پینٹاگون کو ہتھیاروں کی قلت کا سامنا، نگران ادارے کی رپورٹ 

0

نیوز ڈیسک

واشنگٹن: پینٹاگون کے ایک نگران ادارے نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران امریکہ کو ہتھیاروں اور گولہ بارود کی بڑھتی ہوئی قلت کا سامنا ہے۔

امریکی محکمہ دفاع کے انسپکٹر جنرل نے تنازعے کے مالی اور عسکری اخراجات سے متعلق اپنا پہلا تفصیلی جائزہ جاری کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ تنازع فروری سے جاری ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون کے اختتام تک جنگ پر امریکی اخراجات 33.4 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے تھے۔ اس دوران 22.3 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے ہتھیار اور بم استعمال کیے گئے، جبکہ تقریباً 3.7 ارب ڈالر مالیت کا فوجی سازوسامان اور طیارے تباہ یا ضائع ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق، لڑائی کے دوران 50 سے زائد امریکی طیارے اور ڈرونز تباہ یا شدید متاثر ہوئے۔ ان نقصانات میں مبینہ طور پر چار F-15E لڑاکا طیارے، ایک F-35A، ایک A-10 Warthog، 12 KC-135 فضائی ایندھن بھرنے والے طیارے اور کم از کم 30 MQ-9 Reaper ڈرونز شامل ہیں۔

مسلسل فوجی کارروائیوں نے امریکی فوجی ذخائر پر بھی نمایاں دباؤ ڈالا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پینٹاگون کو گولہ بارود کی قلت کے ساتھ ساتھ سپلائی چین میں رکاوٹوں کا سامنا ہے، جس سے امریکی فوج کی رسد اور جنگی تیاریوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔

رپورٹ میں سامنے آنے والے اعداد و شمار صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ان دعوؤں سے مختلف تصویر پیش کرتے ہیں جن میں وہ متعدد مواقع پر کہہ چکے ہیں کہ امریکہ اپنی تاریخ کے جدید ترین ہتھیار تیار کر رہا ہے اور انہیں روزانہ کی بنیاد پر مشرق وسطیٰ سمیت دیگر خطوں میں تعینات امریکی افواج تک پہنچایا جا رہا ہے۔

نگران ادارے کی رپورٹ نے تنازع کے جاری رہنے کی صورت میں امریکی فوج کو درپیش بڑھتے ہوئے مالی، عسکری اور لاجسٹک دباؤ کو نمایاں کیا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.