چوہوں میں آدھا انسانی دماغ، مگر کیا وہ انسان جیسے بن گئے؟

0

نیوز ڈیسک

کیلیفورنیا: اگر کسی چوہے کے دماغ کا تقریباً نصف حصہ انسانی دماغی خلیات پر مشتمل ہو تو کیا وہ عام چوہے سے مختلف انداز میں سوچ سکتا ہے؟ یہ سوال بظاہر سائنس فکشن کا حصہ لگتا ہے، لیکن امریکی سائنسدانوں نے ایک ایسے تجربے کے ذریعے اسے حقیقی سائنسی بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔

اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے محققین نے ایسے چوہے تیار کیے جن کے دماغ میں انسانی بافتوں نے نمایاں جگہ بنائی۔ سائنسدانوں کے مطابق یہ ماڈل انسانی دماغ کی نشوونما اور اعصابی بیماریوں کو سمجھنے کے لیے ایک نیا راستہ فراہم کر سکتا ہے، تاہم اس کے ساتھ انسانی اور حیوانی دماغی بافتوں کو ملانے سے متعلق اہم اخلاقی سوالات بھی سامنے آتے ہیں۔

تجربہ کیسے کیا گیا؟

تحقیق میں ایسے چوہوں کو جینیاتی طور پر تیار کیا گیا جو دماغ کے بیرونی حصے، یعنی سیریبرل کورٹیکس، کے بیشتر حصے کے بغیر پیدا ہوئے۔ کورٹیکس دماغ کا وہ اہم حصہ ہے جو سیکھنے، یادداشت، فیصلہ سازی اور دیگر پیچیدہ ذہنی سرگرمیوں سے وابستہ ہے۔

اس کے بعد محققین نے لیبارٹری میں اسٹیم سیلز سے تیار کیے گئے انسانی دماغی بافتوں کے چھوٹے ٹکڑے چوہوں کے دماغ میں اس جگہ منتقل کیے جہاں کورٹیکس کا بڑا حصہ موجود نہیں تھا۔

حیران کن طور پر انسانی خلیات نے وہاں تیزی سے نشوونما شروع کردی۔

کئی ماہ کے دوران یہ انسانی بافتیں پھیلتی گئیں اور محققین کے مطابق انہوں نے غائب شدہ ماؤس کورٹیکس سے پیدا ہونے والی جگہ کا 90 فیصد سے زیادہ حصہ بھر دیا۔

یہ صرف خلیات کی افزائش تک محدود نہیں رہا۔ تحقیق میں دیکھا گیا کہ انسانی خلیات نے چوہوں کے موجودہ اعصابی نظام کے ساتھ بھی رابطے قائم کیے۔ بعض انسانی عصبی ریشے ریڑھ کی ہڈی تک پھیل گئے۔

نتیجتاً، وقت کے ساتھ انسانی خلیات چوہے کے دماغی حجم کا تقریباً نصف حصہ بن گئے۔

کیا چوہے انسانوں کی طرح ذہین ہوگئے؟

یہی وہ سوال ہے جو اس تجربے کو سائنسی اعتبار سے غیر معمولی بنانے کے ساتھ ساتھ عوامی دلچسپی کا مرکز بھی بناتا ہے۔

محققین نے یہ جاننے کے لیے مختلف رویوں اور ادراک سے متعلق ٹیسٹ کیے کہ انسانی دماغی بافتوں کی موجودگی نے چوہوں کی صلاحیتوں میں کوئی نمایاں تبدیلی پیدا کی یا نہیں۔

اب تک کے نتائج میں انسان جیسی ذہانت یا شعور پیدا ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔

چوہوں نے مجموعی طور پر عام ماؤس جیسا رویہ برقرار رکھا، اگرچہ محققین نے یادداشت اور حرکت سے متعلق بعض پہلوؤں میں فرق ضرور نوٹ کیا۔

اس لیے تحقیق کا مطلب یہ نہیں کہ انسانی خلیات نے چوہوں کو انسان بنا دیا یا انہیں انسانی سطح کا شعور دے دیا۔

سائنسدان ایسا تجربہ کیوں کر رہے ہیں؟

اس تحقیق کا بنیادی مقصد انسانی ذہانت پیدا کرنا نہیں بلکہ انسانی دماغ کو بہتر طور پر سمجھنا ہے۔

انسانی دماغ کی نشوونما کے بہت سے مراحل کا براہِ راست مشاہدہ کرنا ممکن نہیں۔ اسی لیے سائنسدان ایسے تجرباتی ماڈلز تلاش کر رہے ہیں جن میں انسانی دماغی خلیات کو زندہ حیاتیاتی ماحول میں دیکھا اور جانچا جا سکے۔

ایسا ماڈل محققین کو یہ سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے کہ انسانی نیوران کس طرح نشوونما پاتے ہیں، ایک دوسرے سے رابطہ کرتے ہیں اور بیماریوں کے اثرات کا سامنا کرتے ہیں۔

مستقبل میں اس نوعیت کی تحقیق شیزوفرینیا، مرگی، دماغی فالج اور بعض اقسام کی ڈیمنشیا جیسے اعصابی امراض کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

سائنسدان یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ مخصوص جینیاتی تبدیلیاں انسانی دماغی خلیات کے رویے کو کس طرح متاثر کرتی ہیں اور ممکنہ علاج زندہ حیاتیاتی نظام میں کس طرح آزمائے جا سکتے ہیں۔

اصل سوال اب سائنس سے آگے ہے

اس تجربے نے ایک ایسا سوال بھی پیدا کیا ہے جس کا جواب صرف لیبارٹری میں نہیں مل سکتا۔

اگر مستقبل میں سائنسدان جانوروں کے دماغوں میں انسانی بافتوں کی مقدار اور پیچیدگی مزید بڑھانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو کیا کسی مرحلے پر جانوروں کے شعور، ادراک یا ذہنی صلاحیتوں میں ایسی تبدیلیاں پیدا ہوسکتی ہیں جنہیں نظر انداز کرنا ممکن نہ ہو؟

ماہرین کے لیے مسئلہ صرف یہ نہیں کہ جانور کے دماغ میں انسانی خلیات کتنے فیصد ہیں۔ یہ بھی اہم ہے کہ وہ خلیات دماغ میں کس طرح منظم ہوتے ہیں، جانور کے اعصابی نظام سے کتنے مضبوط روابط قائم کرتے ہیں اور آیا یہ روابط جانور کے رویے یا ادراک میں نمایاں تبدیلی پیدا کرتے ہیں یا نہیں۔

محققین کے مطابق موجودہ تجربے میں انسان جیسی ذہانت کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔ تاہم، انسانی دماغی بافتوں اور حیوانی دماغ کے امتزاج کی ٹیکنالوجی جیسے جیسے ترقی کرے گی، اس کے ساتھ اخلاقی نگرانی اور جانوروں کی فلاح و بہبود سے متعلق سوالات بھی مزید اہم ہوتے جائیں گے۔

یوں یہ تجربہ صرف انسانی دماغ کو سمجھنے کی سائنسی کوشش نہیں بلکہ اس سوال کی طرف بھی اشارہ ہے کہ جب سائنس انسانی اور حیوانی اعصابی نظام کے درمیان فاصلے کو مسلسل کم کرتی جائے گی تو اس کی اخلاقی حدود کہاں قائم کی جائیں گی؟

Leave A Reply

Your email address will not be published.