عادت، جنون یا اوبسیسو کمپلسو ڈس آرڈر—حدِ فاصل کہاں ہے؟

0

نیوز ڈیسک

اسلام آباد: گھر سے نکلنے سے پہلے دروازے کا تالا دو بار چیک کرنا، بار بار ہاتھ دھونا یا اشیا کو ایک خاص ترتیب میں رکھنا بظاہر معمول کی عادت یا صفائی پسندی محسوس ہو سکتی ہے، تاہم جب ایسے رویوں پر قابو پانا مشکل ہو جائے، ان میں روزانہ کئی گھنٹے صرف ہونے لگیں یا یہ مسلسل بے چینی اور اضطراب کا باعث بنیں تو یہ کسی عام عادت کے بجائے ایک ذہنی عارضے کی علامت ہو سکتے ہیں۔

’اوبسیسو کمپلسو ڈس آرڈر‘ (OCD) ایک ذہنی صحت کا عارضہ ہے جس میں بار بار اور ناپسندیدہ خیالات یا خدشات فرد کو ایسے مخصوص کام دہرانے پر مجبور کر سکتے ہیں جن کا مقصد بے چینی یا ذہنی دباؤ کو عارضی طور پر کم کرنا ہوتا ہے۔

ماہرینِ نفسیات کے مطابق عادت اور ممکنہ طور پر سنگین عارضے کے درمیان اہم فرق اس بات سے سمجھا جا سکتا ہے کہ کسی رویے سے فرد کی ذہنی کیفیت اور روزمرہ زندگی کس حد تک متاثر ہو رہی ہے۔

کلینیکل سائیکالوجسٹ ڈاکٹر عائشہ خان کے مطابق، بہت سے لوگ زندگی میں کسی نہ کسی شکل میں بار بار دہرائے جانے والے رویوں کا مظاہرہ کرتے ہیں، تاہم یہ پہچاننا ضروری ہے کہ یہ رویے کب روزمرہ زندگی میں رکاوٹ بننے لگتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بروقت مداخلت اور مناسب علاج OCD میں مبتلا افراد کی حالت میں نمایاں بہتری لا سکتا ہے۔

OCD کی بعض عام علامات میں دروازے کے لاک یا چولہے کو بار بار چیک کرنا، ضرورت سے زیادہ ہاتھ دھونا اور اشیا کو مخصوص اصولوں کے مطابق ترتیب دینا شامل ہو سکتا ہے۔ ایسے رویوں سے فرد کو وقتی طور پر سکون ملتا ہے، لیکن بے چینی جلد دوبارہ پیدا ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں وہی عمل بار بار دہرانے کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ کیفیت ایک ایسے چکر کی شکل اختیار کر سکتی ہے جس میں ناپسندیدہ خیال یا خوف بے چینی پیدا کرتا ہے، فرد اس بے چینی کو کم کرنے کے لیے کوئی مخصوص عمل دہراتا ہے اور وقتی سکون کے بعد دوبارہ وہی خیال یا اضطراب سامنے آ جاتا ہے۔

خاندانوں کے لیے بھی ایسے رویوں کو سمجھنا بعض اوقات مشکل ہوتا ہے۔ بار بار دہرائے جانے والے کاموں کو محض ضد، توجہ حاصل کرنے کی کوشش یا شخصیت کی کوئی غیر معمولی خصوصیت سمجھ کر نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔ اس رویے کے باعث متاثرہ افراد اپنے تجربات کے بارے میں بات کرنے یا مدد حاصل کرنے سے بھی ہچکچا سکتے ہیں۔

ذہنی صحت کے ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ایسی غلط فہمیاں علامات کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہیں۔ اگر بار بار آنے والے خیالات یا رویے اتنا وقت لینے لگیں کہ کام، تعلیم، تعلقات یا روزمرہ کی ذمہ داریاں متاثر ہونے لگیں تو پیشہ ورانہ تشخیص اور مدد حاصل کرنا ضروری ہو سکتا ہے۔

OCD کے اثرات صرف متاثرہ فرد تک محدود نہیں رہتے بلکہ بعض اوقات خاندان کے افراد بھی ان معمولات کا حصہ بن جاتے ہیں۔ دوسری جانب ذہنی صحت سے متعلق سماجی بدنامی اور غلط فہمیاں بھی لوگوں کو نفسیاتی مدد لینے سے روک سکتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ذہنی صحت کے بارے میں آگاہی بڑھانا اس مسئلے سے نمٹنے کا اہم ذریعہ ہے۔ آگاہی مہمات، ورکشاپس اور سیمینارز کے ذریعے OCD اور دیگر ذہنی عوارض کی علامات کے بارے میں معلومات فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ متاثرہ افراد بروقت پیشہ ورانہ مدد حاصل کر سکیں۔

ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ کبھی کبھار دہرائے جانے والے خیالات یا رویے کا لازماً یہ مطلب نہیں کہ فرد OCD میں مبتلا ہے۔ مسلسل اور دخل اندازی کرنے والے خیالات، انہیں کم کرنے کے لیے مجبوری کے تحت دہرائے جانے والے رویے، نمایاں ذہنی پریشانی اور روزمرہ زندگی میں خلل ایسی علامات ہیں جن پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔

ماہرین کے مطابق ان علامات کو سمجھنا اور انہیں محض ’عادت‘ یا ’ضد‘ قرار دینے کے بجائے ہمدردی اور سمجھ بوجھ سے دیکھنا OCD میں مبتلا افراد کو خاموشی سے تکلیف برداشت کرنے کے بجائے مناسب مدد حاصل کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہو سکتا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.