یو اے ای نے ایران سے تجارت اور مالی لین دین روک دیا

0

نیوز ڈیسک
دبئی: متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے ایرانی سرزمین سے بیلسٹک میزائل داغے جانے کی اطلاعات کے بعد ایران کے ساتھ تجارتی سرگرمیاں، تجارتی تبادلے اور مالیاتی لین دین اگلے نوٹس تک معطل کرنے کا اعلان کردیا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔
متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ کے مطابق یہ فیصلہ علاقائی کشیدگی کے جواب میں کیا گیا ہے، جسے ابوظہبی نے علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔
یہ اقدام یو اے ای کی وزارت دفاع کے اس بیان کے بعد سامنے آیا جس میں کہا گیا تھا کہ منگل کو ایران سے داغے گئے دو بیلسٹک میزائلوں کا سراغ لگایا گیا۔ وزارت دفاع کے مطابق ابتدائی اندازے میں میزائلوں کا ہدف سمندری ٹریفک تھا، تاہم دونوں میزائل کسی نقصان کے بغیر سمندر میں جا گرے۔
یہ واقعہ 4 مئی کو فجیرہ بندرگاہ پر ہونے والے حملے کے بعد اپنی نوعیت کا پہلا مبینہ میزائل لانچ قرار دیا جا رہا ہے، جس کے بعد خلیج میں تجارتی جہاز رانی کی سلامتی سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔
ایران نے یو اے ای کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے متحدہ عرب امارات کے بیان کو ’’بے بنیاد‘‘ قرار دیا اور علاقائی ممالک پر زور دیا کہ وہ تہران کے خلاف ایسے الزامات عائد کرنے سے گریز کریں۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ خطے میں ہونے والی حالیہ پیش رفت کو اس پس منظر میں بھی دیکھا جانا چاہیے جسے ایران امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے جاری اقدامات قرار دیتا ہے، جن کے بارے میں تہران کا مؤقف ہے کہ وہ علاقائی استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔
تازہ کشیدگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کے لیے مقررہ 60 روزہ مدت پیر کو کسی پیش رفت کے بغیر ختم ہوگئی۔ مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے باعث مزید تنازع اور اس کے سمندری تجارت پر ممکنہ اثرات کے خدشات بڑھ گئے ہیں، خاص طور پر آبنائے ہرمز کے اطراف، جو عالمی تجارت کے لیے ایک اہم بحری گزرگاہ ہے۔
یو اے ای کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ اس کی افواج ملک کی سلامتی کو درپیش کسی بھی خطرے کا جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
میزائل الرٹس کے بعد متحدہ عرب امارات کی وزارت داخلہ نے شہریوں اور رہائشیوں کو احتیاطی انتباہ بھی جاری کیا، تاہم بعد میں اعلان کیا گیا کہ صورتحال محفوظ ہے اور لوگوں کو معمول کی سرگرمیاں بحال کرنے کا مشورہ دیا گیا۔
ابوظہبی اور تہران کے تعلقات کو آبنائے ہرمز میں جہاز رانی سے متعلق حالیہ واقعات کے باعث مزید دباؤ کا سامنا ہے۔ متحدہ عرب امارات اس سے قبل ایران پر الزام عائد کرچکا ہے کہ اس نے سرکاری ملکیت والی کمپنی ADNOC کے زیر انتظام جہازوں کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ اسٹریٹجک آبی گزرگاہ سے گزر رہے تھے۔
ایران نے ان واقعات کی ذمہ داری قبول نہیں کی، تاہم اس کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) ماضی میں تہران کے مخالفین سے منسلک جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرتے وقت ممکنہ کارروائی سے خبردار کرچکی ہے۔
یو اے ای کا تازہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب علاقائی کشیدگی پہلے ہی تجارتی جہاز رانی کو متاثر کر رہی ہے۔ ایران کے ساتھ تجارتی اور مالیاتی روابط کی معطلی سے دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات پر مزید اثر پڑنے اور خطے میں وسیع تر معاشی نقصانات کے خدشات بڑھ سکتے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.