بولیویا
دنیا شاید ابھی اتنی دریافت نہیں ہوئی جتنی انسان سمجھتا ہے۔ جنوبی امریکا کے ملک بولیویا میں سائنس دانوں نے بلی کے خاندان سے تعلق رکھنے والی ایک ایسی نئی نسل کی شناخت کی ہے جس کی سائنسی تصدیق ایک صدی سے زیادہ عرصے بعد سامنے آئی ہے۔
اس نئی نسل کا سائنسی نام ’لیوپارڈَس ٹِلکایو‘ (Leopardus tigrinus) بتایا گیا ہے، جبکہ مقامی لوگ اسے ’ٹِلکایو‘ کے نام سے پکارتے ہیں۔
یہ چھوٹی جسامت کی جنگلی بلی جنوبی امریکا میں پائی جانے والی ٹائیگر کیٹس کے گروہ سے تعلق رکھتی ہے۔ اس کا وزن تقریباً پانچ پاؤنڈ، یعنی دو سے ڈھائی کلوگرام کے درمیان ہوتا ہے۔ دبلا پتلا جسم، ہلکی بھوری کھال اور اس پر گہرے رنگ کے گول اور پھول نما دھبے اسے بظاہر ایک ننھے تیندوے جیسی شکل دیتے ہیں۔
بلی جو ماہرین کے لیے ایک معمہ بن گئی
اس بلی کی کہانی 2016 میں شروع ہوئی، جب محققین نے اسے بولیویا کے ایک جنگلی حیات کے مرکز میں دیکھا۔
ابتدا میں سائنس دانوں نے اسے پہلے سے معلوم ٹائیگر کیٹ کی ایک نسل سمجھا۔ اس کی وجہ اس کی ظاہری شکل تھی، کیونکہ اس کی کھال پر بھی تیندوے جیسے مخصوص نشانات موجود تھے۔
لیکن قریب سے مشاہدے کے بعد کچھ ایسا سامنے آیا جس نے ماہرین کو دوبارہ سوچنے پر مجبور کر دیا۔
نیشنل جیوگرافک کی ایکسپلورر اور تحقیق کی شریک مصنف پاؤلا نوگالس-اسکارانز کے مطابق بولیویا میں دیکھی گئی بلی کی خصوصیات پہلے سے بیان کی گئی ٹائیگر کیٹس سے مکمل طور پر مطابقت نہیں رکھتی تھیں۔
یہی فرق اس سوال کی بنیاد بنا کہ آخر بولیویا کے جنگلات میں پائی جانے والی یہ بلی دراصل کون سی نوع ہے؟
ڈی این اے نے کیا راز کھولا؟
اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے محققین نے بلی کے جینیاتی مواد کا تجزیہ کیا۔
تحقیق کے مطابق لیوپارڈَس ٹِلکایو کا جینیاتی سلسلہ دوسری ٹائیگر کیٹس سے تقریباً 14 لاکھ سال پہلے الگ ہو گیا تھا۔
اس کے ڈی این اے میں پائے جانے والے نمایاں اختلافات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ یہ جانور ایک طویل عرصے تک دوسری ٹائیگر کیٹس سے الگ تھلگ ارتقائی سفر طے کرتا رہا۔
محققین کے مطابق بلیوں میں اس نوع کا جینیاتی فاصلہ عام طور پر اس سطح کی تقسیم کی نشاندہی کرتا ہے جسے الگ نوع یا نئی اسپیشیز قرار دیا جا سکتا ہے۔
یوں ایک ایسی بلی سامنے آئی جسے محققین پہلے سے موجود کسی نوع کا معمولی جینیاتی فرق سمجھ رہے تھے، لیکن ڈی این اے نے اس کی ایک الگ ارتقائی شناخت ظاہر کر دی۔
ابھی ’ٹِلکایو‘ کے بارے میں بہت کچھ معلوم نہیں
دلچسپ بات یہ ہے کہ سائنس دانوں نے اس نئی نسل کی شناخت تو کر لی ہے، لیکن اس کی زندگی اور طرزِ عمل کے بارے میں معلومات اب بھی انتہائی محدود ہیں۔
تحقیق کے شریک سربراہ اور بیلجیئم کی یونیورسٹی آف اینٹورپ سے وابستہ ارتقائی حیاتیات کے ماہر جوناس لیسکوارٹ کے مطابق محققین اب تک صرف دو زندہ جانوروں کا براہِ راست جائزہ لے سکے ہیں۔
جنگل میں لگائے گئے کیمرہ ٹریپس سے حاصل ہونے والے شواہد بھی محدود ہیں۔
اس لیے ماہرین ابھی یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ٹِلکایو کہاں کہاں پائی جاتی ہے، اس کی مجموعی آبادی کتنی ہے، یہ کیا خوراک استعمال کرتی ہے اور اس کے قدرتی مسکن کو کن خطرات کا سامنا ہے۔
ایک نئی بلی، ایک بڑا سوال
ٹِلکایو کی دریافت صرف بلیوں کے خاندان میں ایک نئی نوع کے اضافے کی خبر نہیں بلکہ یہ اس سوال کو بھی دوبارہ سامنے لاتی ہے کہ دنیا کے جنگلات اور دور دراز علاقوں میں اب بھی کتنی انواع ایسی ہو سکتی ہیں جنہیں سائنس نے ابھی باقاعدہ طور پر شناخت نہیں کیا۔
تحقیق سائنسی جریدے ’کرنٹ بائیالوجی‘ میں شائع ہوئی ہے، جس میں اس بلی کی ظاہری خصوصیات کے ساتھ ساتھ اس کی جینیاتی شناخت کے شواہد بھی پیش کیے گئے ہیں۔
پاؤلا نوگالس-اسکارانز کے مطابق یہ دریافت یاد دلاتی ہے کہ دنیا ہمارے تصور سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ انسان بعض اوقات یہ سمجھ لیتا ہے کہ زمین کے بیشتر حصے اور ان میں موجود جاندار پہلے ہی دریافت کیے جا چکے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ قدرت اب بھی اپنے کئی راز چھپائے ہوئے ہے۔
اور بولیویا کی یہ ننھی، تیندوے جیسے دھبوں والی بلی شاید انہی رازوں میں سے ایک تھی—جو برسوں سے انسانوں کی نظروں کے سامنے موجود ہونے کے باوجود سائنس کے لیے ایک نئی شناخت کا انتظار کر رہی تھی۔
