ندیم تنولی
اسلام آباد: پاکستان کے بلند پہاڑی علاقوں میں گلیشیئرز کے پگھلنے سے بننے والی ہزاروں جھیلیں بظاہر خاموش دکھائی دیتی ہیں، مگر ان میں جمع پانی کے پیچھے موجود قدرتی رکاوٹیں کبھی بھی ٹوٹ سکتی ہیں۔ ایسی صورت میں نیچے آباد لوگوں کے پاس محفوظ مقام تک پہنچنے کے لیے صرف چند منٹ ہو سکتے ہیں۔
سینیٹ کی ایک کمیٹی کو دی گئی بریفنگ کے مطابق پاکستان میں 13,032 گلیشیئرز اور 3,000 سے زائد گلیشیائی جھیلیں موجود ہیں، جن میں سے 33 کو خطرناک قرار دیا گیا ہے۔ ان جھیلوں کے اچانک پھٹنے سے گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا میں تقریباً 71 لاکھ افراد متاثر ہو سکتے ہیں۔
یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان کو گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے سے آنے والے سیلاب (GLOF) کے ساتھ ساتھ ان علاقوں میں موجود قبل از وقت انتباہی نظام کی کمزوریوں کا بھی سامنا ہے۔
جب 15 سے 30 منٹ ہی زندگی اور موت کا فیصلہ کریں
GLOF کا واقعہ انتہائی تیزی سے رونما ہو سکتا ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ جھیل پھٹنے کے بعد سیلابی پانی کو نشیبی آبادیوں تک پہنچنے میں بعض صورتوں میں صرف 15 سے 30 منٹ لگ سکتے ہیں۔
ایسے حالات میں بروقت اطلاع ہی جان بچانے کا بنیادی ذریعہ بن جاتی ہے۔
گلگت بلتستان میں مجموعی طور پر 174 قبل از وقت انتباہی نظام فراہم کیے گئے ہیں، جن میں دریا اور جھیلوں کی سطح ناپنے والے گیجز، بارش ناپنے والے آلات اور موسمیاتی اسٹیشن شامل ہیں۔ حکام کے مطابق ان میں سے 151 نصب کیے جا چکے ہیں۔
تاہم، حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ابر آلود موسم میں بعض سینسرز اور مواصلاتی سمز میں تکنیکی مسائل پیدا ہوتے ہیں، جبکہ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب مسلسل اور قابلِ اعتماد نگرانی سب سے زیادہ ضروری ہوتی ہے۔
پاکستان محکمہ موسمیات مرکزی مانیٹرنگ ڈیش بورڈ چلاتا ہے، لیکن حکام کے مطابق بعض اوقات معلومات کو صوبائی حکام تک پہنچنے میں دو سے تین گھنٹے لگ جاتے ہیں۔
ایسے سیلاب کے لیے، جو نصف گھنٹے کے اندر کسی آبادی تک پہنچ سکتا ہے، یہ تاخیر ایک سنگین مسئلہ بن سکتی ہے۔
اسی لیے گلگت بلتستان کے حکام نے انتباہی نظام کے ڈیٹا تک ریئل ٹائم رسائی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ضلعی انتظامیہ فوری طور پر خطرے کی اطلاع جاری کر سکے اور لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے اقدامات کر سکے۔
وادیاں شدید خطرے میں
خطرہ خاص طور پر پاکستان کے دور افتادہ اور بلند پہاڑی علاقوں میں موجود بستیوں کو لاحق ہے۔
حکام کے مطابق گلگت بلتستان میں تقریباً 171 وادیاں شدید خطرے سے دوچار ہیں، جن میں سے کئی گلیشیئرز اور گلیشیائی جھیلوں کے نیچے واقع ہیں۔
اگست 2026 میں سپارکو کی جانب سے کیے گئے ایک جائزے میں گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کی 115 جھیلوں کا جائزہ لیا گیا۔ تفصیلی خطرے کے جائزے کے لیے منتخب 24 گلیشیائی جھیلوں میں سے پانچ کو شدید، 10 کو درمیانے اور نو کو کم خطرے کا حامل قرار دیا گیا۔
شدید خطرے والی پانچ جھیلیں استور، غذر اور ہنزہ میں واقع تھیں۔
حکام کے مطابق 2025 اور 2026 کے دوران گلگت بلتستان میں برف اور گلیشیئرز کے بڑے پیمانے پر پگھلاؤ سے متعلق 100 سے زائد سیلابی واقعات رپورٹ ہوئے۔
ان واقعات نے پہلے ہی بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے۔
ٹورمک میں تقریباً 800 گھرانے دو ہفتوں تک خطے کے دیگر علاقوں سے منقطع رہے اور ضروری سامان کی ترسیل کے لیے ہیلی کاپٹر استعمال کرنا پڑا۔
حکام کے مطابق 2025 میں سیلاب اور متعلقہ واقعات کے نتیجے میں 41 افراد جاں بحق اور 52 زخمی ہوئے، جبکہ 800 سے زائد مکانات مکمل تباہ اور تقریباً 400 کو جزوی نقصان پہنچا۔
2026 میں رپورٹ ہونے والے نقصانات میں 525 مکانات، تقریباً 1,000 مویشی، 31 پل، 41 آبپاشی کے ہیڈ ورکس اور تقریباً 636 کلومیٹر سڑکیں شامل ہیں۔
محفوظ مقامات بن گئے، مگر اطلاع کا سوال برقرار
خطرے سے دوچار آبادیوں کو بچانے کے لیے گلگت بلتستان میں مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
حکام نے 10 اضلاع میں 48 محفوظ مقامات قائم کیے ہیں، جبکہ 16 وادیوں میں کمیونٹی سطح پر آفات سے نمٹنے کے مراکز اور حفاظتی دیواریں بھی تعمیر کی گئی ہیں۔
ان محفوظ مقامات میں کئی سرکاری عمارتیں اور بلند مقامات پر قائم اسکول شامل ہیں۔ منصوبہ یہ ہے کہ GLOF، اچانک سیلاب یا کلاؤڈ برسٹ کی صورت میں مقامی آبادی انخلاء کی مشقوں کے ذریعے ان مقامات تک پہنچ سکے۔
لیکن اصل سوال یہ ہے کہ اگر خطرے کی اطلاع ہی وقت پر نہ پہنچے تو یہ محفوظ مقامات کتنے مؤثر ثابت ہوں گے؟
کمیٹی کو بتایا گیا کہ پاکستان میں فی الحال کوئی ایک مخصوص قومی ادارہ موجود نہیں جو گلیشیائی جھیلوں کی باقاعدہ نگرانی اور خطرے کے جامع جائزے کا ذمہ دار ہو۔
اس کے نتیجے میں ذمہ داریاں مختلف اداروں میں تقسیم ہیں۔ وزارتِ آبی وسائل اور واپڈا گلیشیئرز اور آبی نظام سے متعلق امور دیکھتے ہیں، محکمہ موسمیات موسم کی نگرانی کرتا ہے، سپارکو سیٹلائٹ معلومات فراہم کرتا ہے جبکہ این ڈی ایم اے آفات سے نمٹنے کی ذمہ داری ادا کرتا ہے۔
حکومت نے ان اداروں کے درمیان رابطہ بہتر بنانے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔
کیا ٹیکنالوجی چند منٹوں کا فرق ختم کر سکتی ہے؟
زیرِ غور تجاویز میں ایک مشترکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم بھی شامل ہے، جس کے ذریعے متعلقہ ادارے ریئل ٹائم بنیادوں پر معلومات کا تبادلہ کر سکیں۔
حکام نے گلیشیئرز کی ایک یکساں قومی انوینٹری، خطرے کے نقشے، سیٹلائٹ اور ڈرون مانیٹرنگ، مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ کے استعمال، ڈیجیٹل معلوماتی نظام اور کمیونٹی پر مبنی انتباہی نیٹ ورکس قائم کرنے کی تجاویز بھی دی ہیں۔
سیٹلائٹ تصاویر نئی گلیشیائی جھیلوں کی نشاندہی اور ان کی نگرانی میں مدد دے سکتی ہیں، لیکن حکام کے مطابق ان تصاویر کی ایک اہم حد یہ ہے کہ وہ جھیل کی گہرائی کے بارے میں مکمل معلومات فراہم نہیں کرتیں۔
صرف جھیل میں موجود پانی کی مقدار ہی خطرے کا تعین نہیں کرتی۔ اس پانی کو روکنے والی قدرتی برفانی یا زمینی رکاوٹ کتنی مضبوط ہے، یہ بھی اتنا ہی اہم سوال ہے۔
اسی لیے ماہرین کے مطابق خطرے کے جائزے میں جھیل کے حجم کے ساتھ ساتھ اسے روکنے والی قدرتی رکاوٹ کے استحکام کو بھی شامل کرنا ضروری ہے۔
گلیشیئرز: خطرہ بھی، پانی کا بنیادی ذریعہ بھی
پاکستان کے لیے گلیشیئرز صرف خطرے کا ذریعہ نہیں بلکہ پانی کی زندگی بخش فراہمی کا اہم حصہ بھی ہیں۔
بریفنگ کے مطابق ہندوکش، قراقرم اور ہمالیہ کے خطے میں موجود 13,032 گلیشیئرز سے نشیبی علاقوں میں رہنے والے 20 کروڑ سے زائد افراد کے پانی کی ضروریات وابستہ ہیں۔
پاکستان میں فی کس پانی کی دستیابی بھی کئی دہائیوں کے دوران نمایاں کم ہوئی ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق یہ 1950 میں تقریباً 5,800 مکعب میٹر سالانہ تھی، جو 2025 میں کم ہو کر 850 مکعب میٹر سے بھی نیچے آ گئی۔
دریائے سندھ کے نظام میں پانی کے بہاؤ کا تقریباً 60 سے 70 فیصد حصہ برف اور گلیشیئرز کے پگھلنے سے حاصل ہونے کا تخمینہ ہے۔
موسمیاتی امور پر بریفنگ میں ICIMOD کے ایک مطالعے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ 2010 سے 2020 کے درمیان پاکستان کے گلیشیئرز کے مجموعی ذخائر میں تقریباً 9 فیصد کمی ہوئی، جبکہ 2023 سے 2026 کے دوران موسمی برف باری کے معمولات میں بھی مسلسل کمی رپورٹ ہوئی۔
یوں پاکستان کو ایک پیچیدہ صورتحال کا سامنا ہے: یہی گلیشیئرز ملک کی آبی ضروریات کے لیے ناگزیر ہیں، لیکن ان میں ہونے والی تبدیلیاں پہاڑی آبادیوں کے لیے نئے خطرات بھی پیدا کر رہی ہیں۔
نظام موجود ہے، اصل امتحان اس کے فعال رہنے کا ہے
یو این ڈی پی کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ 246 انتباہی اسٹیشن پاکستان محکمہ موسمیات کے حوالے کیے جا چکے ہیں۔
ان کے مطابق کسی بھی وقت اوسطاً 210 سے 225 اسٹیشن فعال رہتے ہیں۔
یہ اسٹیشن سیٹلائٹ اور 4G کنکشن استعمال کرتے ہیں، جبکہ 4G دستیاب نہ ہونے والے علاقوں میں سیٹلائٹ مواصلاتی نظام استعمال کیا جاتا ہے۔
اب چیلنج صرف مزید اسٹیشن نصب کرنا نہیں بلکہ یہ یقینی بنانا بھی ہے کہ خطرے کے وقت موجودہ نظام قابلِ اعتماد انداز میں کام کرتے رہیں۔
پہاڑی بستیوں سے محفوظ مقامات تک
نگرانی اور ٹیکنالوجی کے ساتھ زمین کے استعمال کی بہتر منصوبہ بندی بھی ضروری قرار دی جا رہی ہے۔
انتہائی خطرے والے علاقوں میں رہنے والی آبادیوں کو نسبتاً محفوظ مقامات پر منتقل کرنے پر غور کیا جا سکتا ہے۔ ڈیجیٹل ماڈلنگ کے ذریعے یہ اندازہ لگانے میں بھی مدد مل سکتی ہے کہ کسی GLOF کی صورت میں سیلابی پانی کن راستوں سے گزر سکتا ہے اور کون سی آبادیاں اس کی زد میں آئیں گی۔
لیکن گلیشیائی جھیلوں کے نیچے آباد لوگوں کے لیے بنیادی سوال اب بھی وہی ہے:
کیا پانی پہنچنے سے پہلے خطرے کی اطلاع ان تک پہنچ جائے گی؟
پاکستان کے لیے GLOF کا چیلنج صرف گلیشیئرز، جھیلوں یا موسمیاتی تبدیلی تک محدود نہیں۔ اصل مسئلہ اس رفتار کا بھی ہے جس سے خطرے کی معلومات پہاڑوں میں نصب سینسرز سے مانیٹرنگ ڈیش بورڈ، وہاں سے انتظامیہ اور پھر انتظامیہ سے دور دراز دیہات تک پہنچتی ہے۔
جب کسی آبادی کے پاس محفوظ مقام تک پہنچنے کے لیے صرف چند منٹ ہوں، تو انتباہ میں گزرنے والا ہر لمحہ اہم ہو جاتا ہے۔
