نیوز ڈیسک
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے معاملے پر ایک اہم فیصلے کے قریب ہیں، جس میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے یا تنازع کے خاتمے کے لیے کوئی دوسرا راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ شامل ہے۔
ٹرمپ نے امریکی خبر رساں ادارے ایکسیوس کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست رابطے جاری ہیں اور تہران واشنگٹن کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنا چاہتا ہے۔ تاہم، امریکی صدر نے واضح کیا کہ صورت حال تیزی سے تبدیل ہوسکتی ہے اور فوجی کارروائی کا آپشن بدستور موجود ہے۔
انہوں نے ایران کے خلاف دوبارہ بڑے حملے شروع کرنے کے امکان پر غور کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ فیصلہ تنازع کے اگلے مرحلے کا تعین کرسکتا ہے۔
خلیجی ممالک سے مشاورت
ٹرمپ کے مطابق امریکہ نے موجودہ کشیدگی کے دوران خلیجی ممالک کو تحفظ فراہم کیا ہے اور وہ آئندہ اقدامات پر خطے کے اتحادیوں کی رائے بھی جاننا چاہتے ہیں۔
توقع ہے کہ امریکی صدر اگلے ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، کویت اور عمان کے رہنماؤں سے ملاقات کریں گے۔ ایکسیوس کے مطابق ان ملاقاتوں میں ایران کے ساتھ جاری تنازع اور اس کے اگلے مرحلے پر بات چیت متوقع ہے۔
ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے ممکنہ ملاقات کا بھی اشارہ دیا ہے، تاہم ایکسیوس کے مطابق اس ملاقات کا حتمی شیڈول ابھی طے نہیں ہوا۔
آبنائے ہرمز اور خطے میں کشیدگی
ایران سے جاری تنازع کا اثر فوجی محاذ سے آگے بڑھ کر خطے کے اہم سمندری راستوں اور توانائی کی ترسیل پر بھی پڑ رہا ہے۔
رائٹرز کے مطابق حالیہ دنوں میں سعودی عرب اور ایران کی حمایت یافتہ حوثی فورسز کے درمیان حملوں میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز میں بھی جہاز رانی کو خطرات کا سامنا ہے۔ ان پیش رفتوں نے عالمی توانائی کی فراہمی کے حوالے سے بھی خدشات بڑھا دیے ہیں۔
دوسری جانب امریکہ ایران کے ساتھ سفارتی رابطوں کا راستہ بھی مکمل طور پر بند نہیں کرنا چاہتا۔ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سمندری راستوں کو کھلا رکھنے کے لیے مختلف سطحوں پر رابطے جاری ہیں۔
اقوام متحدہ کا اجلاس اہم مرحلہ بن سکتا ہے
ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی ایسے وقت میں جاری ہے جب عالمی رہنما آئندہ ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور دیگر اعلیٰ ایرانی حکام کو بھی اجلاس میں شرکت کی اجازت دی گئی ہے، جبکہ امریکی حکام نے ایرانی وفد کی نقل و حرکت پر مخصوص پابندیاں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ایسے میں ٹرمپ کی جانب سے ایران پر آئندہ کارروائی کے حوالے سے فیصلہ اور خلیجی رہنماؤں سے مشاورت عالمی توجہ کا مرکز بن سکتی ہے۔
فی الحال یہ واضح نہیں کہ امریکی صدر آخرکار فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں یا سفارتی راستے کو مزید وقت دیتے ہیں۔ تاہم ان کے تازہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی آپشن ابھی واشنگٹن کی پالیسی سے خارج نہیں ہوا۔
