فرانس کے اسکولوں میں بڑھتی بے چینی، نوجوان سڑکوں پر کیوں نکل آئے؟

0

نیوز ڈیسک

پیرس: فرانس میں تعلیم کے شعبے کو درپیش مسائل اب صرف کلاس رومز تک محدود نہیں رہے۔ تعلیمی بجٹ میں مجوزہ کٹوتیوں، اسکولوں کی خستہ حالی، اساتذہ کی کمی اور نوجوانوں کے مستقبل سے متعلق بڑھتی ہوئی بے یقینی نے طلبہ میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے، جو اب ملک کے مختلف شہروں کی سڑکوں پر احتجاج کی صورت میں دکھائی دے رہی ہے۔

پیرس سمیت فرانس کے کئی شہروں میں ہزاروں طلبہ نے کلاسز کا بائیکاٹ کیا، اسکولوں کے داخلی راستوں پر دھرنے دیے اور رکاوٹیں کھڑی کیں۔ احتجاج کے باعث سیکڑوں ہائی اسکولوں میں تدریسی سرگرمیاں متاثر ہوئیں، جبکہ بعض اداروں کو عارضی طور پر بند بھی کرنا پڑا۔

طلبہ کا کہنا ہے کہ وہ محض بجٹ میں اضافے کا مطالبہ نہیں کر رہے بلکہ ایسے تعلیمی نظام کی خواہش رکھتے ہیں جہاں انہیں مناسب ماحول، وسائل اور مستقبل کے بہتر مواقع میسر ہوں۔

کلاس روم سے سڑک تک پہنچتا غصہ

شمال مشرقی پیرس میں احتجاج کرنے والے طلبہ میں 17 سالہ صوفیہ بھی شامل ہیں، جو لیسی وولٹیئر کی طالبہ ہیں۔ انہوں نے دی گارڈین سے گفتگو میں کہا کہ موجودہ حالات میں احتجاج نوجوانوں کے لیے اپنی آواز حکام تک پہنچانے کے چند مؤثر ذرائع میں سے ایک ہے۔

صوفیہ کے مطابق طلبہ سے ایسے ماحول میں تعلیم جاری رکھنے کی توقع کی جا رہی ہے جہاں کئی اسکول بنیادی سہولیات اور مناسب تعلیمی وسائل سے محروم ہیں۔ ان کے نزدیک سڑکوں پر نکلنا حکومت کو یہ احساس دلانے کا ایک طریقہ ہے کہ نوجوانوں کے مسائل کو مزید نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

وہ فنونِ لطیفہ کی تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہیں اور مستقبل میں اینیمیشن کے شعبے سے وابستہ ہونے کی خواہش رکھتی ہیں۔ تاہم، ان کا کہنا ہے کہ ان کی نسل کو اپنے مستقبل کے حوالے سے بڑھتی ہوئی غیر یقینی کا سامنا ہے۔

تعلیمی بجٹ میں کٹوتی، طلبہ کا بڑا اعتراض

مظاہرین کا بنیادی مطالبہ تعلیمی بجٹ میں مجوزہ کٹوتیوں کو واپس لینا ہے۔ اس کے ساتھ وہ طلبہ کے لیے مالی معاونت بڑھانے اور نوجوانوں کو متاثر کرنے والی روزگار کی پالیسیوں میں تبدیلی بھی چاہتے ہیں۔

طلبہ کے مطابق کئی برسوں سے تعلیم میں ناکافی سرمایہ کاری کے نتیجے میں اسکولوں کو گنجائش سے زیادہ طلبہ، اساتذہ کی کمی اور خستہ حال عمارتوں جیسے مسائل کا سامنا ہے۔

کچھ کلاس رومز میں طلبہ کی تعداد 40 تک پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جبکہ اساتذہ کم تنخواہوں اور عملے کی کمی کی شکایات کر رہے ہیں۔ اس صورتحال نے نہ صرف طلبہ بلکہ تدریسی عملے پر بھی اضافی دباؤ ڈال دیا ہے۔

گرمی، پانی کا رساؤ اور خستہ عمارتیں

طلبہ کی شکایات صرف کلاس رومز میں زیادہ تعداد یا اساتذہ کی کمی تک محدود نہیں۔

کئی طلبہ نے اسکولوں کی عمارتوں کی خراب حالت کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا کہ بعض مقامات پر چھتوں کے حصے گرنے، پانی رسنے اور صفائی کے مسائل کا سامنا ہے۔ کچھ کلاس رومز میں کاکروچ کی موجودگی کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔

موسم گرما بھی طلبہ کے لیے ایک الگ چیلنج بن چکا ہے۔ ان کے مطابق مئی اور جون میں بعض کلاس رومز اس قدر گرم ہو جاتے ہیں کہ توجہ مرکوز کرنا اور معمول کے مطابق پڑھائی جاری رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔

طویل اسکول اوقات اور اساتذہ کی ناکافی تعداد بھی طلبہ کی فہرستِ شکایات میں شامل ہے۔

یونیورسٹی داخلہ نظام بھی سوالات کی زد میں

ہائی اسکول کے مسائل کے ساتھ طلبہ نے فرانس کے اعلیٰ تعلیمی نظام پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔

ان میں بعض کا کہنا ہے کہ یونیورسٹیوں میں داخلے کا نظام پیچیدہ ہے اور طلبہ کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہوتا ہے کہ مختلف مراحل اور تقاضوں سے کیسے نمٹا جائے۔ ان کے نزدیک یہ صورتحال پہلے ہی غیر یقینی کا شکار نوجوانوں کے لیے مزید دباؤ پیدا کرتی ہے۔

دفاعی اخراجات بمقابلہ تعلیم

طلبہ کے غصے کی ایک بڑی وجہ حکومت کی ترجیحات بھی ہیں۔

صوفیہ اور دیگر مظاہرین اس بات پر سوال اٹھا رہے ہیں کہ ایک طرف دفاعی اخراجات میں اضافہ کیا جا رہا ہے جبکہ دوسری طرف تعلیم جیسے شعبے میں کٹوتیوں کی بات ہو رہی ہے۔

ان کے نزدیک نوجوانوں کو اپنے مستقبل کے لیے زیادہ سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تعلیم کو صرف حکومتی اخراجات کی فہرست میں ایک ایسی مد کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے جہاں ضرورت پڑنے پر کٹوتی کی جا سکے۔

اساتذہ بھی طلبہ کے ساتھ

احتجاج کی ایک نمایاں بات بعض اساتذہ کی طلبہ کے ساتھ شمولیت ہے۔ کئی مقامات پر اساتذہ کو احتجاج کرنے والے نوجوانوں کے ساتھ کھڑے دیکھا گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تعلیمی نظام کے مسائل صرف طلبہ کی شکایات تک محدود نہیں۔

جمعہ تک فرانس بھر میں سیکڑوں ہائی اسکولوں میں سرگرمیاں متاثر ہوئیں یا داخلی راستے رکاوٹوں کے باعث بند رہے، جبکہ احتجاج کے دوران سینکڑوں نوجوانوں کی گرفتاریوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

کیا طلبہ کا احتجاج بڑی تحریک بن سکتا ہے؟

فرانس میں طلبہ کی یہ بے چینی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک پہلے ہی سیاسی اور معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ تعلیم، روزگار، عوامی اخراجات اور حکومتی ترجیحات سے متعلق بڑھتی ہوئی ناراضی نے نوجوانوں میں یہ احساس پیدا کیا ہے کہ ان کے مسائل کو مطلوبہ اہمیت نہیں دی جا رہی۔

یہی وجہ ہے کہ موجودہ احتجاج کے بارے میں یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ آیا یہ مظاہرے محض تعلیمی پالیسیوں کے خلاف ایک عارضی ردعمل رہیں گے یا ایک وسیع تر عوامی تحریک کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔

صوفیہ جیسے نوجوانوں کے لیے تاہم مسئلہ اس وقت زیادہ بنیادی ہے: حکومت ان کی بات سنے۔

ان کا مطالبہ صرف بہتر کلاس رومز، زیادہ اساتذہ یا اضافی وسائل تک محدود نہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کی نسل کو فرانس کے مستقبل کا محض حصہ سمجھنے کے بجائے اس مستقبل میں ایک اہم سرمایہ کاری کے طور پر دیکھا جائے۔

فرانس کے موجودہ احتجاج نے ایک بار پھر یہ سوال نمایاں کر دیا ہے کہ جب نوجوان اپنے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی کا شکار ہوں تو تعلیم میں سرمایہ کاری کو ترجیح دینا حکومت کے لیے کتنا ضروری ہو جاتا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.