نیوز ڈیسک
اسلام آباد: چین کی فوج سے منسلک محققین جدید مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے پیش رفت کر رہے ہیں، جہاں وہ بڑے عالمی اے آئی ماڈلز کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے چھوٹے اور مقامی سطح پر چلنے والے نظام تیار کرنے کے طریقوں پر کام کر رہے ہیں۔
رائٹرز کی جانب سے چینی تحقیقی مقالوں اور پیٹنٹس کے جائزے کے مطابق، چینی فوجی اداروں سے وابستہ محققین “ماڈل ڈسٹلیشن” نامی تکنیک استعمال کر رہے ہیں، جس کے ذریعے بڑے اور پیچیدہ اے آئی ماڈلز کی معلومات اور صلاحیتوں سے سیکھ کر کم حجم کے مصنوعی ذہانت کے نظام تیار کیے جاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق، یہ رجحان عالمی اے آئی دوڑ میں ایک نئی سمت کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں ممالک ایسے مؤثر اور ہلکے وزن والے اے آئی نظام بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جو محدود کمپیوٹنگ وسائل کے باوجود کام کر سکیں۔
رپورٹ کے مطابق، روایتی بڑے اے آئی ماڈلز کو چلانے کے لیے وسیع کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر درکار ہوتا ہے، تاہم چھوٹے ماڈلز کو ڈرونز، سیٹلائٹس اور دیگر فیلڈ آلات میں استعمال کیا جا سکتا ہے، جہاں پروسیسنگ صلاحیت محدود ہوتی ہے۔
رائٹرز کے جائزے میں 80 سے زائد تحقیقی مقالوں اور پیٹنٹس میں ایسی مثالیں سامنے آئیں جن میں چینی فوجی اداروں سے منسلک محققین نے نگرانی، سائبر آپریشنز، سافٹ ویئر تجزیے اور خود مختار نظاموں کے لیے ماڈل ڈسٹلیشن تکنیک کا استعمال کیا۔
رپورٹ کے مطابق، پیپلز لبریشن آرمی سے منسلک ایک تحقیق میں مبینہ طور پر اوپن اے آئی کے GPT-3.5 ماڈل کو فوجی سافٹ ویئر کوڈ کے تجزیے اور خلاصہ سازی کے لیے استعمال کیا گیا، جس کے بعد حاصل شدہ معلومات کو ایک مقامی اے آئی نظام کی تربیت کے لیے بروئے کار لایا گیا جو بند فوجی نیٹ ورک میں کام کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
چینی نیشنل یونیورسٹی آف ڈیفنس ٹیکنالوجی کی 2024 کی ایک تحقیق میں ڈرونز کے لیے ایسے تصویری تجزیاتی نظام تیار کرنے کے طریقوں کا جائزہ لیا گیا جو کم حجم کے باوجود ویڈیو کا تجزیہ، راستہ تلاش کرنے اور اہداف کی شناخت جیسے کام انجام دے سکیں، حتیٰ کہ مواصلاتی رابطے منقطع ہونے کی صورت میں بھی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چین کے فوجی تحقیقی اداروں کے محققین ڈرونز، بحری جہازوں اور بغیر پائلٹ آبدوزوں کے لیے اے آئی پر مبنی ہدف شناختی نظاموں پر بھی کام کر رہے ہیں۔
تاہم، ماڈل ڈسٹلیشن کے استعمال نے دانشورانہ ملکیت، سیکیورٹی اور اخلاقی پہلوؤں پر بحث کو بھی جنم دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی دوسرے ادارے کے اے آئی ماڈل کی صلاحیتیں بغیر اجازت منتقل کی جائیں تو اس سے قانونی اور حفاظتی سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
امریکی اے آئی کمپنیوں نے بھی ممکنہ غلط استعمال پر خدشات ظاہر کیے ہیں۔ اینتھروپک کا کہنا ہے کہ وہ چینی یا بیجنگ کے زیر کنٹرول اداروں کو اپنے ماڈلز تک تجارتی رسائی فراہم نہیں کرتی اور پالیسی کی خلاف ورزیوں کی نگرانی کے لیے نظام استعمال کرتی ہے۔ کمپنی نے خبردار کیا ہے کہ ڈسٹل کیے گئے ماڈلز میں اصل نظاموں کے تمام حفاظتی اقدامات موجود نہیں ہوتے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا جدید اے آئی ٹیکنالوجی تک چین کی رسائی محدود کرنے کے لیے جدید چپس اور اہم اجزا کی برآمدات پر پابندیاں عائد کر رہا ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق کم وسائل استعمال کرنے والے چھوٹے اے آئی ماڈلز ان پابندیوں کے باوجود ممالک کو اپنی مصنوعی ذہانت کی صلاحیتیں بڑھانے میں مدد دے سکتے ہیں۔
چین نے امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن مصنوعی ذہانت کے شعبے میں اپنی برتری برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ چینی کمپنیوں نے بھی اس دعوے کی تردید کی ہے کہ ان کے اے آئی ماڈلز غیر مجاز طریقے سے تیار کیے گئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ماڈل ڈسٹلیشن بڑے اے آئی ماڈلز کی مکمل نقل نہیں بناتا بلکہ ان کی مخصوص صلاحیتوں کو منتقل کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں چھوٹے ماڈلز زیادہ تیز اور کم خرچ ہوتے ہیں، تاہم عام طور پر بڑے ماڈلز جتنی طاقت نہیں رکھتے۔
مصنوعی ذہانت کے شعبے میں یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ عالمی مقابلہ اب صرف بڑے اے آئی ماڈلز بنانے تک محدود نہیں رہا، بلکہ توجہ ایسے چھوٹے، تیز اور عملی نظام تیار کرنے پر بھی مرکوز ہو رہی ہے جو حقیقی دنیا کے ماحول میں مؤثر انداز میں استعمال کیے جا سکیں۔#تابش_ہاشمی, #ہنسنا_منع_ہے, #جیو_ٹی_وی, #پاکستانی_کامیڈی, #کامیڈی_شو, #پاکستانی_فنکار, #شوبز_نیوز, #پاکستان_شوبز, #انٹرٹینمنٹ_نیوز, #ٹی_وی_شو, #ٹیلی_ویژن_نیوز, #تابش_ہاشمی_نیوز, #مداحوں_کا_ردعمل, #سوشل_میڈیا_ردعمل, #پاکستانی_اداکار, #کامیڈین, #مشہور_شخصیات, #شوبز_کی_دنیا, #فنکاروں_کی_خبریں, #پاکستان_انٹرٹینمنٹ, #نئی_خبریں, #آج_کی_خبر, #تفریحی_خبریں, #ٹی_وی_پروگرام, #پاکستانی_میڈیا،
