لاہور ہائی کورٹ کا پنجاب پولیس کو ایف آئی آر کا فونٹ بڑا کرنے کا حکم

0

نیوز ڈیسک

لاہور: لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب پولیس کو ایف آئی آرز میں استعمال ہونے والے فونٹ کا سائز بڑھانے اور انہیں زیادہ قابلِ مطالعہ بنانے کی ہدایت کردی۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ایف آئی آرز میں انتہائی چھوٹے فونٹ کے استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کی جانب سے کاغذ بچانے کی کوشش میں دستاویزات پڑھنے میں دشواری پیدا ہو رہی ہے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پولیس کاغذ تو بچا رہی ہے لیکن اس عمل سے بینائی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ بعض ایف آئی آرز کا مواد تین صفحات سے کم کرکے ایک صفحے میں سمیٹ دیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں تحریر انتہائی چھوٹی ہوجاتی ہے۔

عدالت نے انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس راؤ عبدالکریم کو ہدایت کی کہ صوبے بھر میں ایف آئی آرز یکساں اور بڑے فونٹ میں پرنٹ کرنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔

آئی جی پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ پولیس پہلے ہی فونٹ کا سائز بڑھانے کے معاملے پر چیئرمین پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کو خط لکھ چکی ہے۔

چیف جسٹس نے پولیس کی جانب سے کیے گئے اقدامات کی تفصیلات پر مبنی رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت 29 ستمبر تک ملتوی کردی۔

یہ معاملہ ایک روز قبل چنگ پولیس سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران سامنے آیا تھا، جب ایس پی عبداللہ عدالت میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس نے انہیں ایک ایف آئی آر پڑھنے کو کہا، تاہم چھوٹے فونٹ کے باعث انہیں دستاویز پڑھنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔

چیف جسٹس نے سوال اٹھایا کہ پولیس کی سرکاری دستاویز کو پڑھنا اتنا مشکل کیوں ہے اور تحریر کے انتہائی چھوٹے سائز پر طنزیہ ریمارکس بھی دیے۔

عدالت نے قرار دیا کہ ایف آئی آر فوجداری مقدمے کی بنیادی دستاویز ہوتی ہے، جس میں ابتدائی الزامات درج کیے جاتے ہیں اور جو تفتیش سمیت بعد کی قانونی کارروائی میں اہم حوالہ فراہم کرتی ہے۔ اس لیے اس کا واضح اور آسانی سے پڑھا جانے کے قابل ہونا ضروری ہے۔

لاہور ہائی کورٹ نے پولیس کو ہدایت کی کہ مسئلے کو انفرادی واقعات تک محدود رکھنے کے بجائے صوبہ بھر میں ایف آئی آرز کے فارمیٹ اور فونٹ سے متعلق مناسب اقدامات کیے جائیں۔

عدالت نے پولیس کے خلاف ایک شہری کی جانب سے دائر توہینِ عدالت کی درخواست پر بھی علیحدہ رپورٹ طلب کرلی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.