پمز آتشزدگی: 4 سال بعد پیدا ہونے والا نومولود بھی جاں بحق، والد کا دلخراش بیان

0

پمز اسپتال میں آتشزدگی کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے نومولود بچے کے والد ادریس خان نے دلخراش واقعے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے اسپتال انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے۔ادریس خان نے بتایا کہ ان کے بیٹے کی پیدائش گزشتہ روز فجر کے وقت ہوئی تھی۔ انہوں نے اپنے نومولود بیٹے کے کان میں اذان دی اور اس کا نام بھی رکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بچہ چار سال بعد پیدا ہوا تھا اور بیٹا ہونے کی وجہ سے پورا خاندان بے حد خوش تھا۔غمزدہ والد نے بتایا کہ ڈاکٹر نے انہیں کہا تھا کہ بچے کو نرسری میں رکھنے کی ضرورت نہیں، تاہم اسپتال کے عملے نے کہا کہ بچے کو مزید دو سے ڈھائی گھنٹے نرسری میں رکھنا ضروری ہے۔ادریس خان کے مطابق جب وہ بچے کو لینے نرسری پہنچے تو گیٹ پر تالا لگا ہوا تھا اور اندر سے دھواں نکل رہا تھا۔ وہاں افراتفری کا ماحول تھا جبکہ نرسری کے باہر کوئی عملہ موجود نہیں تھا۔انہوں نے بتایا کہ اہل خانہ نے خود کھڑکیاں توڑیں اور نرسری کا تالا کھولنے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیم بھی فوری طور پر موقع پر نہیں پہنچی اور آدھے گھنٹے سے زائد تاخیر ہوئی۔ اس دوران کئی بچے آگ اور دھویں سے متاثر ہوچکے تھے۔ادریس خان نے مزید بتایا کہ اسپتال میں آگ سے بچاؤ کے مناسب انتظامات موجود نہیں تھے۔ ان کے مطابق نہ فائر الارم تھا اور نہ ہی دیگر حفاظتی انتظامات مؤثر نظر آئے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے خود شیشے توڑ کر اندر داخل ہوکر تالے کھولے اور 3 سے 4 بچوں کو اپنی مدد آپ کے تحت باہر نکالا۔غمزدہ والد نے کہا، ’’میرے ہاں چار سال بعد اولاد ہوئی تھی، اب کون اس کا ہرجانہ بھرے گا۔‘‘واضح رہے کہ پمز اسپتال میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی گئی ہے

Leave A Reply

Your email address will not be published.