زمین سے خلا تک: گوگل کا اے آئی کمپیوٹنگ کا نیا منصوبہ

0

نیوز ڈیسک

سان فرانسسکو: گوگل نے خلا میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی کمپیوٹنگ کے امکانات جانچنے کے لیے اپنے تحقیقی منصوبے ’’پروجیکٹ سن کیچر‘‘ کے تحت ایک پروٹو ٹائپ سیٹلائٹ لانچ کرنے کی تیاری شروع کردی ہے۔

گوگل کے مطابق تجرباتی مشن کا مقصد یہ جانچنا ہے کہ آیا خلا میں مسلسل دستیاب سورج کی روشنی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اے آئی کمپیوٹنگ کے لیے بڑے پیمانے پر بنیادی ڈھانچہ مدار میں قائم کیا جاسکتا ہے۔

کمپنی اس مقصد کے لیے اپنے تیار کردہ ٹینسر پروسیسنگ یونٹس (TPUs) سیٹلائٹ پر نصب کرے گی۔ یہ خصوصی چپس بالخصوص اے آئی سے متعلق کمپیوٹنگ کے کاموں کے لیے تیار کی گئی ہیں۔

محققین اس دوران یہ جائزہ لیں گے کہ ٹی پی یوز خلا میں تابکاری، انتہائی درجہ حرارت اور خلائی پرواز کے دوران پیدا ہونے والے مکینیکل دباؤ میں کس طرح کارکردگی دکھاتے ہیں۔

تجربے کا ایک اہم حصہ کولنگ سسٹم بھی ہوگا۔ خلا میں روایتی ایئر بیسڈ کولنگ مؤثر طریقے سے کام نہیں کرسکتی، اس لیے گوگل ہیٹ پائپس اور ریڈی ایٹرز پر مشتمل نظام کے ذریعے اے آئی پروسیسرز سے پیدا ہونے والی حرارت کو خارج کرنے کی صلاحیت جانچے گا۔

گوگل اس منصوبے پر سیٹلائٹ کمپنی پلانیٹ لیبز کے ساتھ کام کر رہا ہے، جبکہ پروٹو ٹائپ کو اسپیس ایکس کے ٹرانسپورٹر-18 رائیڈ شیئر مشن کے ذریعے خلا میں بھیجنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

گوگل کا کہنا ہے کہ ٹی پی یوز زمین پر، بشمول یونیورسٹی آف کیلیفورنیا میں، پہلے ہی مختلف تجربات سے گزر چکے ہیں، تاہم یہ جانچنا ضروری ہے کہ وہ حقیقی خلائی ماحول میں کس طرح کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

خلا میں ڈیٹا سینٹرز کا تصور صرف گوگل تک محدود نہیں۔ اسپیس ایکس اور اسٹار کلاؤڈ سمیت دیگر کمپنیاں بھی مدار میں ڈیٹا سینٹرز کے امکانات پر تحقیق کر رہی ہیں، بالخصوص زمین پر موجود ڈیٹا سینٹرز کی بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات کے تناظر میں۔

ماہرین کے مطابق اگرچہ مداری اے آئی ڈیٹا سینٹرز کا تصور مستقبل میں اہم امکانات رکھتا ہے، تاہم لانچنگ کی بلند لاگت، پیچیدہ انجینئرنگ اور بڑی تعداد میں مصنوعی سیاروں کی تیاری جیسے چیلنجز اس ٹیکنالوجی کی تجارتی سطح پر تعیناتی میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔

اگر تجربہ کامیاب رہتا ہے تو یہ منصوبہ مستقبل میں اے آئی کی بڑھتی ہوئی کمپیوٹنگ ضروریات کو زمین کے بجائے خلا میں پورا کرنے کی جانب ایک اہم تجرباتی قدم ثابت ہوسکتا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.