نیوز ڈیسک
واشنگٹن: مصنوعی ذہانت کو جدید جنگی اور انٹیلی جنس نظاموں کا مستقبل قرار دیا جا رہا ہے، لیکن مشرقِ وسطیٰ میں پیش آنے والے ایک مبینہ واقعے نے یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ اگر کسی ممکنہ فوجی کارروائی کی بنیاد ہی مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ غلط معلومات پر ہو تو اس کے نتائج کتنے سنگین ہو سکتے ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے CNN نے واقعے سے واقف چار ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی فوج ایک چینی جہاز کو روکنے اور اس پر سوار ہونے کے قریب پہنچ گئی تھی، کیونکہ ایک انٹیلی جنس رپورٹ میں غلط دعویٰ کیا گیا تھا کہ جہاز پر جوہری ہتھیاروں کے پروگرام سے متعلق مواد موجود ہے۔
یہ واقعہ رواں سال موسمِ بہار میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران پیش آیا، جب امریکی فوج میں اس انٹیلی جنس رپورٹ کی بنیاد پر چینی جہاز کے خلاف کارروائی کی تیاریاں شروع کر دی گئی تھیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکی فوجی اہلکار جہاز پر سوار ہونے کی تیاری کر رہے تھے جبکہ فوجی طیارے بھی فضا میں موجود تھے۔ تاہم کارروائی شروع ہونے سے کچھ ہی دیر قبل حکام کو معلوم ہوا کہ اس انٹیلی جنس رپورٹ کی تیاری میں مصنوعی ذہانت پر مبنی ایک چیٹ بوٹ استعمال کیا گیا تھا اور جہاز کے سامان کی شناخت میں ایک سنگین غلطی ہوئی تھی۔
غلط معلومات کہاں سے آئیں؟
CNN کے ذرائع کے مطابق امریکی اسپیشل آپریشنز کمانڈ سے وابستہ ایک تجزیہ کار نے جہاز کے کارگو مینی فیسٹ میں موجود معلومات کا تجزیہ کرنے کے لیے ایک چیٹ بوٹ استعمال کیا۔
AI نظام نے عوامی طور پر دستیاب معلومات کو خفیہ سگنل انٹیلی جنس کے ساتھ جوڑ کر یہ نتیجہ اخذ کیا کہ جہاز پر جوہری ہتھیاروں کے پروگرام سے متعلق مواد موجود ہے۔
مسئلہ صرف ابتدائی غلط نتیجے تک محدود نہیں رہا۔ ذرائع کے مطابق تجزیہ کار نے بعد میں AI کو دوبارہ استعمال کرتے ہوئے ان نتائج کو ایک باقاعدہ انٹیلی جنس رپورٹ کی شکل دی، جسے امریکی فوج کے اندر تقسیم کیا گیا۔
ایک ذریعے نے اس رپورٹ کو ’’مکمل طور پر غلط‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس غلطی کے نتیجے میں صورت حال تقریباً جنگ تک پہنچ گئی تھی۔
AI کی رفتار، انسانی تصدیق کا سوال
یہ واقعہ اس وسیع تر بحث کو بھی سامنے لاتا ہے کہ فوجی اور انٹیلی جنس اداروں میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ انسانی تصدیق کا کردار کس حد تک برقرار رکھا جا رہا ہے۔
امریکی دفاعی اور انٹیلی جنس ادارے بڑی مقدار میں معلومات کا تجزیہ کرنے، ممکنہ اہداف کی نشاندہی میں معاونت اور میدانِ جنگ میں فیصلہ سازی کو تیز کرنے کے لیے AI ٹیکنالوجی پر تیزی سے انحصار کر رہے ہیں۔
حکام کا مؤقف ہے کہ چین سمیت ممکنہ حریفوں کے مقابلے میں تکنیکی برتری برقرار رکھنے کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال ضروری ہے۔
لیکن چینی جہاز سے متعلق مبینہ واقعہ اس ٹیکنالوجی کے ایک بنیادی خطرے کی نشاندہی کرتا ہے: AI بڑی مقدار میں معلومات کو انتہائی تیزی سے پراسیس کر سکتا ہے، مگر اگر بنیادی معلومات غلط سمجھی جائیں یا نظام کسی نتیجے تک پہنچنے میں غلط ربط قائم کرے تو یہی رفتار خطرے کو مزید بڑھا سکتی ہے۔
ایک غلط رپورٹ، ایک بڑا سفارتی خطرہ
اگر چینی جہاز کے خلاف کارروائی واقعی شروع ہو جاتی تو اس کے اثرات محض ایک غلط انٹیلی جنس رپورٹ تک محدود نہ رہتے۔ واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی کے ماحول میں کسی چینی جہاز کو امریکی فوج کی جانب سے روکنے یا اس پر سوار ہونے کی کارروائی ایک بڑے سفارتی اور عسکری بحران کو جنم دے سکتی تھی۔
واقعے سے یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ حساس فوجی فیصلوں میں AI سے حاصل ہونے والی معلومات کو کس سطح پر انسانی ماہرین کی جانب سے دوبارہ جانچا جانا چاہیے۔
تجزیہ کار کی جانب سے استعمال کیے گئے چیٹ بوٹ کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔ یہ بھی واضح نہیں کہ وہ کوئی کمرشل AI نظام تھا یا امریکی حکومت کا تیار کردہ ٹول۔
CNN کے مطابق پینٹاگون اور امریکی اسپیشل آپریشنز کمانڈ پیسیفک نے اس معاملے پر تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔
ذرائع نے CNN کو یہ بھی بتایا کہ انٹیلی جنس کے دیگر شعبوں میں AI کے استعمال کے دوران اسی نوعیت کی غلطیاں سامنے آ چکی ہیں۔
ماہرین اور حکام کے لیے اصل چیلنج اب صرف یہ نہیں کہ مصنوعی ذہانت انٹیلی جنس کو کتنی تیزی سے تیار کر سکتی ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ کیا انسان اتنی ہی تیزی سے اس معلومات کی تصدیق کر سکتے ہیں؟
کیونکہ جنگ اور امن کے درمیان فیصلہ بعض اوقات صرف ایک رپورٹ کے فاصلے پر ہوتا ہے—اور اگر وہ رپورٹ غلط ہو تو مصنوعی ذہانت کی ایک معمولی غلطی کے نتائج غیر معمولی ہو سکتے ہیں۔
