نیوز ڈیسک
ڈارون: بنگلہ دیش نے ٹیسٹ کرکٹ میں ایک تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے آسٹریلیا کو اسی کی سرزمین پر نو وکٹوں سے شکست دے دی۔ ڈارون کے مارارا اوول میں کھیلے گئے سیریز کے پہلے ٹیسٹ میں بنگلہ دیش نے 57 رنز کا معمولی ہدف صرف ایک وکٹ کے نقصان پر حاصل کر کے دو میچوں کی سیریز میں 1-0 کی برتری حاصل کرلی۔
یہ آسٹریلیا کے خلاف آسٹریلوی سرزمین پر بنگلہ دیش کی پہلی ٹیسٹ فتح ہے، جسے بنگلہ دیشی کرکٹ کی تاریخ کی سب سے بڑی کامیابیوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
فتح کے لیے درکار 57 رنز کے تعاقب میں بنگلہ دیش کو زیادہ مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ مومن الحق نے بیو ویبسٹر کو باؤنڈری لگا کر تاریخی کامیابی پر مہر ثبت کی، جس کے بعد بنگلہ دیشی کھلاڑیوں نے میدان میں بھرپور جشن منایا جبکہ اسٹینڈز میں موجود شائقین بھی خوشی سے جھوم اٹھے۔
یہ کامیابی چار دن تک جاری رہنے والی سخت اور گرم موسم میں کھیلی گئی کرکٹ کے بعد سامنے آئی، جس میں بنگلہ دیش نے بیٹنگ، بولنگ اور فیلڈنگ تینوں شعبوں میں آسٹریلیا کو مسلسل دباؤ میں رکھا۔
میراز نے فیصلہ کن کردار ادا کیا
بنگلہ دیش کی کامیابی میں اسپن باؤلنگ آل راؤنڈر مہدی حسن میراز کا کردار سب سے نمایاں رہا۔ آسٹریلیا کی دوسری اننگز میں میراز نے اہم مواقع پر وکٹیں حاصل کرکے میزبان ٹیم کی مزاحمت توڑ دی۔
آسٹریلیا نے چوتھے دن کا آغاز چار وکٹوں کے نقصان پر 161 رنز سے کیا تھا اور اسے بنگلہ دیش کی پہلی اننگز کی برتری ختم کرنے کے لیے مزید 67 رنز درکار تھے۔ کیمرون گرین کی شاندار مزاحمت کے باوجود آسٹریلوی ٹیم 284 رنز پر آل آؤٹ ہوگئی۔
میراز نے آخری دن چار وکٹیں حاصل کیں۔ وہ میچ میں بلے اور گیند دونوں سے مسلسل مؤثر ثابت ہوئے۔ بنگلہ دیش کی پہلی اننگز میں انہوں نے 65 رنز بنائے تھے جبکہ تیسرے دن آسٹریلیا کے تجربہ کار بیٹر اسٹیو اسمتھ کو 44 رنز پر آؤٹ کیا۔
چوتھے دن میراز نے وکٹ کیپر ایلکس کیری کو 30 رنز پر پویلین بھیجا اور اس کے بعد بیو ویبسٹر کو صرف پانچ رنز پر بولڈ کر دیا۔ آسٹریلوی کپتان پیٹ کمنز بھی صرف آٹھ رنز بنا سکے اور میراز کی گیند پر بیٹ پیڈ کیچ دے بیٹھے۔
فتح کے بعد میراز نے اسے ٹیم کے لیے ’’بہترین لمحہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جس انداز میں بنگلہ دیش نے کرکٹ کھیلی، وہ ٹیم کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
گرین کی سنچری بھی آسٹریلیا کو نہ بچا سکی
آسٹریلیا کی جانب سے کیمرون گرین نے شکست ٹالنے کی بھرپور کوشش کی اور دباؤ کے باوجود شاندار سنچری اسکور کی۔
گرین نے نچلے نمبروں کے بلے بازوں کے ساتھ اہم شراکت داریاں قائم کرتے ہوئے 104 رنز بنائے۔ یہ ان کے ٹیسٹ کیریئر کی تیسری سنچری اور آسٹریلوی سرزمین پر پہلی سنچری تھی۔
گرین اور مچل اسٹارک نے آٹھویں وکٹ کے لیے 43 رنز کی شراکت قائم کی۔ اسٹارک 18 رنز بنا کر تسکین احمد کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوئے۔
گرین نے لنچ کے بعد اپنی سنچری مکمل کی، تاہم کچھ ہی دیر بعد حسن محمود نے انہیں بولڈ کر دیا۔ ان کی وکٹ کے ساتھ ہی آسٹریلیا کی میچ بچانے کی آخری بڑی امید بھی دم توڑ گئی۔
گرین کی مزاحمت اس لیے بھی اہم تھی کہ حالیہ عرصے میں آسٹریلوی ٹیم میں ان کی پوزیشن پر سوالات اٹھائے جا رہے تھے۔ ان کی سنچری نے ان تنقیدوں کا میدان میں مضبوط جواب دیا، تاہم وہ اپنی ٹیم کو شکست سے نہ بچا سکے۔
میراز نے بعد ازاں نیتھن لیون کو 15 رنز پر ایل بی ڈبلیو کرکے آسٹریلیا کی دوسری اننگز کا خاتمہ کر دیا۔
پہلی اننگز میں ہی بنگلہ دیش نے گرفت مضبوط کرلی تھی
بنگلہ دیش کی تاریخی فتح صرف آخری 57 رنز کے تعاقب کی کہانی نہیں تھی۔ میچ کی بنیاد دراصل پہلی اننگز میں ہی رکھ دی گئی تھی۔
آسٹریلیا پہلی اننگز میں صرف 198 رنز پر آؤٹ ہوا، جس کے جواب میں بنگلہ دیش نے 426 رنز بنا کر 228 رنز کی بڑی برتری حاصل کی۔
اوپنر تنزید حسن نے اس برتری میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے 101 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔ وہ ہدف کے تعاقب میں صفر پر آؤٹ ہوئے، تاہم ان کی پہلی اننگز کی سنچری نے بنگلہ دیش کو آسٹریلیا کے خلاف فیصلہ کن برتری حاصل کرنے میں مدد دی۔
حسن محمود بھی بنگلہ دیش کے اہم کھلاڑیوں میں شامل رہے اور انہوں نے پورے میچ میں نو وکٹیں حاصل کیں۔
23 سال بعد آسٹریلوی سرزمین پر تاریخی فتح
بنگلہ دیش کی اس کامیابی کی اہمیت اسکور بورڈ سے کہیں زیادہ ہے۔
دونوں ٹیموں نے 2003 کے بعد آسٹریلیا میں کوئی ٹیسٹ سیریز نہیں کھیلی تھی۔ 23 سال بعد جب بنگلہ دیش کو آسٹریلیا کی سرزمین پر ٹیسٹ کھیلنے کا موقع ملا تو اس نے عالمی ٹیسٹ کرکٹ کی صف اول کی ٹیم کو اسی کے میدان میں شکست دے کر اپنی صلاحیت کا واضح ثبوت پیش کیا۔
بنگلہ دیش نے ٹیسٹ کرکٹ کا سفر شروع کیے تقریباً 26 سال بعد یہ کارنامہ انجام دیا ہے۔ آسٹریلیا جیسی مضبوط ٹیم کو اس کے اپنے حالات میں شکست دینا طویل فارمیٹ میں بنگلہ دیش کی اب تک کی سب سے بڑی کامیابیوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔
مارارا اوول میں آخری باؤنڈری لگتے ہی بنگلہ دیشی کھلاڑیوں کا جشن اس تاریخی لمحے کی اہمیت بیان کر رہا تھا۔ دوسری جانب آسٹریلوی ٹیم اپنے ہی میدان پر ایک ایسے نتیجے سے دوچار تھی جس کی شاید سیریز کے آغاز میں بہت کم لوگوں نے توقع کی ہوگی۔
بنگلہ دیش نے نہ صرف دو میچوں کی سیریز میں 1-0 کی برتری حاصل کرلی ہے بلکہ اس فتح کے ذریعے عالمی ٹیسٹ کرکٹ کو ایک واضح پیغام بھی دیا ہے کہ وہ بڑی ٹیموں کو ان کے اپنے میدانوں میں چیلنج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
Next Post
