واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میری لینڈ میں واقع صدارتی رہائش گاہ کیمپ ڈیوڈ میں اپنا ہفتہ وار قیام مقررہ وقت سے پہلے ختم کردیا اور وائٹ ہاؤس واپس روانہ ہوگئے۔
وائٹ ہاؤس پول رپورٹ کے مطابق صدر کے شیڈول میں تبدیلی کرتے ہوئے ہفتے کی شام واشنگٹن واپسی شامل کی گئی تھی۔ ٹرمپ کے میرین ون ہیلی کاپٹر کے ذریعے واشنگٹن پہنچنے اور مقامی وقت کے مطابق تقریباً 7 بجے ایلیپس پر اترنے کی توقع تھی۔ تاہم وائٹ ہاؤس نے قیام مختصر کرنے کی کوئی وجہ نہیں بتائی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی جب اسی روز کیمپ ڈیوڈ کے قریب محدود فضائی حدود میں ایک عام شہری طیارہ داخل ہوگیا، جسے شمالی امریکا کی ایرو اسپیس ڈیفنس کمانڈ (NORAD) کے ایف-16 جنگی طیارے نے روک لیا۔
امریکی حکام کے مطابق یہ واقعہ میری لینڈ کے علاقے تھرمنٹ میں پیش آیا۔ NORAD کے مطابق ایف-16 نے طیارے کو روکا اور اسے محدود فضائی حدود سے بحفاظت باہر لے گیا۔ کارروائی کے دوران توجہ حاصل کرنے اور پائلٹ سے رابطے کے لیے فلیئرز بھی استعمال کیے گئے، تاہم حکام نے واضح کیا کہ ان سے زمین پر موجود افراد کو کوئی خطرہ نہیں تھا۔
حکام نے یہ بھی کہا کہ واقعے سے صدر ٹرمپ یا کیمپ ڈیوڈ کو کسی خطرے کی نشاندہی نہیں ہوئی۔ طیارے کو بغیر کسی نقصان کے علاقے سے باہر لے جایا گیا۔
کیمپ ڈیوڈ ریاست میری لینڈ کے کیٹو کٹن پہاڑی سلسلے میں واقع امریکی صدور کی محفوظ رہائش گاہ ہے، جہاں صدر نجی قیام، ملاقاتوں اور بعض اہم اجلاسوں کے لیے جاتے ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی
ٹرمپ کی کیمپ ڈیوڈ سے جلد واپسی ایسے وقت میں ہوئی جب امریکا نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اپنے شہریوں کے لیے تازہ سکیورٹی انتباہات جاری کیے ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ نے خطے میں موجود امریکی شہریوں کو زیادہ محتاط رہنے اور ممکنہ پروازوں کی منسوخی، فضائی حدود کی بندش اور دیگر سفری رکاوٹوں کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی ہے۔ خطے سے باہر موجود امریکی شہریوں کو بھی مشرق وسطیٰ کے سفر اور وہاں سے گزرنے کے فیصلے پر سنجیدگی سے نظرثانی کا مشورہ دیا گیا ہے۔
محکمہ خارجہ کے مطابق خطے کی سکیورٹی صورتحال پیچیدہ ہے اور اس میں غیر متوقع طور پر مزید بگاڑ پیدا ہوسکتا ہے۔ امریکی حکام نے خاص طور پر ایران اور اس کی حمایت یافتہ گروہوں کی جانب سے امریکی مفادات، کاروباری اداروں اور امریکی شہریوں سے منسلک مقامات کو ممکنہ خطرات سے خبردار کیا ہے۔
سعودی عرب کے حوالے سے امریکی محکمہ خارجہ نے الگ سفری انتباہ میں ایران کی جانب سے ڈرون اور میزائل حملوں اور حوثیوں کی جانب سے مزید کارروائیوں کے خطرے کا ذکر کیا ہے۔
تاہم، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کے کیمپ ڈیوڈ کا قیام مختصر کرنے کو مشرق وسطیٰ کی صورتحال یا محدود فضائی حدود کے واقعے سے براہِ راست منسلک کرنے کی کوئی وجہ بیان نہیں کی۔
