علی حسن
پشاور: پاکستان کرکٹ کو جب بھی کسی مایوس کن شکست کا سامنا ہوتا ہے یا کسی بڑی سیریز یا ٹورنامنٹ میں ٹیم کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہتی ہے تو ردعمل کا انداز تقریباً ہمیشہ ایک جیسا ہوتا ہے۔ کپتان دباؤ میں آجاتا ہے، کوچ کی کارکردگی پر سوال اٹھتے ہیں، سلیکٹرز تنقید کی زد میں آتے ہیں اور انتظامی تبدیلیوں کے مطالبات زور پکڑ لیتے ہیں۔
کچھ ہی عرصے میں چہرے بدل جاتے ہیں۔ ایک عہدے دار کی جگہ دوسرا آجاتا ہے، نیا کپتان مقرر ہوتا ہے، کوچنگ اسٹاف میں تبدیلی کی جاتی ہے اور یوں یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ ناکامی کا ازالہ کردیا گیا ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ایسا ہوتا ہے؟
قیادت، کوچنگ اسٹاف، سلیکشن کمیٹیوں اور انتظامیہ میں بارہا تبدیلیوں کے باوجود پاکستان کرکٹ آج بھی کئی ایسے مسائل سے دوچار ہے جو برسوں سے موجود ہیں۔
یہ صورتحال ایک بنیادی سوال کو جنم دیتی ہے: کیا پاکستان کرکٹ کی مشکلات کی اصل وجہ مختلف عہدوں پر موجود افراد ہیں یا وہ نظام ہے جس کے اندر ان افراد سے کام لینے کی توقع کی جاتی ہے؟
بظاہر مسئلہ افراد سے زیادہ نظام کا دکھائی دیتا ہے۔
پاکستان میں کرکٹ ٹیلنٹ کی کبھی کمی نہیں رہی۔ ملک نے ایسے تیز گیند باز پیدا کیے ہیں جو دنیا کی بہترین بیٹنگ لائن اپس کو مشکلات میں ڈالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ قدرتی صلاحیت رکھنے والے بلے باز، باصلاحیت آل راؤنڈرز اور نوجوان کھلاڑی بھی مسلسل سامنے آتے رہے ہیں۔
اس لیے پاکستان کرکٹ کے مسائل کو صرف ٹیلنٹ کی کمی سے بیان کرنا درست تصویر پیش نہیں کرتا۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس ٹیلنٹ کی شناخت، تربیت، ترقی، انتظام اور درست وقت پر مؤثر استعمال کس طرح کیا جاتا ہے۔
پاکستان کرکٹ کا بنیادی بحران دراصل فیصلہ سازی، انتظام اور احتساب کے طریقہ کار سے جڑا ہوا ہے۔ جب تک ان عملوں میں بنیادی تبدیلی نہیں لائی جاتی، صرف افراد کو تبدیل کرتے رہنے سے مستقل اور پائیدار نتائج حاصل کرنا مشکل رہے گا۔
ایک نیا کپتان نئی سوچ لے کر آسکتا ہے، نیا کوچ مختلف حکمت عملی پیش کرسکتا ہے اور نیا چیئرمین اصلاحات کا اعلان کرسکتا ہے۔ لیکن اگر یہ تمام افراد اسی غیر واضح یا کمزور نظام کے اندر کام کر رہے ہوں تو ان کی انفرادی صلاحیت اور ارادوں کا اثر محدود رہ سکتا ہے۔
پاکستان کرکٹ کو شخصیت پر مبنی انتظام سے نکل کر نظام پر مبنی انتظام کی طرف بڑھنے کی ضرورت ہے۔ اس تبدیلی کی بنیاد انتظام کے بنیادی اصولوں یعنی منصوبہ بندی، تنظیم، قیادت اور کنٹرول پر ہونی چاہیے۔
وقتی ردعمل کے بجائے طویل مدتی منصوبہ بندی
پاکستان کرکٹ کی بنیاد محض شکست کے بعد ہونے والی سوچ بچار پر نہیں ہونی چاہیے۔ قومی ٹیم کو ایک ٹورنامنٹ سے دوسرے ٹورنامنٹ تک عارضی منصوبہ بندی کے بجائے واضح اور طویل مدتی حکمت عملی کے تحت آگے بڑھنا چاہیے۔
کھلاڑیوں کی ترقی، مستقبل کے کھلاڑیوں کی تیاری، جانشینی، کام کے بوجھ کا انتظام، ڈومیسٹک کرکٹ، ٹیم کے امتزاج اور بڑے بین الاقوامی مقابلوں کے لیے پیشگی منصوبہ بندی ضروری ہے۔
کرکٹ کا نظام ہر شکست یا عوامی دباؤ کے بعد فوری ردعمل دینے کے بجائے ایک ایسے وژن کے تحت چلنا چاہیے جو اگلی سیریز یا ٹورنامنٹ سے کہیں آگے دیکھتا ہو۔
اختیارات اور ذمہ داریوں کا واضح تعین
پاکستان کرکٹ کے لیے تنظیمی ڈھانچہ بھی ایک اہم معاملہ ہے۔ جب ذمہ داریاں ایک دوسرے سے متصادم ہوں یا اختیارات واضح نہ ہوں تو فیصلہ سازی متاثر ہوتی ہے اور جوابدہی سے بچنے کی گنجائش پیدا ہوتی ہے۔
ایک پیشہ ور کھیلوں کی تنظیم میں بورڈ، انتظامیہ، کوچنگ اسٹاف، سلیکٹرز اور کپتان سمیت ہر فرد کا کردار واضح ہونا چاہیے۔ ہر عہدے کے اختیارات اور ذمہ داریوں کا تعین ہونا چاہیے تاکہ فیصلوں کے لیے متعلقہ فرد یا ادارے کو جوابدہ ٹھہرایا جا سکے۔
قیادت صرف کپتان یا چیئرمین کا نام نہیں
قیادت کو محض کپتان یا چیئرمین کی تقرری تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔ مؤثر قیادت کا مطلب سمت، استحکام اور اعتماد فراہم کرنا ہے۔
اگر اہم عہدوں پر مسلسل تبدیلیاں ہوتی رہیں تو نہ صرف غیر یقینی صورتحال پیدا ہوتی ہے بلکہ ایک مستقل کرکٹ کلچر کی تشکیل بھی مشکل ہوجاتی ہے۔
کھلاڑیوں سے ایک مستحکم ماحول میں مستقل کارکردگی کی توقع کرنا مشکل ہے اگر اس ماحول کو چلانے والے افراد بار بار تبدیل ہوتے رہیں اور ہر نئی انتظامیہ اپنی ترجیحات ازسرنو طے کرے۔
احتساب شکست کے بعد نہیں، ہر روز ہونا چاہیے
پاکستان کرکٹ کو احتساب کے ایک مضبوط اور مستقل نظام کی بھی ضرورت ہے۔ فیصلوں کا جائزہ جذبات یا کسی ایک شکست کے بجائے پیشہ ورانہ معیارات اور قابلِ پیمائش نتائج کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔
کھلاڑیوں کے انتخاب، کوچز کی تقرری، کارکردگی کے انتظام اور ترقیاتی پروگراموں کا باقاعدہ جائزہ لیا جانا چاہیے۔
احتساب کا عمل صرف اس وقت شروع نہیں ہونا چاہیے جب کوئی بڑی شکست سامنے آئے۔ اسے ادارے کے روزمرہ انتظام کا حصہ بنانا ہوگا۔
اصل توجہ ہیومن ریسورس مینجمنٹ پر
شاید پاکستان کرکٹ میں سب سے زیادہ سنجیدہ توجہ **ہیومن ریسورس مینجمنٹ** کے شعبے کو دینے کی ضرورت ہے۔
ہر بڑی تنظیم کی طرح کرکٹ کا نظام بھی بالآخر لوگوں کے ذریعے ہی چلتا ہے۔ کسی بھی ادارے کی کامیابی اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ وہ اپنے انسانی وسائل کو کس حد تک مؤثر انداز میں بھرتی، تربیت، ترقی، متحرک اور برقرار رکھتا ہے۔
پاکستان کرکٹ کو صرف باصلاحیت کھلاڑی تلاش کرنے تک محدود رہنے کے بجائے ٹیلنٹ کو ایک طویل مدتی اسٹریٹجک وسیلہ سمجھ کر اس کی منصوبہ بندی اور ترقی کرنی ہوگی۔
ایک مضبوط ہیومن ریسورس مینجمنٹ نظام اس بات کو یقینی بنا سکتا ہے کہ مختلف ذمہ داریوں کے لیے افراد کا انتخاب اہلیت، مہارت اور واضح معیار کی بنیاد پر ہو۔ اسی طرح کھلاڑیوں، کوچز، تجزیہ کاروں، منتظمین اور معاون عملے کے لیے بھی منظم پیشہ ورانہ راستے تشکیل دیے جاسکتے ہیں۔
اس کا ایک اہم فائدہ ادارہ جاتی تسلسل بھی ہوگا۔ قیادت تبدیل ہونے کی صورت میں سابقہ منصوبوں اور پروگراموں کو ازسرنو شروع کرنے کے بجائے ایک منظم نظام انہیں آگے بڑھا سکے گا۔
جانشینی اور ادارہ جاتی تسلسل
پاکستان کرکٹ کو جانشینی کی منصوبہ بندی، کارکردگی کے مؤثر انتظام، پیشہ ورانہ ترقی اور ادارہ جاتی تسلسل کی ضرورت ہے۔
ایسا ماحول تشکیل دینا ہوگا جہاں مہارت کی قدر کی جائے، ذمہ داریاں واضح ہوں اور کارکردگی کا غیر جانب دار اور قابلِ پیمائش طریقے سے جائزہ لیا جائے۔
پاکستان کرکٹ میں بار بار ایک ہی چکر دہرایا جاتا ہے: ناکامی، تنقید، دباؤ، تبدیلی اور پھر کچھ عرصے بعد وہی مسائل دوبارہ سامنے آجاتے ہیں۔
اگر ہر ناکامی کا جواب صرف نئے چہروں کی تلاش ہے تو ممکن ہے کہ مسئ
