نیوز ڈیسک
واشنگٹن: سعودی عرب اپنی فضائی طاقت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے امریکی ساختہ ایف 35 لڑاکا طیارے حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ واشنگٹن کی جانب سے ریاض کے لیے اس جدید جنگی طیارے کی ممکنہ فروخت پر پیش رفت خطے کی دفاعی صورت حال میں ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
مجوزہ پیکیج میں 48 ایف 35 طیارے، 49 انجن، مواصلاتی نظام، اضافی پرزے، تربیت اور دیگر معاون خدمات شامل ہیں۔ اس پیکیج کی مجموعی مالیت تقریباً 24.3 ارب ڈالر بتائی گئی ہے۔ تاہم، ایسے بڑے دفاعی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے امریکی قانون کے تحت کانگریسی عمل بھی اہم مرحلہ ہے۔ امریکی دفاعی فروخت کے معاملات میں حتمی ترسیل فوری طور پر نہیں ہوتی بلکہ معاہدے، تیاری اور دیگر انتظامات میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔
ایف 35 کو دنیا کے جدید ترین لڑاکا طیاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس میں دشمن کے ریڈار سے بچنے کی صلاحیت، جدید سینسرز اور مختلف جنگی نظاموں کو ایک دوسرے سے مربوط کرنے کی صلاحیت شامل ہے۔ یہی خصوصیات اسے محض ایک نئے طیارے کے بجائے ایک مکمل فضائی جنگی نظام بناتی ہیں۔
سعودی عرب کے لیے کیا بدلے گا؟
سعودی فضائیہ پہلے ہی امریکی ایف 15 اور یورپی ٹورنیڈو اور ٹائفون جیسے جدید لڑاکا طیارے استعمال کر رہی ہے۔ ایف 35 کی شمولیت سے سعودی عرب کو ایسی ٹیکنالوجی تک رسائی مل سکتی ہے جو موجودہ بیڑے سے مختلف نوعیت کی فضائی نگرانی اور جنگی صلاحیت فراہم کرتی ہے۔
ریاض کے لیے یہ منصوبہ اس کی وسیع تر دفاعی جدید کاری کا حصہ ہے۔ سعودی عرب ولی عہد محمد بن سلمان کے وژن 2030 کے تحت اپنی معیشت کے ساتھ ساتھ دفاعی شعبے میں بھی تبدیلی اور مقامی صلاحیت بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
تاہم، ایف 35 کی حقیقی جنگی افادیت صرف طیاروں کی تعداد سے طے نہیں ہوتی۔ اس کا انحصار اسلحے، سافٹ ویئر، تربیت، دیکھ بھال، معلوماتی نظام اور امریکہ کی جانب سے فراہم کی جانے والی آپریشنل سہولتوں پر بھی ہوگا۔
اسرائیل کے لیے یہ معاملہ کیوں اہم ہے؟
اس ممکنہ معاہدے کا سب سے حساس پہلو اسرائیل سے متعلق ہے۔
امریکہ مشرق وسطیٰ میں ہتھیاروں کی بڑی فروخت کرتے وقت اسرائیل کی ’’معیاری عسکری برتری‘‘ برقرار رکھنے کو ایک اہم عنصر سمجھتا ہے۔ امریکی پالیسی کے مطابق خطے میں کسی دوسرے ملک کو جدید امریکی دفاعی ٹیکنالوجی فراہم کرتے وقت اسرائیل کی عسکری برتری کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔
اسرائیل ایف 35 استعمال کرنے والا مشرق وسطیٰ کا واحد ملک ہے۔ اگر سعودی عرب بھی یہ طیارے حاصل کر لیتا ہے تو خطے میں اس جدید جنگی ٹیکنالوجی کے استعمال کا دائرہ وسیع ہو جائے گا۔
تاہم، اس کا مطلب لازماً یہ نہیں کہ دونوں ملکوں کی فضائی طاقت ایک جیسی ہو جائے گی۔ طیاروں کی تعداد کے ساتھ ساتھ ان کے سافٹ ویئر، ہتھیار، تربیت، معاون نظام اور استعمال پر عائد پابندیاں بھی کسی ملک کی مجموعی جنگی صلاحیت پر اثر انداز ہوتی ہیں۔
صرف ایف 35 کا معاملہ نہیں
سعودی عرب کے لیے ایف 35 کی ممکنہ خریداری امریکہ کے ساتھ وسیع تر دفاعی تعلقات کے پس منظر میں سامنے آ رہی ہے۔
امریکی دفاعی فروخت کے نظام میں کسی بڑے معاہدے کے تحت صرف جنگی سامان ہی نہیں بلکہ تربیت، دیکھ بھال، رسد اور دیگر معاون خدمات بھی شامل ہوسکتی ہیں۔
ریاض ایک طرف امریکی دفاعی شراکت داری کو برقرار رکھنا چاہتا ہے اور دوسری جانب اپنی دفاعی ضروریات کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات اور تعاون کو بھی وسعت دے رہا ہے۔
اسی لیے ایف 35 کا معاملہ صرف ایک نئے لڑاکا طیارے کی خریداری نہیں بلکہ سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان طویل المدت دفاعی تعلقات کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔
معاہدے کے بعد اگلا مرحلہ کیا ہوگا؟
امریکی منظوری یا کانگریسی عمل مکمل ہونے کے باوجود سعودی عرب کو ایف 35 طیارے فوری طور پر حاصل نہیں ہوں گے۔ بڑے دفاعی معاہدوں میں حتمی شرائط طے کرنے، معاہدے کو مکمل کرنے، طیارے تیار کرنے، تربیت دینے اور متعلقہ نظام قائم کرنے میں وقت لگتا ہے۔
اگر یہ منصوبہ مکمل ہوتا ہے تو سعودی عرب ایف 35 استعمال کرنے والے محدود ممالک میں شامل ہو جائے گا اور مشرق وسطیٰ میں اس طیارے کو چلانے والا دوسرا ملک بن سکتا ہے۔
اس پیش رفت کے ممکنہ اثرات صرف سعودی عرب اور امریکہ تک محدود نہیں رہیں گے۔ اس سے خلیجی ممالک کی دفاعی جدید کاری، اسرائیل کی علاقائی عسکری برتری اور مشرق وسطیٰ میں جدید فضائی ٹیکنالوجی کی تقسیم سے متعلق بحث مزید اہم ہو سکتی ہے۔
سعودی عرب کے لیے ایف 35 فضائی جنگی صلاحیتوں میں ایک نئی جہت کا اضافہ ہوگا، جبکہ امریکہ کے لیے یہ ایک ایسا دفاعی معاہدہ ہوگا جس میں ریاض کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ خطے میں اسرائیل کی عسکری برتری سے متعلق اپنی پالیسی کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا
