نیوز ڈیسک
اسلام آباد: نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے ملک میں بار بار آنے والے شہری سیلاب سے نمٹنے کے لیے جامع اور مربوط حکمت عملی اپنانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ شہری سیلاب کا مسئلہ صرف بارش کے پانی کی نکاسی بہتر بنانے سے حل نہیں ہوگا۔
این ڈی ایم اے ہیڈکوارٹرز میں قائم نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (این ای او سی) میں منعقدہ سیمینار میں شہری سیلاب کے خطرات، کمزور انفراسٹرکچر اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت کا جائزہ لیا گیا۔
’’شہری سیلاب سے نمٹنے کی صلاحیت اور اقدامات، ویژن 2027: بارشوں اور سیلاب سے آگے‘‘ کے عنوان سے ہونے والے سیمینار میں سرکاری اداروں، ترقیاتی اتھارٹیز، شہری منصوبہ بندی، آبی وسائل اور دیگر متعلقہ شعبوں کے ماہرین نے شرکت کی۔
شرکاء نے 2025-26 کے دوران شہری علاقوں میں پیش آنے والے سیلابی واقعات، زیادہ خطرے والے علاقوں، نکاسی آب کے نظام کی استعداد اور خستہ حال انفراسٹرکچر کا جائزہ لیا۔
اجلاس میں بارش کے پانی کے بہاؤ، نکاسی آب کے نیٹ ورک کی گنجائش، پانی ذخیرہ کرنے اور پمپنگ کے انتظامات، قدرتی نکاسی آب کے راستوں کی بحالی، اداروں کے درمیان رابطے اور ہنگامی ردعمل میں موجود خامیوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
شرکاء نے جون 2027 سے قبل قابلِ عمل مختلف اقدامات کی نشاندہی بھی کی، جن میں نکاسی آب کے نظام کی مؤثر دیکھ بھال، بارش کے پانی کے بہتر انتظام، قدرتی نکاسی آب کے راستوں کے تحفظ اور شہری منصوبہ بندی میں سیلاب سے نمٹنے کی صلاحیت کو شامل کرنا شامل ہے۔
کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے)، واسا، راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی (آر ڈی اے)، لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) اور دیگر ترقیاتی اداروں کے نمائندوں نے شہری سیلاب کے خطرات کم کرنے کے لیے ادارہ جاتی ذمہ داریوں اور مربوط اقدامات کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی۔
اختتامی کلمات میں این ڈی ایم اے کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے شہری سیلاب سے نمٹنے کے لیے پیشگی تیاری، بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی، ادارہ جاتی ذمہ داری اور بروقت اقدامات کو اہم قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ بارش اور سیلاب کے بعد محض ردعمل دینے کے بجائے پائیدار اور طویل مدتی شہری لچک پیدا کرنے کے لیے مؤثر منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔
سیمینار کے اختتام پر ’ویژن 2027‘ کے تحت مربوط فالو اَپ اقدامات اور عملی مداخلتوں کے ذریعے پاکستان کے شہری مراکز کو بار بار آنے والے سیلاب کے خطرات سے زیادہ محفوظ بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
