظ چار دیواری تھی۔”

ان کے مطابق اونچائی پر تعمیر کیے گئے بیت الخلا، صاف پانی اور شمسی توانائی سے چلنے والی سہولیات نے اسکول کے ماحول میں تحفظ اور وقار کو بہتر بنانے میں مدد دی ہے۔

سیلاب سے بچاؤ کے لیے اونچائی پر تعمیرات

عمرکوٹ کیسے محفوظ اسکولوں کے ذریعے لڑکیوں کی تعلیم کو فروغ دے رہا ہے؟ 

بحالی منصوبے کے تحت 14 بیت الخلا یونٹس اونچائی پر تعمیر کیے گئے تاکہ انہیں ماضی میں آنے والے سیلاب کی سطح سے بلند رکھا جا سکے اور مستقبل میں سیلاب کی صورت میں ان کے ناقابلِ استعمال ہونے کا خطرہ کم ہو۔

اس کے علاوہ چار دیواریں تعمیر یا بحال کی گئیں، پانی کی سہولیات بہتر بنائی گئیں اور سیلاب سے متاثرہ دیگر بنیادی ڈھانچے کی مرمت کی گئی۔

یہ اقدامات بظاہر معمول کے تعمیراتی کام محسوس ہوسکتے ہیں، لیکن دیہی اسکولوں میں ان کا تعلق براہِ راست اس سوال سے ہے کہ بچہ کتنی باقاعدگی سے اسکول آتا ہے اور والدین اپنی بیٹی کو وہاں بھیجنے میں کتنا اطمینان محسوس کرتے ہیں۔

ایک محفوظ بیت الخلا لڑکی کو رازداری فراہم کرتا ہے، چار دیواری تحفظ کا احساس دیتی ہے اور صاف پانی صحت کے بنیادی مسائل کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اسی طرح قابلِ استعمال کلاس روم بچوں کے لیے سیکھنے کا ماحول بہتر بناتا ہے۔

یوں اسکول کی موجودگی اور اسکول تک حقیقی رسائی کے درمیان موجود فرق کم ہوسکتا ہے۔

شمسی توانائی سے شدید گرمی کا مقابلہ

عمرکوٹ کے اسکولوں کو درپیش ایک اور بڑا مسئلہ شدید گرمی اور بجلی کی غیر یقینی فراہمی ہے۔ بحالی منصوبے کے تحت پانچوں اسکولوں میں مجموعی طور پر 11.55 کلو واٹ کی آف گرڈ شمسی توانائی کی صلاحیت نصب کی گئی ہے۔

یہ نظام روشنی، پنکھوں اور پانی پمپ کرنے کے لیے بجلی فراہم کرتا ہے، جس سے اسکولوں کو بجلی کی روایتی فراہمی پر انحصار کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔

کلاس رومز اور چھتوں کی مرمت کے ساتھ فرش اور دیگر تعمیراتی کام بھی کیے گئے، جبکہ پانی اور صفائی کی سہولیات کو بہتر بنایا گیا۔

جی بی پی ایس خبر بھیل میں ایک نیا کلاس روم تعمیر کیا گیا اور پینے کے پانی کے لیے چھ مراحل پر مشتمل ریورس اوسموسس (RO) پلانٹ بھی نصب کیا گیا۔

اس کے ساتھ اسکولوں کے احاطوں میں 1,500 مقامی درخت لگائے گئے، یعنی ہر اسکول میں تقریباً 300 درخت۔

امید ہے کہ درخت بڑے ہونے کے ساتھ اسکول کے احاطوں میں سایہ فراہم کریں گے اور بچوں کو شدید گرمی سے کچھ تحفظ ملے گا۔

موسمیاتی خطرات کے درمیان تعلیم

عمرکوٹ جیسے موسمیاتی خطرات سے دوچار علاقے میں اسکول کا بنیادی ڈھانچہ صرف اینٹوں، دیواروں اور چھتوں تک محدود نہیں رہتا۔

کلاس روم اور استاد یقیناً تعلیم کے مرکز ہیں، لیکن بچوں کو ایسا ماحول بھی درکار ہوتا ہے جہاں وہ محفوظ بیٹھ سکیں، صاف پانی پی سکیں، مناسب حفظانِ صحت کی سہولیات استعمال کر سکیں اور شدید گرمی یا دیگر موسمی حالات کے باوجود اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔

یہی وجہ ہے کہ اسکولوں کی بحالی کو محض تعمیراتی سرگرمی کے بجائے بچوں کے لیے محفوظ اور قابلِ اعتماد تعلیمی ماحول پیدا کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

داخلوں میں لڑکیوں کا نمایاں اضافہ

عمرکوٹ کیسے محفوظ اسکولوں کے ذریعے لڑکیوں کی تعلیم کو فروغ دے رہا ہے؟ 

پانچوں اسکولوں میں ہونے والی تبدیلی کا سب سے نمایاں اشارہ داخلوں کے اعداد و شمار میں سامنے آتا ہے، جہاں مجموعی اضافے کے مقابلے میں طالبات کی تعداد میں زیادہ تیزی دیکھی گئی ہے۔

جی بی پی ایس عیسیٰ منگریو سمیت ان اسکولوں میں نئے داخلوں اور طالبات کی تعداد میں ہونے والی تبدیلی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ بنیادی سہولیات میں بہتری اور محفوظ تعلیمی ماحول دیہی علاقوں میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

تاہم، ان اعداد و شمار کو دیگر سماجی اور معاشی عوامل کے تناظر میں دیکھنا بھی ضروری ہے۔ اسکول کی عمارت بہتر ہوجانے سے تعلیم کے تمام مسائل ختم نہیں ہوتے، لیکن ایک محفوظ، صاف اور موسمیاتی خطرات سے بہتر طور پر محفوظ اسکول کسی بچی کے لیے تعلیم جاری رکھنے کی راہ میں موجود ایک اہم رکاوٹ ضرور کم کرسکتا ہے۔

عمرکوٹ کے ان پانچ اسکولوں کی کہانی اسی بنیادی سوال کی طرف واپس لے جاتی ہے: اگر اسکول موجود ہو، مگر وہاں تحفظ، پانی، صفائی اور مناسب ماحول نہ ہو تو کیا تعلیم واقعی ہر بچے کی پہنچ میں ہے؟

ان اسکولوں میں ہونے والی تبدیلیاں اس سوال کا ایک ممکنہ جواب پیش کرتی ہیں—کہ تعلیم تک رسائی صرف اسکول تک پہنچنے کا نام نہیں، بلکہ ایسا محفوظ ماحول بھی ہے جہاں بچے، خصوصاً لڑکیاں، خود کو باوقار اور محفوظ محسوس کرتے ہوئے سیکھ سکیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.