نیوز ڈیسک
جاپان : ایک ہی دن بھارت نے پاکستان کے خلاف ٹی ٹوئنٹی میں فتح کا جشن بھی منایا اور ون ڈے میں ایک ایسی شکست کا سامنا بھی کیا جس نے اس کی بظاہر یقینی سیریز فتح کو نامکمل چھوڑ دیا۔
جاپان میں ایشین گیمز کے فائنل میں بھارت نے پاکستان کو 19 رنز سے شکست دے کر مسلسل دوسری مرتبہ ٹی ٹوئنٹی گولڈ میڈل اپنے نام کیا، لیکن چند گھنٹے بعد نیو چنڈی گڑھ میں ویسٹ انڈیز نے بھارتی ٹیم کو اسی طرح جشن منانے کا موقع نہیں دیا۔
ویسٹ انڈیز کے کپتان شائی ہوپ نے 143 گیندوں پر ناقابلِ شکست 162 رنز کی ایسی شاندار اننگز کھیلی جس نے 352 رنز کے مشکل ہدف کو حقیقت بنا دیا۔ ان کی اننگز میں 17 چوکے اور تین چھکے شامل تھے، جبکہ ویسٹ انڈیز نے 10 گیندیں قبل پانچ وکٹوں سے کامیابی حاصل کر کے تین میچوں کی ون ڈے سیریز میں بھارت کو کلین سویپ سے روک دیا۔
بھارت نے اس سے قبل ترواننت پورم اور گوہاٹی میں کامیابیاں حاصل کی تھیں، اور سیریز میں 3-0 کی فتح قریب دکھائی دے رہی تھی۔ مگر ہوپ نے آخری لمحوں میں کہانی کا رخ بدل دیا۔
ایک طرف پاکستان کے خلاف فتح، دوسری طرف بڑا دھچکا
بھارت کے لیے دن کا آغاز کامیابی سے ہوا تھا۔
ایشین گیمز کے فائنل میں بیٹنگ کی دعوت ملنے کے بعد بھارتی ٹیم نے 20 اوورز میں چھ وکٹوں کے نقصان پر 211 رنز بنائے۔ ابھیشیک شرما نے صرف 28 گیندوں پر 61 رنز کی جارحانہ اننگز کھیل کر ٹیم کو تیز آغاز فراہم کیا، جبکہ تلک ورما نے 22 گیندوں پر ناقابلِ شکست 51 رنز بنائے۔ شیوم دوبے نے بھی 15 گیندوں پر 27 رنز کا اضافہ کیا۔
پاکستانی ٹیم ہدف کے تعاقب میں ابتدا ہی میں دباؤ کا شکار ہوگئی اور 39 رنز پر تین وکٹیں گنوا بیٹھی۔ تاہم حسن نواز نے 51 گیندوں پر 96 رنز کی دھواں دار اننگز کھیل کر مقابلے کو دلچسپ بنا دیا۔
اس کے باوجود پاکستان 20 اوورز میں چھ وکٹوں پر 192 رنز تک ہی پہنچ سکا اور بھارت نے 19 رنز سے کامیابی حاصل کرلی۔
یہ پاکستان کے خلاف ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنلز میں بھارت کی مسلسل ساتویں فتح اور 18 مقابلوں میں 14ویں کامیابی تھی۔ اس فتح کے ساتھ بھارت نے ایشین گیمز میں اپنے ٹی ٹوئنٹی گولڈ میڈل کا بھی دفاع کر لیا۔
لیکن اسی دن کی دوسری بڑی خبر نے اس جشن کی چمک کچھ مدھم کر دی۔
جب 351 رنز بھی کافی ثابت نہ ہوئے
نیو چنڈی گڑھ میں بھارت نے سات وکٹوں پر 351 رنز بنائے تو ایسا محسوس ہوا کہ ویسٹ انڈیز کے لیے ہدف کا تعاقب انتہائی مشکل ہوگا۔
بھارتی اننگز کا آغاز بھی مثالی نہیں تھا۔ ٹیم صرف چار رنز پر دو وکٹیں گنوا چکی تھی، لیکن کے ایل راہول نے 87 گیندوں پر ناقابلِ شکست 129 رنز کی شاندار اننگز کھیل کر اننگز کو سنبھالا۔
روہت شرما نے 85 گیندوں پر 92 جبکہ رتوراج گائیکواڈ نے 69 گیندوں پر 57 رنز بنائے اور بھارت کو ایک بڑے مجموعے تک پہنچا دیا۔
مگر ویسٹ انڈیز نے اس ہدف کو محض ایک عدد کے طور پر نہیں دیکھا۔
ہدف کے تعاقب میں ٹیم نے بھارتی بولنگ پر دباؤ برقرار رکھا اور اس کوشش کے مرکز میں شائی ہوپ موجود تھے۔
ہوپ کا کمال، 162 رنز اور ناقابلِ شکست اختتام
ہوپ پہلے ہی سیریز کے گزشتہ میچ میں سنچری بنا چکے تھے، لیکن نیو چنڈی گڑھ میں ان کی کارکردگی اس سے بھی آگے نکل گئی۔
انہوں نے پہلے عامر جانگو کے ساتھ 109 رنز کی اہم شراکت قائم کی۔ جانگو نے 67 رنز بنائے۔ اس کے بعد ہوپ نے کیمو پال اور گوڈاکیش موٹی کے ساتھ بھی نصف سنچری کی شراکت داریاں قائم کرتے ہوئے ویسٹ انڈیز کو ہدف کے قریب پہنچا دیا۔
اختتامی لمحات میں جب ویسٹ انڈیز کو جیت کے لیے چند رنز درکار تھے، ہوپ نے نمن دھیر کی گیند پر ڈیپ فائن لیگ کی جانب سلاگ سویپ کھیل کر چھکا لگایا اور اسکور برابر کر دیا۔
اگلی گیند پر انہوں نے لانگ آف کی جانب ایک رن لیا اور میچ ختم کر دیا۔
ویسٹ انڈیز پانچ وکٹوں سے فاتح تھا۔
اور بھارت کا کلین سویپ کا خواب ختم ہو چکا تھا۔
صرف بلے سے نہیں، وکٹ کے پیچھے بھی ذمہ داری
ہوپ کی اننگز کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ وہ صرف بیٹنگ میں ہی ٹیم کے لیے مرکزی کردار ادا نہیں کر رہے تھے۔
انہوں نے ویسٹ انڈیز کی جانب سے بیٹنگ سے قبل پورے 50 اوورز وکٹ کیپنگ کی، پھر اننگز کا آغاز کیا اور آخر تک کریز پر موجود رہ کر ٹیم کو کامیابی دلائی۔
ایک کپتان، وکٹ کیپر اور اوپننگ بیٹر کی حیثیت سے یہ ایک غیر معمولی آل راؤنڈ ذمہ داری تھی، جسے انہوں نے شاندار انداز میں نبھایا۔
یہ ویسٹ انڈیز کی ون ڈے کرکٹ میں ہدف کے تعاقب کی سب سے بڑی کامیابی بھی بن گئی۔
تنازع بھی، سنسنی بھی
میچ مکمل طور پر ڈرامے سے خالی نہیں تھا۔
ویسٹ انڈیز کے شیرفین ردرفورڈ کو نمن دھیر کی گیند پر وکٹ کے پیچھے کیچ آؤٹ قرار دیا گیا۔ ریویو کے بعد بھی فیصلہ برقرار رہا، تاہم ردرفورڈ کا موقف تھا کہ سنکو پر نظر آنے والا اسپائیک گیند کے بلے سے ٹکرانے کے بجائے پیڈ سے رابطے کا نتیجہ تھا۔
اس مرحلے پر ویسٹ انڈیز 30 اوورز کے بعد تین وکٹوں پر 206 رنز بنا چکا تھا۔ دباؤ کے باوجود ہوپ نے رنز بنانے کی رفتار کو برقرار رکھا اور بھارتی ٹیم کو دوبارہ مقابلے میں آنے کا موقع نہیں دیا۔
دوسری جانب بھارت کی بیٹنگ میں ابتدائی جھٹکوں نے بھی میچ کی سمت تبدیل کرنے میں کردار ادا کیا۔
تیسرے اوور میں جےڈن سیلز نے مسلسل گیندوں پر شبمن گل اور ویرات کوہلی کو آؤٹ کر دیا۔ گل، جنہوں نے دوسرے ون ڈے میں 406 رنز کے ہدف کے کامیاب تعاقب کے دوران ناقابلِ شکست 223 رنز بنائے تھے، اس مرتبہ ہوپ کے ایک ہاتھ سے کیے گئے شاندار کیچ کا شکار ہوئے۔
اگلی ہی گیند پر کوہلی کا مڈل اسٹمپ اڑ گیا اور وہ گولڈن ڈک پر پویلین لوٹ گئے۔
اب توجہ ٹی ٹوئنٹی پر
ون ڈے سیریز کے اختتام کے بعد دونوں ٹیمیں اب مختصر ترین فارمیٹ کی جانب بڑھ رہی ہیں۔ بھارت اور ویسٹ انڈیز کے درمیان پانچ میچوں کی ٹی ٹوئنٹی سیریز کا آغاز منگل کو لکھنؤ میں ہوگا۔
بھارت کی ایشین گیمز میں گولڈ میڈل جیتنے والی ٹیم کے کئی کھلاڑی، جن میں ابھیشیک شرما، تلک ورما اور شریاس آئیر شامل ہیں، ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ کا حصہ ہوں گے۔ بھارت کے لیے سفر کرنے والے کھلاڑیوں میں 15 سالہ ویبھاﺅ سوریہ ونشی بھی شامل ہیں۔
بھارت کے لیے یہ دن کرکٹ کی غیر متوقع فطرت کی ایک واضح مثال بن گیا۔ ایک ہی روز ٹیم نے پاکستان کو شکست دے کر گولڈ میڈل جیتا، لیکن اسی دوران ایک اور فارمیٹ میں ایک بڑا ہدف بنانے کے باوجود سیریز کلین سویپ کرنے کا موقع گنوا دیا۔
ویسٹ انڈیز کے لیے البتہ اس دن کی پوری کہانی ایک ہی نام کے گرد گھومتی ہے۔
شائی ہوپ۔
ان کی ناقابلِ شکست 162 رنز کی اننگز نے نہ صرف 352 رنز کا مشکل ہدف ممکن بنایا بلکہ ایک ایسی ون ڈے سیریز کو بھی کلین سویپ سے بچا لیا جس میں بھارت آخری میچ تک واضح برتری رکھتا تھا۔
